.

عراق و شام میں افراتفری

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب شامی انقلاب کیلیے شروعات ہوئیں تو بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ سلسلہ ایک سال سے زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکے گا۔ اسے دبا دیا جائے گا یا شامی رجیم ابتدائی مرحلے میں ہی اسے ختم کر دے گی۔ بصورت دیگر یہ پھیل جائے گا اور شامی رجیم کو صاف کر دے گا۔

انقلاب کے لیے شروع ہونے والی کوشش بڑی سادہ سی تھی۔ درعا میں چند بچوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان زیر حراست لیے گئے بچوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں 26 فروری 2011 کو شامی رجیم کے خلاف چند نعرے لکھے تھے۔ لیکن جیسے ہی احتجاج ابھرا حمص سے حماہ تک انقلاب کی تحریک شروع ہو گئی۔ بشارالاسد نے عملی طور پر ملک کو یرغمال بنا کر ہر کسی کو اپنے لیے اس جنگ میں شامل کر لیا۔

عراق میں جاری بحران کی جڑیں

عراق کے حالیہ بحران کا آغاز رمادی سے ہوا اور جلد ہی یہ معاملہ موصل تک پھیل گیا۔ اگرچہ یہ ابھی تک ابتداء میں ہے۔ اس بحران کے فریق محدود ہیں اور ان کے مطالبات بڑے واضح ہیں۔ ان میں سنی قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ احتجاج کناں ہیں۔ ان کے احتجاج کو داعش نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر یہ احتجاج اور تصادم زیادہ مہینوں کے لیے جاری رہتا ہے تو اس صورت میں نہ صرف پیچیدگی بڑھے گی اور غیر ملکی فریق بھی ملوث ہو جائیں گے۔

ایسے حالات میں کہنا مشکل ہو گا کہ آئندہ کا منظر نامہ کیا ہو گا اور اس جاری بحران کا انجام کیا ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عراق کے بڑے کھلاڑی تصادم کو روکنے میں آج ناکام ہو گئے ہیں۔ جبکہ آنے والے کل مزید مشکلات لیے ہوئے ہو گا۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی ضرورت ہے کہ بحران طول پکڑے تاکہ اس کے اقتدار کا دورانیہ بڑھ جائے۔ اس حوالے سے وہ پوری طرح بشار الاسد کے طریقہ واردات کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔

داعش جب دولت عراق و شام کی بات کرتی ہے تو وہ مستقبل کا اندازہ کرنے میں ناکام نہیں ہے۔ دونوں ملک ایک ہی طرح کے بحران سے دوچار ہیں۔ جیسا کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں بھی انتہا پسندوں کے حملوں سے شکستگی کا شکار ہیں اور ان کی سرکاری افواج اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ شام اور عراق پوری ایک صدی کے دوران پہلی مرتبہ افراتفری اور انتشار کی مشترکہ سر زمین بن چکے ہیں۔ دائیں بازو والوں کی انجمن اور دوسرے انتہا پسند اور شام سے پلٹنے والے شیعہ عسکریت پسند اپنے علاقوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو رہے ہیں۔ یوں وہ بشار رجیم کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر واپس عراق آ رہے ہیں۔ داعش کے عسکریت پسند، سنی انتہا پسند اپنے شام سے عراق میں کھلی سرحدوں کے راستے داخل ہو رہے ہیں تاکہ اپنے ساتھیوں کی مدد کر سکیں۔

عراق مفلوج ہے

عراق اور شام میں افرتفری وسعت پکڑ رہی ہے۔ یہ افراتفری عالمی اور علاقائی اقوام کو بھی مداخلت پر مجبور کر رہی ہے۔ عراقی افواج صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی نااہلیت ثابت کر چکی ہیں۔ یہ بھی نظر نہیں آرہا کہ نئی پارلیمنٹ اپنے سپیکر اور سپیکر کے نائبین کا بروقت انتخاب کر سکے۔ اسی طرح پارلیمنٹ اپنے دوسرے اجلاس میں وزیر اعظم کا انتخاب کر سکے۔ سچ یہ ہے کہ نوری المالکی نے اپنے اتحادیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ نوری الماکی نے ہر کسی کو دھمکایا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن جیت کر انہیں بغاوتوں کو پوری طاقت سے کچلنے کا اختیار مل چکا ہے۔

آیت اللہ سیستانی کا موقف ہے کہ نئی عراقی کابینہ کی تشکیل نہ کرنے سے خانہ جنگی طول پکڑ سکتی ہے۔ یہ بحران ایسے مرحلے پے سامنے آیا ہے جب مالکی حکومت کی مدت پوری ہو رہی ہے۔ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ شیعہ فرقہ ہے۔ شیعہ چاہیں تو ملک کو مالکی کے ہاتھوں میں نہ چھوڑ کر جاری بحران کو رکوا سکتے ہیں۔ اگرچہ نوری المالکی مزید چار سال کے لیے حکومت میں رہنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف یہ کہ احتجاج کرنے والے سنی مسلمانوں کو بلکہ فوجی انداز کے حکمران کے طور پر وہ ایسے شیعہ عوام کو بھی راستے سے ہٹا کر دم لیں گے۔ جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ طویل مدتی جدوجہد سنی اور شیعہ حلقوں کی اندرونی تحریکوں کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بالکل شام کی طرح جہاں بیک وقت ہمہ جہت قسم کے محاذ آزاد شامی فوج، النصرہ فرنٹ، داعش اور خود اسد رجیم اور اس کے اتحادیوں میں موجود ہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.