.

بات چل نکلی ہے اب

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کسی ڈرامے کا ابتدائی منظر نہیں بلکہ اس کے انجام تک جانے والے مناظر کی شروعات ہے۔ ہال کی روشنیاں جلنا شروع ہوگئیں، پردہ گرنے والا ہے اور اداکار اپنی کارکردگی پر داد یا اس کے برعکس وصول کرنے کے لئے تیار۔ ہم یہ ڈرامہ اس سے پہلے بھی دیکھ چکے ہیں. سر بلند ہیرو، اندازے کی غلطی، قسمت (یہاں مشیر) اور پھر المناک انجام۔ ہماری سیاست ایک کلاسیکی المیہ ڈرامے کے تمام لوازمات پورے کرتی ہے. طربیہ ڈرامہ میڈیا پر جاری رہتا ہے۔ بھٹو صاحب کا انجام، محمد خان جونیجو اور قومی اسمبلی کو برخاست کرنے کے بعد جب صورت ِ حال ان کے ہاتھ سے نکل رہی تھی، جنرل ضیاء کے آخری ماہ پھر مشرف عہد کا اختتام اور اب شریف حکومت کا ایک بار پھر اُسی انجام کی طرف گامزن ہونا۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اتوار کی شام حکومت کی کوئی رمق ملک میں ہویدا نہ تھی، ایسا نہیں تھا کیونکہ اشتہارات اور وزراء کے بیانات اس کی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے (خدا جانے اچھے بھلے سمجھدار لوگ وزیر ِ اطلاعات بنتے ہی مذاقیہ بنایات کیوں دینا شروع کردیتے ہیں؟ خیر کچھ باتیں انسانوں کی تفہیم کے لئے نہیں بھی ہوتیں) لیکن سوموار کی صبح تک حکومت کی اتھارٹی. جولائی کا سورج اور شبنم کے چند قطرے، بس اس سے زیادہ ثبات تھا نہ وجود تھا۔ ہر طرف عوامی تحریک کے کارکن تھے جو ہزاروں کی تعداد میں مختلف سمتوں سے نمودار ہوتے ہوئے سیکورٹی بیرئیرز کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ متعدد مواقع پر اُنھوں نے پولیس کے قدم اکھاڑ دیئے۔ تھوڑی دیر کے لئے قواعد و ضوابط کو ایک طرف رکھ کر اس منظر کو جذباتی ترازو پر تولیں. جب نواز شریف 2007ء میں مشرف کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لئے اسلام آباد آرہے تھے تو اس کی پارٹی کا کوئی کارکن بھی ائیرپورٹ پر نہ تھا اور میں اس بات کا بچشم ِخود گواہ ہوں۔ تاہم پی ٹی اے کے کارکنوں کا خمیر ایسا نہیں۔ ان میں کچھ تو ہے جو اُنہیں دیگر جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے حکمران طبقے کی صفوں میں بھاری اکثریت کے باوجود سراسیمگی چھائی ہوئی ہے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر والہانہ جذبے کا مظاہرہ کرنے سے پہلے وہ منہاج سیکریٹریٹ ماڈل ٹائون لاہور میں پولیس کے تشدد کے سامنے ثابت قدمی سے کھڑا رہنے کا مظاہرہ کرچکے تھے۔

یہ صورتِ حال پاکستان سیاست میں ایک نیا باب ہے۔ نام نہاد بڑی پارٹیوں کے پاس ووٹ ہیں (یا تھے؟) لیکن منظم صف بندی اور پر عزم کارکن ان کے پاس نہیں۔ جب ڈاکٹر طاہر القادری کا طیارہ لاہور کی طرف موڑا گیا تو ان کے پیروکاروں نے لاہور میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ اس سے نظر آتا ہے کہ ان میں تنظیم سازی بھی ہے اور طاقت بھی۔ ضیاء کے دور میں پی پی پی کے لئے ہجوم اکٹھا کرنا مشکل تھا۔ مشرف دور میں پی ایم ایل (ن) لاہور کی مال پر بھی چند سو کارکن نہیں لا سکتی تھی۔ دراصل پاکستانی سیاست کے مخصوصی ڈھانچے میں روایتی خاندان بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر پارلیمانی نشستیں حاصل کر لیتے ہیں اور اسی کو عوامی مقبولیت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر قادری اس کھیل کو تبدیل کرنے کی طرف قدم بڑھا چکے ہیں۔
ویڈیو مناظر سے یہ بات عیاں ہے کہ طاہر القادری کے پیروکاروں کاتعلق دولت مند یا وڈیرہ طبقے سے نہیں ۔ وہ سب عوامی لوگ ہیں جن کا اس سرزمین سے گہرا رشتہ ہے اور یہ ہیں وہ لوگ جنہیں اس سرزمین کے حکمران بننا چاہئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں خواتین کی بھی خاطر خواہ تعداد موجود ہے۔ ایم کیو ایم کے سوا کسی اور پارٹی کی صفوں میں اتنی پر عزم خواتین موجود نہیں۔ یہ بھی پاکستانی سیاست میں ایک خوش آئندبات ہے۔ بہت دیر سے پاکستانی سیاست پر صرف استحقاق یافتہ طبقے کی اجارہ داری رہی ہے لیکن اس وقت...’’جہان ِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم ِ پیر مر رہا ہے‘‘ کی سی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔

ان تبدیلیوں کا حکمرانوں پر کیا اثر ہوگا؟ ایک اثر تو واضح ہے کہ وہ یکے بعد دیگرے غلطیاں کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس فہرست میں ماڈل ٹائون کا سانحہ سب سے گمبھیر غلطی ہے۔ بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اب وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور اتھارٹی کو بحال کر پائیں۔ جس منجدھار میں وہ اپنی کشتی کو لے آئے ہیں، اس سے نکلنا آسان نہیں ہے اور اب تو اُنھوں نے اپنے چپو بھی پھینکنا شروع کر دیئے ہیں۔ سیاسی صورتِ حال کا انتہائی غلط اندازہ لگاتے ہوئے اُنھوں نے غیر ضروری سختی دکھائی جبکہ کچھ نرمی دکھاتے ہوئے وہ اپنے لئے بہت کامیابی حاصل کرسکتے تھے۔ حالات ان کے خلاف کروٹ لینا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر قادری، ان سے نظریاتی اختلاف کی گنجائش ہے، نے قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ان کے کارکنوں نے بھی اسٹریٹ پاور دکھائی۔ سیاست میں یہ دو چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دیکھتے ہوئے بہت سے سیاست دان جیسا کہ شیخ رشید، گجرات کے چوہدری صاحبان شجاعت حسین اور پرویز الہی، ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ عمران خان کے بیانات اپنی جگہ پر لیکن وہ ہمت کرتے ہوئے جرأت مند اور فعال کردار ادا کرنے سے اجتناب کررہے ہیں۔ کئی ایک مبصرین کا خیال ہے کہ ایک مرتبہ پھر خان صاحب وقت پر درست فیصلہ نہ کرنے کی تاریخ دہرا رہے ہیں لیکن پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اور عمران کسے کہتے ہیں؟

یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ان کی جماعت کے اہم رہنما متروک شدہ سیاسی اقامت کی تصویریں ہیں اور ڈاکٹر قادری جیسی احتجاجی تحریک چلانا ان کے بس میں نہیں۔
دراصل حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی فوج کے ساتھ خواہ مخواہ محاذ آرائی پر اترنا تھا۔ اس کی وجہ مشرف ٹرائل، طالبان کے ساتھ مذاکرات اور میڈیا کے معاملات تھے۔ اس جانے پہچانے دستر خوان پر ڈاکٹر قادری کچھ مختلف ذائقہ لے کر آئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں حکومت جو بھی پکوان چڑھاتی ہے، خراب ہوجاتا ہے۔ جب ہر دائو الٹا پڑ جائے تو پھر کھلاڑیوں کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ قدم پیچھے ہٹا کر سوچیں اور میدان کا غور سے جائزہ لیں لیکن یہ اُسی صورت ممکن ہے جب آپ کے ستارے آپ پر مہربان ہوں۔ فی الحال تو حکومت کی اتھارٹی ہر آن زوال پذیر ہے۔ ڈاکٹر قادری کے آنے سے تو بالکل عنقا۔ اس سے ایک خطرناک خلا واقع ہوا ہے۔ ماضی میں اس خلا میں بھاری بوٹوں کی دھمک سنائی دیتی تھی۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت کے خلاف کوئی خفیہ ایجنسی یا کوئی نادیدہ ہاتھ سازش کررہا ہے، ایسا نہیں ہے۔ ان حالات تک جس چیز نے اسے پہنچایا ہے اُسے سادہ ترین الفاظ میں نا اہلی ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قسمت کے ستارے حکمراں خاندان پر بہت مہربان رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا مزاج برہم ہوتا جارہا ہے۔

ماڈل ٹائون سانحہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس کی سنگینی کو کم کرنے کی بہت کوشش ہے لیکن یہ لہو آسانی سے دھلنے کا نہیں۔ پشاور میں فیلڈ مارشل ایوب خان ایک عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے کہ پستول کے چند فائر سنائی دیئے۔ فیلڈ مارشل فوراً میز کے نیچے دبک گئے۔ اس واقعے کے بعد وہ پہلے جیسے ایوب خان نہ رہ سکے۔ 1977ء کی بھٹو مخالف تحریک میں کئی احتجاجی مظاہرین کو گولی مار دی گئی۔ تین بریگیڈئر، جن میں مسٹر نیاز بھی شامل تھے، نے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ بھٹو چند مزید ہفتے اقتدار میں رہے لیکن افق بہرحال تبدیل ہوچکا تھا۔ جمہوریت سے تنگ آکر جنرل ضیاء نے 1988ء میں اسمبلی کو برخاست کردیا۔ اس کے بعد ان کے پر بھی کٹنے لگے۔ مشرف چیف جسٹس صاحب کو معزول کرنا چاہتے تھے(اگرچہ وہ اقدام یا مذکورہ تمام واقعات) ماڈل ٹائون جتنا سنگین نہ تھا لیکن اس نے مشرف کے زوال کا راستہ ہموار کردیا۔ رانا ثنا ﷲ اور توقیر شاہ کے استعفوں سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہو گا۔ بھٹو صاحب نے بھی 1977ء کے واقعات کی کچھ تلافی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بے سود۔ دراصل شریف برادران جنھوں نے سیاسی تربیت اسٹیبلشمنٹ سے حاصل کی تھی، کو یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ سیاست میں دوسری بار آنا مشکل ہوتا ہے، جانا نہیں۔ اگر قسمت نے ان کی سن لی ہے تو اُنہیں معقولیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ یہ موسم گرما پاکستانی سیاست کے لئے زیادہ ہی گرم ثابت ہورہا ہے اور لگتا ہے کہ آموں کے علاوہ بھی بہت کچھ پک چکا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.