.

داعش کو کس قدر حمایت حاصل ہے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے جنوبی شہر معان میں گذشتہ جمعہ کی نماز کے بعد 20 سے 30 افراد کتبوں اور بینرز کے ساتھ گلیوں میں نکل آئے۔ ان بینرز پر عسکریت پسند تنظیم 'داعش تجھے سلام ' کے الفاظ تحریر تھے۔

یہ کتبہ بردار لوگ اعلان کر رہے تھے کہ ان کا شہر اسلامی ریاست کی تشکیل کا حامی ہے۔ تاہم یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اتنی تھوڑی تعداد میں لوگوں کا حمایت کا اعلان اس امر کا مظہر تھا کہ عسکریت پسندوں کے لیے حمایت انتہائی محدود ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے بڑے سیاسی مواقع پر زیادہ حمایت کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ لیکن ممکن ہے صورت حال اس سے زیادہ گمبھیر ہو جیسی کہ نظر آ رہی ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کے ہمدرد خود کو نگرانی کے خوف سے منظر پر لانے سے احتراز برتیں گے۔ بلاشبہ حکومت کی طرف سے تعاقب کا خوف نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حتی کہ سیاسی انتہا پسندی کے شکار لوگ بھی اس پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اردن کی ایک جہادی تحریک کے رہنما ابو سیاف نے بھی اس احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح جہادی تحریک کے بعض نوجوان ارکان نے بھی کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ داعش نہ تو ان کی تحریک کے لیے کام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی نمائندہ ہے۔

اگر معان میں سامنے آنے والا مظاہرہ اسی قدر معمولی انتباہ ہے تو ٹویٹر پر داعش کے ان ہمدردوں کی حمایت کے لیے ہجوم عاشقاں کا منظر کیوں موجود ہے؟ یہ ایک ایسی حقیقت جو ہم اب دیکھ رہے ہیں القاعدہ کے حملوں کے بعد بھی نظر نہیں آئی تھی۔ اس کے پیچھے موجود عرب میڈیا اسے ایسے مارکیٹ کر رہا تھا کہ القاعدہ ایک گروپ ہے جو اسلام کی حمایت کرتا ہے اور ایذا رسانی کا دفاع کرتا ہے۔ جب القاعدہ کے بہت سے لیڈر گرفتار ہو گئے یا مارے گئے، خصوصا اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد انہیں سمجھ آ گئی کہ تنظیم کا تصور اسامہ بن لادن کے ساتھ ہی سمندر میں غرقاب ہو چکا ہے، اس لیے مسلمانوں کو ایک نئے باب کا آغاز کرنا ہو گا۔

امیدوں کا بکھر جانا

لیکن اب اس نئی حقیقت نے ان امیدوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے شہ دماغوں کو شامی تجربے کے بعد نظر ثانی پر مجبور ہونا پڑا۔ شامی خانہ جنگی کی شہرت اس طرح ہوئی ہے کہ عسکریت پسند گروپ کو تنہا کر دیا گیا ہے کہ اس نے اسد رجیم کو لاکھوں لوگوں کے خلاف جرائم کی کھلی چھٹی دیے رکھی اور لوگوں کے دفاع کے لیے کچھ نہ کیا۔ عراق بھی اس ناطے اسی راستے پر ہے۔ عراق کے جن علاقوں میں لوگ لڑ رہے ہیں یہی بات کہی جا رہی ہے۔ وہ ابھی داعش کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں اور انہوں نے فی الحال اس کا بھیانک چہرہ نہیں دیکھا ہے۔

داعش کس قدر مقبول ہے، جو القاعدہ سے بھی زیادہ بے رحم ہے۔ میری دانست میں ابھی تک کسی نے داعش کے حوالے سے سچ کو نہیں پایا۔ مجھے یہ بھی خوف ہے کہ داعش نے نوجوانوں کے قلب وذہن کو فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے ایک خاص ڈھب پر لاتے ہوئے شام کی جنگ میں ایذا رسانی کا ارتکاب کیا ہے۔ جب سعودی عرب سے خواتین یمن کی طرف اپنے بچوں کے ہمراہ فرار کی کوشش کرتی ہیں تاکہ شام جا سکیں اور جہادیوں کے ساتھ شامل ہو سکیں۔ تو اس سے داعش کی عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ داعش ایسے ایجنٹ رکھتی ہے جو اس کے لیے بھرتیاں کرتے ہیں۔ جب مغربی ممالک سے عسکریت پسند شام میں لرنے کے لیے آتے ہیں تو یہ داعش کی کامیابی کی عملی دلیل ہوتی ہے۔

عراق میں داعش کی 'تشہیر' سے تنظیم کی کامیابیوں کا سلسلہ بھی بڑھے گا اور دونوں طرف کی فرقہ وارانہ جنگ مزید جنگجووں کو متحرک کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ یہ صورت حال ہمیں عالمی برادری کو ان دو جنگوں کے مضمرات پر غور کرنے کے لیے متوجہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں حقیقی تشویش کے ساتھ مسئلے کے سیاسی حل پر اصرار جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم ایک تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو ہر کسی کے لیے خطرناک ہو گی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.