.

غیرمتوقع صدارتی امیدوار

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) جو طویل عرصے سے صدارتی امیدوار کی تلاش میں سرگرداں تھیں بڑی جدوجہد اور کوششوں کے بعد ترکی کے اندرہی سے (اگر چہ صدارتی امیدوار نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ غیر ممالک ہی میں گزارا ہے) صدارتی امیدوار ڈھونڈ نکالا ہے اور اس صدارتی امیدوار کا نام ترکی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کی منظوری کے بعد عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ اس صدارتی امیدوار کا نام پیش کرنے سے قبل میں یہ بتاتا چلوں کہ کسی بھی ملک میں جمہوری نظام کے قیام کے لئے سیاسی جماعتوں کا موجود ہونا بےحد ضروری ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنا منشور اور نظریات پیش کرتے ہوئے ہی عوام کی حمایت حاصل کرتی ہیں اور پھر انتخابات میں انہیں یہ کامیابی اپنے منشور اور نظریات ہی کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ تمام جمہوری ممالک میں سیاسی جماعتیں اپنے اندر مختلف نظریات لئے ہوئے ہوتی ہیں مثال کے طور پر ایک جمہوری ملک میں ایک سیاسی جماعت کمیونزم پر قائم ہوسکتی ہے تو دوسری سیاسی جماعت سرمایہ دارانہ نظام کی پیروی کرتے ہوئے تشکیل پاتی ہے ۔ اسی طرح ایک دیگر سیاسی جماعت مذہب پر دارومدار کرتی ہے تو اس کے مقابل سیکولر جماعت آن کھڑی ہوتی ہے۔ اس طرح جمہوری نظام میں عوام جن نظریات اور منشور کو اپنے قریب سمجھتے ہیں ان کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔

اب آتے ہیں ترکی میں صدارتی انتخابات کی جانب جس میں حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کے لئے اپنے نظریات، منشور اور پالیسی ہی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی جو کہ اتاترک ازم سے زیادہ کمال ازم پر یقین رکھتی ہے (اتاترک ازم میں مذہب کی نفی نہیں کی جاتی جبکہ کمال ازم میں مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ یکطرفہ اور نام نہاد سیکولرازم کو ترجیح دی جاتی ہے) اور مذہب سے دور رہنے ہی میں عافیت سمجھی جاتی ہے،نے اپنے ان نظریات اور منشورکو ایک کنارے پر رکھتے ہوئے ایک ایسے صدارتی امیدوار کو کھڑا کیا ہے جن کی زندگی مذہبی کتابوں اور اسلام کی تفسیر کرتے ہوئے گزر گئی ہے۔ جی ہاں میں جس شخصیت کا ذکر کررہا ہوں وہ کوئی اور نہیں تنظیم اسلامی کانفرنس کے دوبار سیکرٹری جنرل منتخب ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر اکمل الدین احسان اولو ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکمل الدین ایک اسلامی نام ہے جس کی ادائیگی کرتے ہوئے ری پبلکن پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی صورت حال حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی سیاسی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے رہنما دولت باہچے لی کو بھی درپیش ہے ۔ان کے لئے بھی اکمل الدین نام کا تلفظ جھنجلاہٹ کا باعث بنا ہوا ہے۔ ترکی کی سیاست میں یہ نام بالکل نیا ہے اور عوام میں آسانی سے اس نام کو پذیرائی حاصل نہ ہوسکے گی۔ اکمل الدین احسان اولو نظریاتی لحاظ سے ری پبلکن پیپلز پارٹی سے کسی قسم کی کوئی مطابقت نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان کی زندگی ری پبلکن پیپلز پارٹی کے دھارے کے برعکس دھارے میں گزری ہے۔

جہاں تک نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کا تعلق ہے، اس جماعت کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اس کا صدارتی امیدوار کسی بھی صورت بارہ سے پندرہ فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ اسی لئے اس جماعت نے اپنی حریف جماعت جو کہ ترکی کی سیاسی زندگی میں ہمیشہ ہی ان کی مخالف رہی ہے اور ان دونوں جماعتوں کے اختلافات اور جھڑپوں کی وجہ سے ملک میں فوج برسر اقتدار آتی رہی ہے یعنی اگر ترکی میں جتنی بار بھی مارشل لا لگا ہے ان دونوں جماعتوں کے مڈبھیڑ ہی کی وجہ سے لگا ہے لیکن اب یہ دونوں سیاسی جماعتیں اپنے تمام اختلافات بھلا کر صرف جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے بغض میں اکٹھی ہوئی ہیں (جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی، ری پبلکن پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ نظریاتی لحاظ سے زیادہ قریب ہے) اور دونوں جماعتوں نے اپنا مشترکہ امید وار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آق پارٹی کے صدارتی امیدوار کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ دونوں جماعتوں نے آق پارٹی جیسی سوچ رکھنے والے شخص کو اپنا صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آق پارٹی کے اندر سے بھی پانچ فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرتے ہوئے آق پارٹی کے صدارتی امیدوار کو پہلے رائونڈ میں کامیاب ہونے سے روکا جا سکے حالانکہ یہ دونوں جماعتیں کبھی بھی کسی مذہبی شخصیت کو ملک کا صدر بنانے کے حق میں نہیں رہی ہیں لیکن موجودہ حالات نے ان دونوں جماعتوں کو صرف عوام کو متاثر کرنے اور ان سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے غیر متوقع صدارتی امیدوار کے طور پر اکمل الدین احسان اولو کا نام پیش کیا ہے۔

اکمل الدین احسان اولود راصل آق پارٹی ہی کے نظریات رکھنے والی شخصیت ہیں اور آق پارٹی ہی نے ان کا نام تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا اور اس جماعت نے بڑے پیمانے پر عالم اسلام میں ان کے لئے لابی بھی کی تھی ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ استنبول میں پہلی بار تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے وقت پاکستان نے بنگلہ دیش کے امیدوار کے ساتھ کئے گئے وعدے کی وجہ سے پہلے رائونڈ میں ترکی کے امیدوار کی مخالفت کی تھی لیکن انتخاب کے دوسرے رائونڈ تک جانے کی وجہ سے پاکستان نے دوسرے رائونڈ میں ترکی کے امیدوار کو جتوانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اس طرح ترکی سے پہلی بار تنظیم اسلامی کے کانفرنس کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ راقم کو بھی اکمل الدین احسان اولو کو اس موقع پر ہی مبارک باد دینے کا شرف حاصل ہے۔

تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد طویل عرصے تک اکمل الدین احسان اولو کے آق پارٹی کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات قائم رہے لیکن مصر میں برپا ہونے والے فوجی انقلاب کے موقع پر سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان اولو اور وزیراعظم ایردوان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آنا شروع ہوگی اور شام کی صورت حال پر اکمل الدین احسان اولو کی خاموشی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اکمل الدین احسان اولو اور وزیر اعظم ایردوان کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آگئے کیونکہ حکومت کی جانب سے بلواسطہ طور پر سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہونے کے مطالبےکو اکمل الدین احسان اولو نے مسترد کر دیا اور اس عہدے کو اپنی میعاد پوری ہونے تک جاری رکھا ۔

آق پارٹی اور اکمل الدین احسان اولو کے درمیان پیدا ہونے والی اس خلیج سے ترکی کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے ان دونوں جماعتوں نے پارٹی کے اندر سے کسی بھی رکن کو صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کے بجائے اکمل الدین احسان اولو کی خدمات غیر متوقع طور پر حاصل کرتے ہوئے اپنی سیاسی جماعتوں اور اپنی ناکامیوں کا خود ہی بیچ بازار میں بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

اکمل الدین احسان اولو کو ان انتخابات میں دو مختلف حلقوں جن میں علوی اور کرد باشندے شامل ہیں کے ووٹ پڑنے کی کوئی توقع نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ وزیر اعظم ایردوان کے مقابلے میں صفر ایک گول سے پیچھے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر آق پارٹی وزیر اعظم ایردوان کو ان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار کھڑا کرتی ہے (ابھی تک آق پارٹی نے اپنے صدارتی امیدوار کا نام پیش نہیں کیا ہے) تو ایردوان ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی حیثیت سے اکمل الدین احسان اولو کے مقابلے میں پہلے ہی رائونڈ میں صدارتی انتخاب جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ اکمل الدین احسان اولو خود بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ سیاست کے فن سے کوئی زیادہ آگاہی نہیں رکھتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.