.

مالکی، عراق کا نیا صدام!

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق جنگ میں حصہ لینے والے امریکی اب بہت مایوس ہوئے ہوں گے کیونکہ انھوں نے اس لیے تو اپنی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالا تھا کہ جس ملک کو آزاد کرانے میں انھوں نے مدد کی، وہ اس طرح انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جائے گا۔ لیکن ان میں زیادہ تر اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہے تھے کہ عراق کا تو پہلے ہی ایک انتہا پسند ہاتھ کے پاس سقوط ہو چکا تھا۔یہ سب کچھ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی موجودہ مزاحمت سے قبل ہی ہو چکا تھا۔

درحقیقت امریکا نے عراقی عوام کو ایک آمر صدام حسین سے نجات دلا کر ایک اور آمر وزیر اعظم نوری المالکی کے حوالے کر دیا تھا۔ نوری المالکی نے اپنے دو ادوار حکومت میں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے ہی کی کوشش کی ہے۔ عراقی وزیر اعظم نے برطرفیوں، گرفتاریوں اور متعدد وزراء اور حکام کے اختیارات میں کمی کے ذریعے ملک کی دفاع، داخلہ اور خزانہ کی وزارتوں، عدلیہ، سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔

نوری المالکی نے اس طریقے سے اختیارات سلب کرکے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور غیر قانونی طور پر تیسری مدت تک توسیع دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس ضمن میں وفاقی عدالت عظمیٰ کا ایک حکم بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے جس کے تحت انھیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی مگر کس نے ان کی مخالفت کی تھی؟

ایرانی ایجنٹ انھیں معاونت فراہم کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ان ایرانیوں کے لیے عراق کے دروازے بہت ہی کھلے چھوڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے صاحبِ فراش صدر جلال طالبانی کے عضو معطل ہو کر رہ جانے کا بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ (وہ گذشتہ دو سال سے علیل ہیں، ان کی صحت بگڑ چکی ہے اور جرمنی میں زیر علاج ہیں) اور اس تمام معاملے میں سب سے اہم بے راہ رو اور متردد امریکی حکومت کا شرم ناک کردار ہے۔ بظاہر اس کا یہ خیال ہے کہ خطے کے مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔

صدام حسین کا دنیا کے کسی اور بُرے عالمی لیڈر سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن مالکی تو اپنے ملک، اس کے عوام اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں ان سے کہیں آگے بڑھ گئے ہیں۔ صدام حسین ایک سنی تھے اور وہ بُرے ضرور تھے لیکن وہ سیکولر تھے۔ انھوں نے یہ کیا تھا کہ عیسائی ان کے سرکردہ مشیر تھے، ان کی جماعت بعث میں اہل تشیع کی نمایاں موجودگی تھی۔

مزید برآں صدام حسین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ جمہوری ہیں اور نہ وہ اس وعدے کے ساتھ تخت نشین ہوئے تھے کہ وہ عراق کو جمہوریت کا مینارہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نمونہ بنائیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ صدام حسین سفاک تھا لیکن وہ کم سے کم اپنی اس ناانصافی میں منصف ضرور تھا۔ اس نے شیعوں، کردوں اور سنیوں کو یکساں طور پر تہ تیغ کیا اور اپنے داماد کو بھی نہیں بخشا تھا۔

نوری المالکی شیعہ ہیں اور انھوں نے اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان کشیدگی کو بڑھاوا دیا ہے حالانکہ وہ دو ادوار حکومت میں ملنے والے سنہری موقع سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور وہ ایک حقیقی اور پائیدار قومی مصالحت کرا سکتے تھے لیکن انھوں نے اس کے بجائے اہل سنت کو دیوار سے لگایا، اہل تشیع کی حمایت کی اور تہران کے لیے خدمات بجا لائے۔ اس سے نہ صرف پڑوسی ممالک کو مایوسی ہوئی بلکہ ان کے اپنے عوام، سنیوں، شیعوں اور کردوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دراصل بہت سے لوگ یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ نوری المالکی کو اپنے ملک کے سرکردہ شیعہ علماء کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ چند روز قبل ہی عراق کے سب سے بڑے شیعہ عالم دین آیت اللہ علی سیستانی بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جو نوری المالکی کو پسند نہیں کرتے ہیں اور انھوں نے ایک فعال نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ نوری المالکی نے تو تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم بننے کی خاطر پورے نظام ہی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اہل تشیع کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے اس طرح کے عاقلانہ بیانات سے یقیناً مدد مل سکتی ہے کیونکہ عراق میں بہت سے لوگ نوری المالکی ہی کو مسئلے کی جڑ سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک موجودہ بحران اچانک ہی انتہا پسند کے اٹھ کھڑے ہونے سے پیدا نہیں ہوا ہے یا اس سازش کے کہیں باہر تانے بانے نہیں بنے گئے تھے بلکہ یہ ملک کی سنی آبادی کو سالہا سال سے بڑے منظم انداز میں دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

مالکی چاہیں تو سازشوں کی باتیں کر سکتے ہیں لیکن بالآخر تو وہی وزیر اعظم ہیں (یہاں ان کے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ ہونے کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں) انھیں ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔

داعش مالکی کی غلطی ہیں

مزید تفصیل میں جانے سے پہلے یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ داعش سے صرف شام اور عراق کے تحفظ اور سکیورٹی کو خطرات لاحق نہیں ہیں بلکہ پورے خطے اور سعودی عرب کو خاص طور پر خطرات لاحق ہیں جس نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

اس لیے تمام عربوں اور مسلمانوں (اہل سنت اور اہل تشیع) کی ذمے داری ہے کہ وہ داعش کا حقیقی چہرہ سامنے لانے میں کردار ادا کریں۔ لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ ٹھگوں اور ابن الوقتوں پر مشتمل ایک دہشت گرد گروپ ہے۔ ان کا کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں۔ وہ لوگوں کے جائز تحفظات اور ضروریات کا فائدہ اٹھا کر زمین اور وسائل پر دعویٰ کریں اور موقع سے فائدہ اٹھا کر دین کے نام پر آزادانہ طور پر ریپ کریں اور لوگوں کے سر تن سے جدا کریں۔

لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ انتہا پسند گروپ عراقی سنیوں کی حمایت کیسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے؟ اور اس کے جنگجو عراق کی سرکاری فوج کے مقابلے میں شہروں کو کیسے مفتوح کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہ یقین کیا جاتا ہے کہ مالکی مخالف بہت سے جنگجو داعش کی صف میں شامل نہیں ہیں لیکن وہ سنی قبائلی، سابق حکمراں بعث پارٹی کے ارکان ہیں اور وہ لوگ ہیں جو وزیر اعظم کی دوسروں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی سے نالاں تھے اور اس کی وجہ سے ہی ان کی کوئی آواز نہیں رہی ہے، ان کا معیار زندگی انتہائی پست ہے اور ان کی زندگیوں میں بہتری کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے گھنٹی بجے گی کیونکہ ایسا تو پہلے بھی ہو چکا ہے۔ یہ واقعی شرم ناک ہے کہ مالکی اور وائٹ ہاؤس نے اس منظر نامے کو دوبارہ رونما ہونے دیا ہے۔

سنہ 2003ء میں جب صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے احمقانہ انداز میں بعث پارٹی اور عراقی فوج کو مکمل طور پر تحلیل ہونے دیا حالانکہ یہ دونوں ادارے ملک کی سالمیت کو برقرار رکھ سکتے تھے کیونکہ انھوں نے ہی ملک کا مناسب انداز میں انتظام وانصرام چلایا تھا یا اس کی تشکیل نو کی تھی لیکن تربیت یافتہ فوجیوں، تجربے کار سیاست دانوں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کو ایسے ہی کسی کردار یا آمدن کے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا۔

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے اہل تشیع نے مالکی کی سرپرستی میں خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کی مگر اس تناظر میں اہل سنت نے مایوس ہو کر القاعدہ کو قبول کر لیا۔ وہ اس وقت عراق میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھی مگر 2006ء میں امریکیوں نے سنی قبائلی لیڈروں کے ساتھ القاعدہ کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔اس کے ساتھ سنی نوجوانوں پر مشتمل صحوہ کونسل تشکیل دی گئی تھی اورانھوں نے مغربی صوبہ الانبار سے القاعدہ کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

مگر حیران کن طور پر جب یہ خطرہ ٹل گیا تو امریکیوں اور نوری المالکی دونوں میں سے کسی نے بھی قبائلی زعماء سے کہے گئے اپنے الفاظ کی پاس داری نہیں کی تھی اور عراقی سنیوں کو ایک مرتبہ پھر حالت اضمحلال میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ مالکی کے لیے کوئی چیلنج نہیں رہا تھا اور وہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ جابر بن گئے، انھوں نے اہل سنت کی سرکردہ شخصیات کو گرفتار کرنا شروع کر دیا یا انھیں ان کی ملک میں عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی جانے لگیں۔ نائب صدر طارق الہاشمی کے ساتھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا۔ وہ ترکی میں مقیم ہیں اور ان کا عہدہ اس وقت سے خالی ہے۔

مالکی نے سنیوں کو کردوں کی طرح حق خود اختیاری دینے سے انکار کر دیا۔ جب انھوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن مظاہرے شروع کیے تو مالکی نے (امریکی ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے) انھیں کچلنے کی کوشش کی۔ عراق میں صورت حال مسلسل بگڑتی رہی اور اب عراقی دو برائیوں کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ایک غیر قانونی وزیر اعظم ہیں اور دوسری برائی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

اگر توڑا ہے، تو قبول کرو

افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ امریکی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہوتا رہا ہے جس سے ایک بڑا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکی سکیورٹی تجزیہ کار یہ سب کچھ کیوں نہیں دیکھ سکے اور اگر انھوں نے ایسا کیا تھا تو پھر صدر براک اوباما نے ایسے بے توقیر وزیر اعظم کی حمایت کیوں جاری رکھی تھی؟

دراصل نوری المالکی نے عراق کے خلاف ہی جرائم کا ارتکاب نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے ہزاروں امریکی فوجیوں کی قربانیوں سے بھی انحراف کیا ہے حالانکہ وہ انہی کی قربانیوں کی بدولت وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے تھے۔ ان کے دیگر بہت سے جرائم میں سے ایک جرم بدنام زمانہ قیس الخزالی کو جیل سے رہا کرنا ہے۔ وہ اس وقت نہ صرف آزاد ہیں بلکہ وہ سیاسی کیرئیر کے حامل ایک آزاد شخص ہیں۔

جو لوگ قیس خزالی کو نہیں جانتے ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ پارلیمانی گروپ اصیب اہل الحق کے سربراہ ہیں۔ اس گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بدنام زمانہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور پاسداران انقلاب کی براہ راست سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ اس گروپ نے ماضی میں امریکیوں، اتحادی اور عراقی فورسز پر قریباً چھے ہزار حملے کیے تھے۔ مسٹر خزالی خود امریکی فوجیوں اور برطانوی شہریوں کی ہلاکتوں اور اغوا کے براہ راست ذمے دار تھے۔

مزید برآں خزالی آج بھی ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے عراقی جنگی سردار ابو درعا کے ساتھ براہ راست روابط ہیں۔ ان صاحب کو شیعوں کا زرقاوی قرار دیا جاتا ہے اور وہ حال ہی میں ایران سے عراق لوٹے ہیں۔

کوئی شخص مدد تو نہیں کر سکتا لیکن یہ سوال ضرور کر سکتا ہے کہ مالکی اس طرح کے آدمی کے ساتھ کیوں رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔جی ہاں!یہ غیر قانونی وزیر اعظم اپنے ذاتی مفادات کے لیے فرقہ واریت کو پھیلا سکتے ہیں۔ داعش کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

کیا امریکا کو اس سب کچھ کے باجود عراق بحران کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ جی ہاں۔ آپ جس کو اپنا قراردیتے ہیں،اس سے ناتا توڑیں۔اب صرف مالکی ہی کو اقتدار نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ صدر براک اوباما کو سینیٹر جان مکین کے اس مطالبے پر کان دھرنے چاہئیں کہ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی تمام ٹیم عراق کو محفوظ بنانے میں ناکامی پر مستعفی ہو جائے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.