جنرل اطہر عباس کی بے وقت کی راگنی

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ڈی این اے کی تھیوری پر میرا ایمان مستحکم ہو گیا ہے۔

میں حیران ہوا کرتا تھا کہ میجر جنرل اطہر عباس فوج میں کیسے فٹ ہو گئے ہیں اور وہ بھی ایک نظریاتی فوج میں جس کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے۔ میرا شک ان کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے تھا ۔ انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوا ہے، اور اس فطرت سے وہ چھٹکارہ نہیں پا سکتا۔ آخر کار جنرل اطہر عباس کے اندر کی فطرت کو زبان مل گئی۔

ایک ایسے وقت میں جب ہر شخص کے ہونٹوں پر ایک ہی سوال تھا کہ موجودہ حکومت نے شمالی وزیرستان کے آپریشن کو ایک سال تک روک کر دہشت گردوں کے ہاتھ کیوں مضبوط کئے اور انہیں نئی طاقت پکڑنے کا موقع کیوں فراہم کیا، اس دوران میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام کیا اور زیر حراست فوجیوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنے کا شوق پورا کیا۔
اس سے قبل کہ حکومت اپنے فعل پر کسی شرمندگی کا اظہار کرتی اور نام نہاد سرکاری اور طالبان امن کمیٹیاں کوئی عذر لنگ پیش کرتیں، جنرل عباس بولے اور چھپڑ پھاڑ کر بولے، ایسا بولے کہ رانا ثناء اللہ، پرویز رشید ،منور حسن ،خواجہ آصف اور پروفیسر ابراہیم کو بھی مات کر گئے۔

جو کچھ اطہر عباس نے کہا ہے وہ سراسر فوج کے خلاف چارج شیٹ ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں آپریشن میں سستی اور تاخیر کا مظاہرہ کیا اور وہ دہشت گردی کے نئے سلسلے کے لئے ذمے دار ٹھہرائی جا سکتی ہے۔
خدا کی پناہ! جنرل صاحب نے فوج کا رزق کھایا ہے، وہ اس کے نفس ناطقہ تھے، ترجمان تھے۔

ان کی جنرل کیانی سے ذاتی پرخاش تو ہو سکتی تھی کہ ان کے دور میں انہیں پروموشن نہیں ملی اور نہ بعد میں کسی نوکری کی پیش کش کی گئی لیکن وہ اس ذاتی پرخاش کا بدلہ فوج کے ادارے سے یوں لے رہے ہیں، اس کا کسی کو سان گمان تک نہ تھا۔
جنرل اطہر عباس اپنی کہی ہوئی باتوں پر دوبارہ غور کریں تو انہیں اس میں کھلا تضاد نظر آ جائے گا، ایک سانس میں کہتے ہیں کہ آپریشن پر مکمل اتفاق رائے تھا اور ابھی دوسرا سانس نہ لے پائے تھے کہ ان کے منہ نے سچ اگل دیا کہ آپریشن کے بارے میں ہائی کمان کی رائے تقسیم تھی۔

جنرل صاحب کی کس بات پر یقین کیا جائے اور کس پر نہ کیا جائے۔ منطق کا تقاضا ہے کہ دوغلی بات کرنے والے کی ہر بات کو مسترد کر دیا جائے۔ جنرل صاحب کو بولنے یا بلوانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی، اس لئے کہ آئی ایس پی آرکے موجودہ سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے تین روز پیشتر کہا تھا کہ یہ آپریشن فروری میں ہو جانا چاہئے تھا، تاکہ دہشت گردوں کو منظم ہونے کا موقع نہ ملتا، انہوں نے اس خدشے کا برملا اظہار کیا کہ اب زمینی آپریشن شروع ہونے کی صورت میں دہشت گردوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ فروری مارچ میں انہیں برف سے ڈھکی چوٹیوں پر پناہ گاہیں میسر نہ تھیں۔

عاصم سلیم باجوہ کے دعوے کی تصدیق کرنے و الے لاہور کے سینئر تریں اخبار نویس ہیں جو آئی ایس پی آر کے مقامی سربراہ کرنل سید شاہد عباس کی دعوت پر ان کی بریفنگ میں شریک ہوئے، ان میں نذیر ناجی، عبدالقادر حسن، مجیب شامی، ضیا شاہد، سجاد میر، لطیف چودھری، عطا الرحمن، سلمان غنی، ، عمر شامی، الطاف حسن قریشی اور چند دیگر تجزیہ نگار حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ یہ 22 فروری کی ایک یخ بستہ صبح کی بات ہے۔ جنرل باجوہ نے انتہائی درد مندی سے کہا کہ یہ آپریشن اب شروع ہو جانا چاہئے، اس میں تاخیر قوم کے لئے نقصان دہ ہو گی۔

فوج تو ہر لحاظ سے تیار تھی مگر نواز شریف نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی امن بذریعہ مذاکرات کا نعرہ لگا دیا تھا، منور حسن، سمیع الحق، فضل الرحمن جیسے مذہبی سیاسی لیڈرز بھی آپریشن کے حق میں نہیں تھے، ان میں سے کچھ تو طالبان کو اپنے بچے سمجھتے تھے، پیپلز پارٹی کی مرحوم لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے تو اپنے ہاتھوں سے طالبان کو کابل کے تخت پر بٹھایا تھا۔ عمران خان کی بھی نرالی منطق تھی، وہ تو غیر ملکی دہشت گردوں پر ڈرون حملوں کی بھی مخالفت کر رہا تھا۔

مرے کو مارے شاہ مدار، آخر ایک میڈیا ھائوس نے فوج پر ہلہ بول دیا۔ مگر یہ اسے الٹا پڑا اور فوج کے لئے اس کا اثر یہ تھا جیسے کبڑے کی کمر پر لات پڑ گئی ہو، پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہو گئی، کچھ عرصہ تک تو میڈیا ہائوس نے دھما چوکڑی مچائی مگر جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ اب اس کا پالا ایک ایسے جرنیل سے پڑا ہے جو شہادتوں کے امین خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اب ہر کوئی اپنا قبلہ سیدھا کر چکا ہے۔ مگر کسے پتہ تھا کہ گھر کے بھیدی بھی لنکا ڈھا سکتے ہیں۔ جنرل اطہر عباس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ انہوں نے لنکا ڈھائی ہے تو کس کے اشارے پر، اگر یہ ان کی اپنا انشئیٹو ہے تو اس سے انہوں نے اس فوج کا نقصان ہی کیا ہے جس کے ساتھ انہوں نے پوری عمر گزاری ہے۔ فوج کی عزت کو داغدار کرنے والے پہلے کیا کم تھے، جنرل اطہر عباس کو اب تک احساس ہو جانا چاہئے تھا کہ انہوں نے جس تھالی میں کھایا ہے، اسی میں چھید کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے اس بیان نے فوج کے وقار کو مجروح کیا ہے، یہ فوج تو ہر دم قربانی اور ایثار کے لئے تڑپتی ہے، اس نے تو شہادتوں کا گل و گلزار مہکایا ہے، اسے یہ طعنہ دینا کہ اس نے آپریشن میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیا، اس الزام پر کون یقین کرے گا ؟ فوج میں نیک نامی سے زندگی گزارنے کے بعد جنرل صاحب کو آخر سوجھی تو کیا۔

طالبان کے سرپرست کون ہیں، ان کے ہمدرد کون ہیں اور ان سے خائف کون ہیں، اب یہ کچا چٹھا ہر ایک کے علم میں ہے۔ جنرل کیانی نے ہمیشہ خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ جنرل اطہر عباس کے علم میں ہونا چاہئے کہ سوات آپریشن کی کمان جنرل کیانی ہی نے کی تھی اور فاٹا کی تمام ایجنسیوں ماسوائے شمالی وزیرستان کے تین اڈے باقی پورے علاقے کو دہشت گردوں سے جنرل کیانی ہی نے آزاد کرایا تھا، میری ذاتی معلومات کے مطابق جنرل محمدجاوید شمالی وزیرستان میں لڑتے رہے اور جنرل عاصم باجوہ جنوبی وزیرستان کے کمانڈر رہے۔ مگر ریٹائر منٹ کے بعد اطہر عباس ان پر کس بنیاد پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب مسلح افواج فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہیں، جنرل اطہر عباس کو اس فوج کے سابق ترجمان ہونے کے ناطے اس آپریشن کی کامیابی کی دعا کرنا چاہئے تھی، جوانوں اور افسروں کا حوصلہ بڑھانا چاہئے تھا کہ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو ملک اور قوم کی بقا یا فنا کا فیصلہ کرے گی۔ مگر جنرل صاحب تو یوسف زلیخا کی کہانی سنانے بیٹھ گئے، انہوں نے تو وہی آرمی بیشنگ شروع کر دی جس کا شوق ایک میڈیا ہائوس کو چرایا تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں