عراق کے سنی دلیل اور جنونیت کے دوراہے پر

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عراق میں ہر قسم کی انتہا پسندانہ آوازیں سننے کو موجود ہیں۔ ان میں ایک طرف دلیل کے حق میں انتہا پسندانہ آوازیں ہیں تو دوسری جانب جنون پر مبنی انتہا پسندانہ آوازیں بھی ہیں۔ ایسی آوازیں بھی ہیں جو مفاہمت کے حق میں ہیں اور ایسی بھی ملک کو تقسیم کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ عراق اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ جاری جنگ کے ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کا بھی امکان موجود ہے، لیکن ہم پر امید ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔

اس ساری صورت حال کا الزام وزیر اعظم نوری المالکی پر جاتا ہے کہ افراتفری کے منظر نامے کے پیچھے انہی کی پالیسیاں اور رجحانات موجود ہیں۔ وہ ملک کو تباہی کے ایک ایسے غار میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں جس سے اگلے بیس سال میں بھی نکلنا عراق کے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ مالکی اپنی ہی حکومت کو ناکام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جیسا کہ شام، صومالیہ اور افغانستان میں ہو چکا ہے۔

سیاست، مذہب اور سماجیات کے میدانوں کے دانا و بینا رہنما اس صورت حال میں ملک کی لکھی گئی قسمت سے خوف زدہ نظر آتے ہیں۔ تاہم بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو حالات کے دھارے اور اس کے مستقبل پر اثرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان لوگوں میں بعض عرب عراقی سنی بھی شامل ہیں جو اچانک ٹی وی چینلز پر نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں اور اپنی شرائط پیش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دھمکیاں دینے کا انداز اختیار کرتے ہوئے مفاہمت کے لیے سامنے آنے والے ابتدائی خیالات کو رد کر رہے ہیں۔ یہ عراقی سنی بحران کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہا پسند شیعہ عناصر کی طرح ہو جانا چاہتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ عراق کی اس اکثریت کی نمائندگی بھی نہیں کرتے ہیں جو پچھلے تیس برسوں میں ہونے والی جنگوں کے مارے ہوئے ہیں۔ خود نوری المالکی کے آٹھ سالہ دور حکومت میں شیعہ لوگوں کی اکثریت کو بھی سوائے غربت اور افلاس کے کچھ نہیں ملا ۔ ہاں ان آٹھ برسوں کے دوران چند افراد کے امیر تر ہو جانے کا معاملہ الگ ہے۔

اسی دوران سنیوں کے ہاں دلیل اور استدلال کے حامی لوگ یہ مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ ''مفاہمت کے جذبے سے جائز اور منصفانہ ماحول کے ذریعے ہر عراقی کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کی اکثریت یہ مطالبہ بھی کر رہی ہے کہ قیدیوں کو رہا کرتے ہوئے ایک نیا آغاز کیا جائے۔ نیز بعث پارٹی کے انداز کے قوانین کو ختم کیا جائے۔ تاکہ تمام عراقی سیاسی جماعتوں کے حکومت سازی کے عمل میں شریک ہونے کا حق تسلیم کیا جائے۔ یہ وہ مطالبات ہیں جو پچھلے چھ ماہ میں صوبہ انبار میں ہونے والے احتجاج کے دوران سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن مالکی اس طرح کی بات کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیتے رہے۔

اس کے بر عکس جو سنی شیعہ عناصر کی طرح اعتدال سے ہٹے ہوئے بیانات دے رہے ہیں وہ بھی ملک میں مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور افراتفری کو بڑھاوا دینے کی بات کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاست میں حصہ لینے والے والے تمام سنی بشمول سابق وزراء، ارکان پارلیمنٹ، اور صوبائی گورنروں کے سنیوں کے نمائندے نہیں ہیں۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ یہ صاحب اپنے مفادات کی بنیاد پر تمام سنی نمائندوں کا صفایا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے پچھلے آٹھ برسوں کے دوران سیاسی عمل کا بائیکاٹ کیے رکھا ہے وہ اس کے لائق ہیں کہ اپنے لوگوں کی نمائندگی نہ کرنے کے ذمہ دار سمجھے جائیں۔ سچی بات یہ ہے کہ سنیوں کو کمزور کرنے کا ذریعہ یہ سیاسی عمل کا بائیکاٹ کرنے والے بنے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نوری الماکی اور ان کے ساتھیوں کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع مل گیا۔

انتہا پسندوں نے افراتفری اور تباہی کا ماحول پیدا کر لیا ہے اب وہ اپنے لوگوں کو سنی صوبوں میں نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان صوبوں میں بھی سنی اسی طرح مشکلات کا شکار ہیں جس طرح کہ شیعہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہیں۔ ایسے عناصر کو ضرور اپنی ناک سے ذرا دور بھی دیکھنا چاہیے اور سیاسی حقائق کا احساس کرنا چاہیے۔ سیاسی صورتحال میں انہیں سنی ریاست یا کسی اور ریاست کا امکان نظر نہیں آئے گا۔ مفاہمتی عمل کو سبوتاژ اور ملک کو تقسیم کی طرف دھکیلنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عناصر کی مدد کی جا رہی ہے۔ خطے کے ملکوں کی اکثریت اس کے باوجود کہ عراق میں کیا ہو رہا ہےعراق کی تقسیم کے حق میں نہیں ہے۔ خطے کے ملک عراق میں کسی دہشت گرد گروپ کی حکومت قبول نہیں کریں گے۔

جو لوگ داعش کی حمایت کر رہے ہیں انہیں آگاہ رہنا چاہیے کہ وہ پوری دنیا سے تصادم کی بات کر رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ سعودی عرب، ایران، ترکی، اردن، امریکا، غربی دنیا اور روس کے ساتھ تصادم کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتہا پسندوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ عالمی اتفاق رائے کو شکست دے دیں۔ اس کے مقابلے میں صوبہ انبار میں پچھلے سال دسمبر میں جو مطالبات سامنے آئے تھے وہ زیادہ تر جائز اور معقول ہیں۔ اس وجہ سے ان مطالبات کی عراقی شیعوں میں بھی وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ کرد اور سنی لیڈروں نے مالکی کو ایک مشکل مقام پر رکھا ہے۔ اہالیاں انبار نے عراقی عوام اور عالمی برادری کی توجہ مالکی کی ناکام حکومت کی جانب مبذول کرائی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مالکی اپنے بچاو کے لیے عراق کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ سنی اپنی جدوجہد انتہا پسندوں کو اچک نہ لے جانے دیں۔ واقعہ یہ کہ سنی عوام کے مطالبات پورے ہونے کے قریب آ چکے ہیں۔ انہیں انصاف ملنے والا ہے۔ ایسے میں انہیں انتہا پسندوں کو موقع نہیں دے دینا چاہیے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size