پاکستان : نئی افغان پالیسی

ڈاکٹر منظور اعجاز
ڈاکٹر منظور اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

چار دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی افغان پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔ سفارتی پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب پاکستان ماضی کے برخلاف کابل حکومت کے بارے میں مکمل غیر جانبدارانہ پالیسی اپناتے ہوئے کسی مخصوص گروپ کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب پاکستان نے ’’ اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ طالبان کے درمیان فرق کرنے کی پالیسی ترک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کے اتحادی ممالک بھی یہی تقاضا کر رہے تھے کہ پاکستان ہر نوع کے عسکری گروہوں کی بیخ کنی کرے۔ ظاہر بات ہے کہ اب پاکستان چاہتا ہے کہ نہ پاکستان کی سرزمین افغان حکومت کے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی افغانستان پاکستانی طالبان کو پناہ گاہیں فراہم کرے۔

پاکستان کی حکومت اور فوج نے افغانستان کے انتخابات میں غیر جانبدار رہنے کی پالیسی پر پوری طرح سے عمل کیا تھا اور ہر طرح سے افغان حکومت کو اس بارے میں یقین دہانی کرا دی تھی۔ اب جب پاکستان شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کر رہا ہے تو وہ افغانستان سے تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان اپنی سرحدیں سیل کر دے اور پاکستان سے بھاگ کر جانے والے طالبان کو افغانستان میں پناہ گاہیں میسر نہ ہوں۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطے ہوئے ہیں۔ مزید برآں محمود اچکزئی کے ذریعے بھی وزیر اعظم نواز شریف نے صدر حامد کرزئی کو خصوصی پیغام بھیجا ہے۔ یہ بھی کافی اہم پیشرفت ہے کہ اسی دوران افغانستان کے سفیر نے پاکستان کے فوجی رہنما جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ہر ممکن طریقے سے افغانستان کو یقین دہانی کرانا چاہتا ہے کہ اس کی زمین کابل حکومت کے خلاف نہ استعمال ہو رہی ہے اور نہ ہی ہو گی اور افغانستان بھی پاکستان کے بارے میں یہی پالیسی اپنائے۔ غالباً پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان بلوچ علیحدگی پسندوں کے دروازے بھی بند کر دے۔

ماضی میں پاکستان کی خواہش رہی ہے کہ کابل میں دوستانہ حکومت قائم ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ستّر کی دہائی میں پاکستان کے پشتون علاقے میں خان عبدالغفار (باچا خان) کے زیر اثر پختونستان کے نام سے قوم پرست تحریک کافی سرگرم تھی۔ کابل کی حکومتیں پختونستان کی تحریک کی حمایت کرتی تھیں جس سے پاکستان نالاں تھا لیکن جیسے جیسے خیبر پختونخوا کی معیشت پاکستان کے ساتھ مربوط ہونے لگی اور پختون آبادی پورے پاکستان میں پھیلتی گئی تو پختونستان کی قوم پرست تحریک دم توڑ گئی۔ نیشنل عوامی پارٹی جو بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے روپ میں قائم ہوئی مرکز پرست سیاست کی علمبردار رہی ہے۔ اب پاکستان کے پختونوں میں علیحدگی پسندی کے جذبات ناپید ہیں۔ ستر کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے کہ کابل میں سردار داؤد کی حکومت ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لے۔ سردار داؤد کی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور بھٹو نے دباؤ ڈالنے کے لئے گلبدین حکمت یار کے گروہ کی تربیت کا بیڑااٹھایا۔ اس کے بعد ضیاء الحق کے دور میں تو امریکیوں کے ساتھ مل کر ہول سیل جہادی گروپ پیدا کئے گئے۔جب روسی افغانستان سے نکل جانے پر مجبور ہوئے تو کابل کی حکومت پر قبضے کے لئے مجاہدین کے گروپوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس سے افغانستان میں ہر طرف تباہی و بربادی پھیلی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے مجاہدین کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی گروپ بھی پاکستان کے مشوروں پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔روسی افغانستان سے نکل گئے اور امریکی بھی اپنی دکان بڑھا گئے لیکن پاکستان نے پہلے مجاہدین اور پھر بعد میں طالبان کے حوالے سے افغانستان کے معاملات میں اپنی دلچسپی جاری رکھی۔ پاکستان کے پالیسی سازوں میں افغانستان میں اسٹریٹیجک گہرائی حاصل کرنے کا تصور مقبول ہوا۔ اس نظرئیے کے مطابق پاکستان کا اصل دشمن بھارت ہے جس کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے چنانچہ اگر جنگ میں پاکستان ہار جائے تو وہ اپنے فوجی اثاثے افغانستان منتقل کردے اور وہاں سے ہندوستان کا مقابلہ کرے۔ یہ تصور انتہائی مغالطہ آمیز تھا کیونکہ افغانستان میں وہ انفرااسٹرکچر ہی نہیں ہے کہ پاکستان اپنے فوجی اثاثوں کو وہاں منتقل کر سکے۔

پاکستان نے افغانستان میں دوستانہ مستحکم حکومت قائم کرنے کے لئے ہی طالبان کا گروپ پیدا کیا۔ طالبان نے افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا اور انتہائی قدامت پرست قوانین نافذ کرنا شروع کر دیئے۔ اسی زمانے کا افغانستان عالمی جہادیوں کی آماجگاہ بن گیا جن میں اسامہ بن لادن بھی تھا۔ جب 2001ء میں نو گیارہ کا واقعہ ہوا تو پاکستان نے بظاہر امریکہ کا اتحادی بننا منظور کر لیا لیکن درپردہ وہ افغان طالبان کی حمایت سے بھی دستبردار نہیں ہوا۔ پاکستان کو خوف تھا کہ افغانستان میں ہندوستان نواز حکومت قائم ہو جائے گی لیکن 2007ء میں تحریک طالبان پاکستان پیدا ہو گئی جس نے پاکستان کے طول و عرض میں حملے کرنے شروع کر دیئے۔ پاکستان نے طالبان کو اچھے اور برے طالبان کے زمروں میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ پاکستان اس تاریخی حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ وہ ریاست جو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے آزاد مسلح گروپ تیار کرتی ہے وہ آخر میں انہی کے ہاتھوں ناقابل تلافی نقصان اٹھاتی ہے۔ پانچ سو سال پہلے مشہور سیاسی فلسفی نکولو میکاولی نے اپنی مشہور تصنیف ’’شہزادہ‘‘ میں اس بارے میں رقم کیا تھا کہ جو ریاست اپنی حکمت عملی کی کامیابی کے لئے پرائیویٹ ملیشیاؤں کو استعمال کرتی ہے وہ انہی ملیشیاؤں کی سرکشی کے ہاتھوں دھول چاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نے یہی بنیادی غلطی کی کہ ریاست کے مخصوص نام نہاد مفادات کے تحفظ کے لئے مختلف النوع کی ملیشیائیں تیار کیں یا ان کے ابھار کو نظر انداز کیا۔

پاکستان کا مسئلہ ہی یہی رہا ہے کہ وہ اچھے اور برے طالبان میں تفریق کرتا رہا ہے۔اچھے طالبان وہ ٹھہرے جو افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں اور برے طالبان وہ ہیں جو پاکستان کی ریاست کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ عملی طور پر یہ تقسیم کئی پہلووں سے ناقص ہے مثلاً یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے ازبک دہشت گرد اچھے طالبان تھے یا برے؟ اول تو یہ کہ سارے طالبان کا نظریہ ایک ہے یعنی افغانستان اور پاکستان میں مخصوص طرز کا شرعی نظام قائم کرنا پھر سارے طالبان ملا عمر کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہیں یعنی وہ ایک ہی لیڈر اور ایک ہی جھنڈے کے نیچے متحد ہیں۔ دوسرے اگر پاکستان افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے تو افغانستان پاکستانی تحریک طالبان کی پشت پناہی کو جائز تصور کرے گا۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایسا ہی ہو رہا تھا کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبہ نورستان کنٹر سے پاکستانی فوج پر حملے کر رہا تھا۔ اب پاکستان میں یہ آگاہی آچکی ہے اور ہر طرح کے طالبان کے خلاف بلا تمیز اپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی سے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب ہو گی بلکہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں سمیت باقی دنیا سے بھی تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں