.

وطن عزیز کو واگزار کرانے میں کامیابی کا واحد آپشن

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افواج پاکستان کے سابق ترجمان جناب اطہر عباس بتاتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ تین سال پہلے کر لیا گیا تھا اور ایک سال تک فوج نے اس فیصلے پر عملد درآمد کی تیاریاں بھی مکمل کر لی تھیں مگر اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس فیصلہ پر عملدرآمد سے گھبراتے، ہچکچاتے اور گریز کرتے تھے اور اس فیصلے پر عملدرآمد کو ٹالتے چلے گئے جس کی وجہ سے دہشت گردی کو اپنے پائوں مضبوط کرنے اور قدم جمانے کا وقت مل گیا اور وہ اپنی گہری جڑیں چھوڑنے میں کامیاب ہوئی جس کا بہت حد تک ناقابل تلافی نقصان پورے ملک، ساری قوم، دونوں حکومتوں اور خود فوج نے بھی سب سے زیادہ اٹھایا۔

میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے ’’بی بی سی‘‘ کو بتایا ہے کہ جنرل کیانی کا خیال تھا کہ اس فیصلے کو ان کا ذاتی فیصلہ سمجھا جائے گا۔ امریکہ نے بھی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے معاملے میں پاکستانی افواج کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ امریکہ ہر روز اس آپریشن کے لئے دبائو ڈالنے والے بیانات جاری کر رہا تھا۔ امریکیوں سے کہا بھی گیا کہ ان کے بیانات اس آپریشن کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں مگر وہ باز نہیں آئے جس سے آرمی چیف کو آپریشن آگے بڑھانے کے حق میں یہ دلیل مل گئی کہ آپریشن شروع کیا گیا تو اس سے امریکی دبائو کے زیر اثر ہونے کا تاثر ملے گا۔

یہ سب باتیں ملک کے باخبر حلقوں اور تقریباً سارے تجزیہ نگاروں کے علم میں تھیں اور کسی نہ کسی حد تک عام لوگوں تک بھی پہنچ رہی تھیں، مگر کوئی ان حقائق کو مذکورہ بالا زبان میں بھی ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں بیان کرنے کا صحافتی فریضہ ادا کرنے کی کوشش کرتا تو معمول سے زیادہ ’’محب وطن‘‘ عناصر اسے افواج پاکستان کو بدنام کرنے اور آرمی چیف کی کردار کشی کے ناقابل معافی جرم میں ’’گردن زدنی‘‘ قرار دیتے اور شاید خود میجر جنرل اطہر عباس اس کے خلاف ملک اور قوم سے غداری کا مقدمہ درج کرنے کی تجویز پیش کرتے اور اس کے کاروبار کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش بھی کرتے۔

یہ صرف ایک دہشت گردی کا معاملہ ہی نہیں ہے کہ جس میں بر وقت کارروائی سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ملک اور قوم کے بیشتر مسائل کے پیچھے، دہشت گردی کی انتہائوں کو چھونے والی بنیاد پرستی، جہالت اور انتہا پسندی سے غربت، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ تک پھیلی ہوئی تمام خرابیوں کے پیچھے یہی غفلت، سہل انگاری اور بر وقت عملدرآمد سے گریز کی پالیسیاں کار فرما دکھائی دیتی ہیں جن کے لئے ہمارے پاس بہت سے بہانے اور بے شمار دلائل ہوتے ہیں جو بعد میں بے پناہ ناقابل تلافی نقصانات کی وجوہات بن جاتے ہیں۔

ہمارے اعلیٰ ترین ارباب اختیار اور ادنیٰ سرکاری کارندوں کی فرض شناسی اور دور اندیشی میں کچھ زیادہ فرق اور فاصلہ دکھائی نہیں دیتا جو پہلے ایک خرابی کو پرورش پانے کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں ، خرابیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ لاقانونیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور پھر جب وہی خرابی حدود سے تجاوز کرجاتی ہے تو’’آپریشن‘‘ کے فیصلوں پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ آزاد اور خود مختار معاشروں میں پولیس کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ مجرموں کو گرفتار کرے مگر ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ جرائم کو نہ ہونے دے۔ جرائم ہوجانے کی صورت میں پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام قرار پائے گی اور صرف اختیار استعمال کرنے کی سزاوار ہوگی۔

آزاد اور خود مختار معاشروں میں پولیس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل ذمہ داریوں میں ناکام کیوں رہی اس ناکامی کی صورت میں سرزد ہونے والے جرائم کی پولیس بھی ذمہ دار قرار دی جاتی ہے اور سزا کی مستوجب بھی ہوتی ہے۔ہمارے ادنیٰ سرکاری کارندوں کی طرح ہمارے اعلیٰ ترین ارباب اختیار بھی ذمہ داریوں پر بہت کم توجہ دیتے ہیں اور اختیارات کو استعمال کرنے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ذمہ داریوں پر توجہ دینے سے گریز ان کے سامنے ’’انٹرنیشنل ائیرپورٹ‘‘ پر حملے کی ذمہ داریاں لا کھڑی کرتا ہے اور وہ ذمہ داریاں شمالی وزیرستان کے ’’فوجی آپریشن‘‘ تک جا پہنچتی ہیں اور یہ ’’فوجی آپریشن‘‘ اپنے ملک وطن عزیز کو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں سے واگزار کرانے کا قومی فریضہ بن جاتا ہے جس میں کامیابی کے سوا کوئی ’’آپشن‘‘ نہیں ہوتا نہ ہی ہو سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.