.

اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کی ضرورت

طارق انور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت ہندوستان کے دوستانہ ہاتھ اسرائیل کی طرف مضبوطی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اسرائیل کو اسلامی ممالک کے سینے میں نہ صرف مغرب کا خنجر مانا جا رہا ہے بلکہ فلسطین کو بھی اسرائیل اپنے ظلم و استبداد کی چکی میں پیس رہا ہے۔ اسی فلسطین کے بارے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ’’جس طرح انگلینڈ انگریزوں کا ہے، اسی طرح فلسطین فلسطینیوں کا ہے‘‘۔

عزیزان من! اسی فلسطین کی اقوام متحدہ کی رکنیت سمجھنے کے لیے ہمیں ’یو این او ‘ کے ذریعہ کی گئی فلسطین اور اسرائیل سے متعلق 1947ء کی پیش رفت کو سمجھنا ہو گا۔ یہ بات عام ہے کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ نے پیدا کیا۔ دنیا نے اس کی تائید اور امریکہ نے اسکی مدد کی۔ مگر حقیقت شاید اس کے بر خلاف ہے۔ حقیقتا ’’یو این‘‘ جنرل اسمبلی نے یہودی ملک بننے کی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے اسے فلسطین میں جگہ دینے کی بات کہی تھی۔ مگر اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا کام کبھی بھی سکیورٹی کونسل کے ذریعہ عمل میں نہیں آیا۔ جنرل اسمبلی نے اس تجویز کو اس وقت پاس کیا جب اسرائیل حامی لابی نے ’یو این ‘ جنرل اسمبلی میں دو تہائی رکنیت کے حصول کی خاطر بیشتر ممالک کو دھمکاتے ہوئے انہیں بطور رشوت ایک خطیر رقم پیش کی اور امریکی انتظامیہ نے اپنی خارجی مفاد کے بر عکس ’’ہیری ایس ٹرومین‘‘ کے صدارتی انتخابات میں مقامی اور وقتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی تائید کی۔

باوجود اس کے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، سی آئی اے اور پنٹگان نے اس کی شدید مخالفت کی۔ جنرل اسمبلی میں اس تجویز کے پیش اور پاس ہوتے ہی فلسطینی علاقے میں خونریزی اور دہشت کا ماحول ہو گیا۔ اسرائیل حامی تحریک کا جنگجو طبقہ جو جنگ کی تیاریوں میں پہلے سے مصروف عمل تھا، اس نے ’’یو این‘‘ پر دبائو بنانے اور فلسطین پر قابض انگیز حکومت کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس جنگ کو خاک اور خون میں تبدیل کر دیا۔

دراصل دہشت گردی کا آغاز بھی یہیں سے ہوا اور اسی کے سبب ’’یہودی ریاست‘‘ بننے کی کارروائی بھی شروع ہوئی۔ اس مسلح مظالم میں تین چوتھائی فلسطینیوں کو دربدر کرنے کی سازش رچائی گئی۔ ایک یہودی ملک کو ایسی سر زمین پر قائم کرنے کی تجویز پیش اور منظور کی گئی جہاں 95 فیصد غیر یہودی ایک عرصہ دراز سے آباد تھے۔ ان قدیم فلسطینیوں کی جڑوں کے ثبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج وہاں تمام طرح کے مظالم کے باوجود بھی 75 فیصد غیر یہودی بشمول عیسائی موجود ہیں۔ اس طرح ایک دروغ گو قانون کو جائز ٹھہراتے ہوئے’ یو این‘ جنرل اسمبلی کے ذریعہ امریکی انتظامیہ کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسرائیل 1947ء میں ایسے وقت میں وجود میں آیا جب علما، صادق پور اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شروع کی ہوئی تحریک آزادی کا چراغ ہندوستان میں اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگا اور برادران ہند کو آزادی کی ایک نئی صبح میسر ہوئی۔

انگریزوں کے قبضے والے فلسطین کو توڑ کر 1947ء میں اقوام متحدہ نے اسرائیل کے قیام کے لیے ایک تجویز پیش کی۔ دراصل 1947ء سے تقریبا پچاس سال قبل ‘‘Political Zionism’’ نام کی ایک تحریک یورپ میں شروع کی گئی جس کا مقصد فلسطین کے اندر نہ صرف ایک یہودی ملک کا قیام تھا بلکہ وہاں کے رہنے والے 95 فیصد مسلمانوں اور عیسائیوں کو جلا وطنی پر مجبور کرنا بھی تھا۔ استعماری منصوبہ ابھی اپنے شباب کو بھی نہیں پہنچا تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فلسطین کے اندر یہودی وں نے مار کاٹ کا بازار گرم کر دیا۔ چونکہ یہودیوں کو یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ انبیاء علیہم السلام کی اولاد، بنی اسرائیل، مسلمان اور نصاریٰ اپنی زمین سے بے پناہ محبت کرنے کے سبب اسے آسانی سے ترک نہیں کریں گے۔

متعدد فلسطینی اور اسرائیلی دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اپنے تخریب کاری کے جذبے سے لیس اور دولت سے مالامال یہودیوں نے یہ پروگرام بنایا کہ اول ہم فلسطینیوں کی زمینیں خرید کر ان پر قابض ہوں گے، لیکن اگر اس میں کامیابی نہیں ملی تو فلسطینیوں کو جلا وطنی پر مجبور کرنے کے لئے لوٹ مار کا بازار گرم کریں گے۔ جب زمین خریدنے کی ان کی تحریک مکمل طور پر ناکام ہو گئی تو انہوں نے انگریزوں پر دہشت طاری کرنے اور فلسطینیوں کو جلا وطنی پر مجبور کرنے کے لیے دہشت گرد گروپ پیدا کئے۔ اس امید کے ساتھ کہ انگریز چلے جائیں گے اور فلسطینی ذہنی طور پر پریشان ہو کر کچھ نہ کچھ زمین فروخت کرنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے۔ انہی دہشت گرد گروپوں میں سے Begin Menac بھی تھا۔ جو اپنے مذکورہ کارناموں کو گنواتے ہوئے آگے چل کر وزیر اعظم بھی بنا۔ نتیجتا مسلمانوں کی دشمنی میں شروع ہوا دہشت گردانہ نظام اب مسلمانوں پر ہی تھوپ دیا گیا، باوجود اس کے کہ ’’اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔‘‘

بالآخر پوری دنیا سے پہلے ہی پریشان انگریز حکومت نے یہودیوں کے دہشت گردانہ نظام سے عاجز آ کر برطانیہ کی زوال پذیر حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ اب فلسطین کو سنبھالنا امر محال ہے۔ چنانچہ 1947ء میں فلسطین چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے اس ایشو کو اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا۔ اس وقت یہودیوں کی آبادی فلسطین میں صرف 30 فیصد ہو چکی تھی اور زمینی ملکیت ایک فیصد سے بڑھ کر چھ فیصد تک جا پہنچی تھی۔ چونکہ اقوام متحدہ کی داغ بیل خود اعتمادی پر رکھی گئی تھی اس لیے امید تھی کہ اقوام متحدہ ایک جائز جمہوری عمل کے ذریعہ اس ملک کے نقشے کی صحیح بنیاد ڈالے گا۔ مگر یہودیوں کے دبائو کے سبب اس مسئلے کو یو این جنرل اسمبلی کے ذریعہ پاس کرانے کی تجویز پر مجبورا عمل کرنا پڑا۔ جہاں انہوں نے فلسطین کے 55 فیصد بنیادی حصے کا مطالبہ کیا۔ آگے حقائق اور دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ امریکہ کا محکمہ خارجہ یہودی اور یہودی نظام ک شدید مخالف تھا۔ اس نے اپنی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی اصول اور اس کے مفادت کے شدید خلاف ہے۔

اس رپورٹ کے خالق ’’ڈالنڈ نیف‘‘ نے بتایا کہ ’’لائے ہنڈرسن‘‘ نامی شخص ڈائریکٹر آف اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف نئیر سینٹرل اینڈ افریقین افئیرس کے زمہ دار نے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو وارننگ میں کہا ہے کہ ’’ اگر امریکی حکومت یہودی ریاست فلسطین میں قائم کرنے کی تائید کرتی ہے تو یہ امریکہ کی بڑی مقیم تعداد کے منافی ہو گا۔ اس کے سخت اثرات آئندہ دنوں میں مرتب ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مذید کہا کہ’’ امریکی حکومت اس اخلاق و وقار کی حامل ہے جو دنیا میں کسی اور ملک میں نہیں پایا جاتا۔ اگر ہم اپنے اس رویہ سے باز نہ آئے تو دنیا کی نظروں میں دھوکے باز بن کر اپنے اس وقار سے جس کو ہم نے جنگوں میں قائم کر رکھا ہے فورا نیچے آ جائیں گے، ہم کو اس کی سخت مخلافت کرنے چاہیے۔ امریکی حکومت کے ذریعہ یہودی ریاست کی تائید عوام سے مخالفت کے مترادف ہی ہے۔‘‘

انسانی اصولوں پر مبنی اس رپورٹ میں انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ’’ یہ امریکہ کے لیے نیا درد سر ہو گا اور دقتوں کے ساتھ نئی نئی دشواریاں ابھریں گی‘‘ ۔ ہنڈرسن نے آگے لکھا کہ یہودی ملک کا اس انداز میں بننا یو این چارٹر کے منافی اور امریکی حکومت کے اس تصور کے خلاف ہے جن بنیادوں پر سرکاریں بنتی ہیں، کیونکہ یہودی ملک کی حمایت عوامی اکثریت اور لوگوں کے کود اعتمادی کی توہین ہو گی۔‘‘ بہر حال 1947ء کے صدارتی انتخاب مین صدور کا اپنے مفادات کے مد نظر ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھنے کا معاملہ آج امریکہ کے لیے ایسا درد سر بنتا جا رہا ہے جسے امریکہ خود سے الگ نہ دیکھ پانے کے سبب یکے بعد دیگرے متعدد ممالک کی دشمنی مول لینے کے لیے مجبور ہے اور دنیا میں اس کی لعنت و ملامت بھی ہو رہی ہے۔

اس مختصر سے تعارف کے بعد اب ہماری موجودہ حکومت کو اسرائیل سے اپنے بڑھتے رشتوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر ترک تعلقات میں وہ عافیت نہیں سمجھتی ہے تو کم ازکم اسے احتیاط کے پہلو کر بروئے کار لانا چاہیے۔ کیونکہ حالات اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے وجود سے لے کر اب تک کسی کا دوست نہیں رہا ہے۔ دہلی میں اسرائیلی سفارتخانہ 1992ء میں کھلا۔ 1992ء کے بعد ہی ہمارے ملک میں ان گنت دہشت گردانہ واقعات ہوئے۔ ماضی کی سرکاروں کے ساتھ ساتھ موجود مودی سرکار کو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر وہ اسے اپنے ملک میں اسرائیلی قدم پڑنے کی برکت سمجھتی ہے یا کچھ اور ؟۔

دفاع کے شعبہ میں ہمارا ملک اسرائیل کے ساتھ جس طرح کے دوستانہ روابط کی بار کر رہا ہے وہ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور مودی حکومت کو سوچنا چاہیے کہ یہ چیز آئندہ اس کے گلے کی ہڈی بھی بن سکتی ہے۔ ہمارا رویہ شروع سے فلسطین حامی رہا ہے۔ ہمیں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں ہی کھڑے رہنا چاہیے۔ نصورت دیگر اسرائیل کی سابقہ اور مذکورہ تاریخ کے تناظر میں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی شر کو ہم اپنے گھر میں دعوت دیں گے تو وہ یقینا ایک نہ ایک دن ہمارے لیے زہر ہلاہل اور سم قاتل ثابت ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط پر نظر ثانی کرے ورنہ لمحوں کی خطا صدیوں پر بھاری پڑ سکتی ہے۔

[مضمون نگار کٹیہار لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا قومی تنظیم کے صدر ہیں]

بشکریہ روزنامہ "سھارا" دہلی

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.