انہیں ابوبکر البغدادی کی ریاست میں بھجوا دو

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ہماری اس اپیل کا اطلاق طلبہ، علماء، مبلغین، ڈاکٹروں، انجینئیروں، جج حضرات اور ان لوگوں پر ہوتا ہے جو عسکری اور انتظامی تجربہ رکھتے ہوں۔ یہ اپیل داعش کی اعلان کردہ اسلامی ریاست کے لیے خود کو خلیفہ کے طور پر پیش کرنے والے ابو بکر البغدادی کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ البغدادی کے اعلان کے مطابق عراق و شام کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا کے مسلمانوں کے لیے بھی خلیفہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلامی ریاست کی طرف ہجرت کریں۔ بقول ان کے اسلامی ریاست کی طرف ہجرت ایک مذہبی فریضہ ہے۔ اس اپیل کے بعد سوشل میڈیا پر پر تبصرے ابل پڑے ہیں۔ ان میں داعش کا مضحکہ اڑانے والے تبصرے بھی موجود ہیں۔

تاہم سبھی لوگوں نے داعش کو احمقانہ مذاق نہیں سمجھا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس عسکری گروپ کی مشہوری کی ہے اور اس کے ساتھ مل کر لڑنے کی اپیل بھی کی ہے۔ اگرچہ خطے کے اکثر ممالک نے شام اور عراق میں جاری تشدد کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کی طرف اپنے شہریوں کے سفر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ بعض لوگوں کی رائے میں مبلغین اور اور علماء کو عراق و شام میں بھیجنے کی تجویز بری نہیں ہے۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو داعش کی حمایت کرتے ہیں اور اس میں شامل ہو کرلڑائی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت کافرانہ معاشرے کی زندگی سے لطف اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ یہ خلیجی ممالک میں ہو، دوسرے عرب ملکوں ہو یا مغربی ممالک میں ہو۔

سنہ 1990 کی بات ہے جب خلیجی ملک میں ایک عرب امام ہر رات نمازیوں کو کویت کو صدام کی فوجوں سے کی آزادی کے لیے آنے والی امریکی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے لیکچر دیتا تھا۔ ایک رات جب اس نے نماز کی ادائی مکمل کر لی تو سکیورٹی فورسز نے اس کے دروازے پر دستک دی کہ اس کی اشتعال انگیز تقاریر کی وجہ سے اسے ''ڈی پورٹ'' کیا جا رہا ہے۔ اسے بتایا گیا اسے ''ڈی پورٹ '' کرنے کے لیے عراق کے شہر بصرہ جانے والے ایک بحری جہاز کی نشست محفوظ کرائی گئی ہے تاکہ وہ عراق جا کر جہاد میں اپنی مرضی کے مطابق حصہ لے سکے۔ سکیورٹی فورسز کو نرمی پر آمادہ کرنے کے بعد اس نے ایک معافی نامہ لکھ کر دیا کہ آئندہ وہ کبھی بھی تشدد پر ابھارنے کی بات نہیں کرے گا۔

اس طرح کی ملتی جلتی اور بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔ ایسے بہت سے علماء ہیں جو ہر روز میڈیا پر فتوے دیتے اور مساجد میں بیٹھ کر تقریریں کرتے ہوئے داعش کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کے حامیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے اپنے بیٹے خلیفہ کے گھر عراق و شام کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے جائیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ان کا خلیفہ البغدادی انہیں بلا رہا ہے تاکہ یہ اسلامی ریاست کا حصہ بن جائیں۔ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اسلامی ریاست کو یاد رکھیں۔ وہ ایک خلافت ہے اور وہاں ایک خلیفہ ہے۔ اس لیے اب ان کے پاس کسی قسم کے بہانے یا معذرت کا ہر گز جواز باقی نہیں ہے کہ یہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائی میں کوتاہی کریں۔ بلکہ ایسے لوگوں کو ان کی تخیلاتی ریاست میں پہنچانا دوسروں کی بھی ذمہ داری بن گئی ہے۔

لیکن تمام کے تمام انتہا پسند داعش اور النصرہ فرنٹ کے لیے کسی جذباتیت کا شکار نہیں ہیں۔ ابو محمد المقدسی جنہیں حال ہی میں اردن کی ایک جیل سے رہا کیا گیا ہے القاعدہ کے پراسرار اور مشہور فلاسفر ہیں۔ وہ داعش کے حامی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود کہ انہیں دنیا بھر میں انتہا پسندی کے حوالے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے طویل خط میں داعش کے حوالے سے لکھا ہے کہ رہائی سے پہلے ذرائع ابلاغ کے ذریعے میرے علم میں آیا کہ داعش اور النصرہ فرنٹ نام کی دو متنازعہ تنظیموں نے مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔ میں نے ان مظالم کا سنا تو ان کی مذمت کی۔ جب میں رہا ہوا تو میں نے میں ان بیان کیے گئے مظلم کا جائزہ لیا۔ تو میں نے محسوس کیا ان واقعات کے ذمہ دار جہادی تو کیا مذہبی کہلانے کے بھی حق دار نہیں ہیں۔ انہیں عام بازاری لوگ کہنا چاہیے۔ ان کی حیثیت ان کی بات چیت اور بازاری لہجے کو دیکھ کر لاوارث بچوں، حتی کہ طوائفوں کے بچوں والی ہو سکتی ہے۔

مقدسی نے تو داعش کے خلاف لڑنے تک کیلیے زور دیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک قوم کو یرغمال بنانے کا واقعہ ہے۔ یرغمال ایسے لوگوں نے بنایا ہے جو مذہبی دعوی رکھتے ہیں۔ ان کی ریاست بدمعاشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے حالت جنگ میں ہے۔ اپنے سیاہ جھنڈے تلے وہ نہتے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، بچوں کو اغوا کرتے ہیں اور خواتین کی عصمت دری کرتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں