عراق سے بھارت کی لاتعلقی

کلدیپ نائر
کلدیپ نائر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عراق میں آج جو ہو رہا ہے وہ اس مخاصمت کا نتیجہ ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ متحارب گروہوں کے لیڈروں نے کبھی میز پر بیٹھ کر اختلافات حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس صورت حال میں اسلام کا نام بدنام ہوا ہے۔ فرقہ واریت کا شکار انتہا پسند گروہ ایک دوسرے کو کافر کہنے سے نہیں ہچکچاتے۔

بھارت چونکہ اجتماعیت پر یقین رکھنے والا معاشرہ ہے لہذا وہ رواداری اور برداشت کی اپنی روایات کی مثال دے کر عراق میں مفاہمت کرا سکتا ہے لیکن اس نے الگ تھلگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے مبادہ اس پر دشمنی کی آگ کو ہوا دینے کا الزام نہ لگ جائے۔ بھارت میں لکھنو اور دیگر مقامات پر شیعہ سنی فسادات ہوئے ہیں۔ اگرچہ حکومت مکمل طور پر غیر جانبدار رہی پھر بھی شیعہ اور سنی دونوں کی طرف سے حکومت پر جانبداری کا الزام لگتا رہا۔

میری خواہش ہے کہ نئی دہلی کی حکومت مغربی ایشیاء میں مفاہمت کرانے کے لیے کچھ زیادہ کوشش کرتی۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ یہاں دونوں مسالک کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے اور دوسرا یہ کہ شیعہ سنی عداوت کے بھارت پر بہت مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نئی دہلی حکومت بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ممبر تھی کیونکہ اس ملک میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی رہتی ہے لیکن بھارت کو اپنی سیکولر ازم کی سوچ کی وجہ سے اس تنظیم سے الگ ہو جانا پڑا۔

واشنگٹن بھی بھارت کو او آئی سی سے باہر دھکیل رہا تھا۔ امریکی یہ نہیں چاہتے کہ مشرق وسطیٰ میں ان کے مقابلے میں کسی ایسی تنظیم کا وجود ہو جو موثر کردار ادا کر سکے، جب کہ پس منظر میں امریکا ہی ڈوریں ہلاتا ہے۔ ماسکو نے بعد میں دہشت گردوں کو ترقی پسند قرار دے کر ان کا کھلم کھلا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ لیکن جس بات کا نئی دہلی حکومت کو احساس نہیں وہ یہ ہے کہ اگر عراق کے تنازعے کو درست طریقے سے حل نہ کیا گیا تو فرقہ وارانہ لڑائی بہت پھیل جائے گی اور یہ لڑائی مختلف مقامات پر لڑی جائے گی اور بھارت نہ چاہتے ہوئے بھی اس لڑائی میں ملوث ہو جائے گا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ بھارت اپنے اسٹاک میں رکھے لکھے لکھائے روایتی بیانات جاری کرنے کے بجائے، کہ وہ حالات کا جائزہ لے رہا ہے، زیادہ موثر کردار ادا کرے۔

بھارت میں جمہوریت کی مقدار خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو اس کو بھارت نے اس وجہ سے متعارف کرایا تا کہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو آواز دی جا سکے اور نہ صرف یہ بلکہ مغرب کے اس پراپیگنڈے کو بھی غلط ثابت کیا جا سکے کہ اسلام اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ عراق کے صدام حسین اگرچہ ایک آمر یا ڈکٹیٹر تھے مگر وہ نئی دہلی حکومت کی عوام کو محدود حقوق دینے کی پالیسی سے بہت متاثر تھے لیکن جانے کیا وجہ تھی کہ سینئر صدر بش کو صدام سے بہت نفرت ہو گئی تھی امریکی صدر کو یہ شک بھی تھا کہ صدام خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر اس نے ایسا کر لیا تو پھر اسے قابو میں لانا ممکن نہیں رہے گا۔

پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کو جو ملک کے وزیراعظم بن گئے تھے انھیں بھی دنیا کا پہلا اسلامی بم بنانے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ آج مغرب کی طرف سے پاکستان کو امداد دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود اسلام آباد کو شبہ ہے کہ امریکا کے عزائم اچھے نہیں ہیں اسی وجہ سے ملک میں امریکا دشمنی کے جذبات فراواں ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہوتے تو وہ دونوں مل کر مغربی ایشیاء کے حالات پر اثر انداز ہو سکتے تھے اور امریکا کی طرف سے خوامخواہ کی مداخلت کا جواز ختم ہو سکتا تھا۔

سیاست میں‘ بلکہ دیگر شعبوں میں بھی پیدا ہونے والا خلا جلد ہی پُر ہو جاتا ہے۔ القاعدہ نے جو طالبان کی رہنمائی کر رہی ہے اس خلا کو پر کر لیا ہے۔ پورے خطے میں بنیاد پرستی کا خطرہ پھیل رہا ہے جو نوجوانوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے جیسے پاکستان میں نوجوان لڑکے متاثر ہو رہے ہیں۔

اس سے بھارت کے لیے ایک خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ یہاں بھی پندرہ سولہ کروڑ مسلمان ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں کے واقعات سے متاثر ہو رہے ہیں اور چونکہ بھارت کے پارلیمانی انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے اپنا رخ دائیں بازو کی طرف موڑ لیا ہے تو اس سے جمہوری بھارت اور القاعدہ سے متاثرہ شمالی علاقوں میں فاصلہ بڑھتے بڑھتے ایک وقت میں ناقابل عبور ہو جائے گا اور صرف یہی نہیں بلکہ ہندوئوں کی بنیاد پرستی میں بھی خاصی شدت پیدا ہو جائے گی۔ بھارت کا دعویٰ جمہوری‘ اجتماعیت اور مساوات پر مبنی معاشرے کا قیام ہے جو اب خطرے میں پڑ جائے گا۔ لیڈر اور حکومتیں مذہب کو سیاست سے خلط ملط کر دیں گی یہ ایسی چیز ہے جس کی آزادی کے بعد سے کامیابی کے ساتھ مدافعت کی گئی ہے حالانکہ برصغیر کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہی عمل میں آئی تھی۔

اس سے سیکولرازم کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت اور بھی شدید ہو جاتی ہے تا کہ بنیاد پرستی کے سامنے بند باندھا جا سکے۔ نئی دہلی حکومت کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لینے سے وہاں بہتر جمہوری حکمرانی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ عرب بہار جیسی تحریکیں مغربی ایشیا کے بیشتر ملکوں میں مطلق العنان حکومتوں کے خلاف تھیں۔
عراق میں ایک نئی آویزش کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ انتہا پسند ہندو بھی ایک مسلک کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔

نئی دہلی حکومت کہتی ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کی اقتصادی طور پر مدد کرے گی۔ ان کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے جو مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں۔ اگر کشیدگی بڑھ گئی تو ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح کی صورت حال پہلے بھی پیدا ہو چکی ہے جب اسرائیل امریکا اور انگلینڈ کے اس دبائو کی مزاحمت کر رہا تھا کہ یہودیوں کو جولان کی پہاڑیوں یا اس طرح کے دیگر علاقوں میں مقیم نہ کیا جائے۔ اب مناسب وقت ہے کہ بھارت زیادہ قابل عمل اقدامات کرتے ہوئے ایک خصوصی ایلچی وہاں بھجوائے جو شیعہ اور سنی لیڈروں میں مفاہمت کرانے کی کوشش کرے بصورت دیگر کوئی بعید نہیں کہ انتہا پسند قوتیں کامیاب ہو جائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں