.

جان کیری کا اعتراف

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا جب دنیا کی عظیم طاقت کے وزیر خارجہ نے ایک چینی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلا جھجھک یہ کہا کہ عراق جنگ امریکا کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو بعد از مرگ واویلا سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

مہلک ہتھیاروں کی تلاش میں امریکی فوجیں جب تمام بین الاقوامی قوانین کو روندتی ہوئی عراق میں داخل ہوئیں تو دنیا کے بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ صدام حسین اپنے جس ناقابل تسخیر دفاعی نظام کا دعویٰ کرتے تھے‘ وہ یقیناً امریکی فوجوں کی قدم قدم پر مزاحمت کرے گا لیکن جہاں امریکا کے یہ دعوے جھوٹ ثابت ہوئے کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کے انبار ہیں جن کو اپنی تحویل میں لینا اور انھیں تباہ کرنا امریکا کی عالمی ذمے داری ہے, وہیں صدام حسین کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے بھی محض ان کا بڑ بولا پن تھے ۔

امریکا نے نائین الیون کو بنیاد بناتے ہوئے پہلے افغانستان اور پھر عراق کو جس طرح وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا‘ اس نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور 2001ء سے آج تک بین الاقوامی برادری ان اقدامات کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ یہ کہا جائے تو مناسب ہو گا کہ ان امریکی حملوں کے بعد دنیا کی سیاست سر کے بل کھڑی ہو گئی۔

یہ عراق پر امریکی حملہ تھا جس کی مخالفت میں 15 فروری 2003ء کو ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ہماری دھرتی نے جنگ پر جانے والے گھوڑوں کی ٹاپوں، میدان جنگ کی طرف بڑھنے والوں کے بوٹوں کی دھمک اور محاذ کی طرف بڑھتے ہوئے ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ کی بجائے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے سیکڑوں شہروں میں تین کروڑ سے زیادہ انسانی قدموں کی چاپ سنی۔ ان میں عورتیں، مرد، بوڑھے، بچے، عیسائی، یہودی، ہندو، مسلمان، دنیا دار اور دین دار تھے، ان میں دائیں اور بائیں بازو والے’’کمیونسٹ اور اینٹی کمیونسٹ‘‘ کالے اور گورے سب ہی شامل تھے ۔

باپ چھوٹے بچوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے، مائیں شیر خوار بچوں کو سینے سے لگائے ہوئے، کوئی انگریزی کوئی فرانسیسی، کوئی ہسپانوی، کوئی عبرانی بولتا ہوا، کسی کے لبوں پر اطالوی اور کسی کی زبان پر عربی۔ کون سی نسل تھی جو دنیا کے 60 سے زیادہ ملکوں کے ان ایک کروڑ مظاہرین میں شامل نہ تھی اور کون سے عقیدہ، کون سا قبیلہ تھا جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر جنگی جنون کے سامنے بند باندھنے نہیں نکلا تھا۔

یہ لوگ شدید ترین سردی میں اپنے گرم اور نرم بستروں کو چھوڑ کر عراقی باشندوں کے ساتھ یکجہتی اور امریکا کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نفرت کا اظہار کر رہے تھے۔ ان میں معذوروں، بوڑھوں، پنشن یافتہ فوجیوں، مراعات یافتہ نوجوانوں، پیٹ بھروں اور فاقہ مستوں کے جتھے تھے جو امریکا، برطانیہ اور ان دونوں ملکوں کے حلیفوں کے استعماری عزائم کی راہ میں مزاحم ہونے کے لیے نکلے۔ دنیا کے چھ براعظموں کے ان کروڑوں باضمیر انسانوں نے اپنی بے ضمیر حکومتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ۔
15 فروری 2003ء کا دن اکیسویں صدی کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اس روز دنیا بھر کے اور بہ طور خاص یورپ اور امریکا کے 600 سے زیادہ شہروں میں امریکا کی جنگجو یانہ پالیسیوں کے خلاف تین کروڑ عورتیں مرد، بچے، بوڑھے، نسلی، مذہبی، صنفی، علاقائی اور لسانی حد بندیوں کو مٹاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کی ۔ انھوں نے عیسائی، یہودی، ہندو اور مسلمان ہونے کی بجائے انسان ہونے کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے ’حبِ وطن‘، ’قومی مفاد‘، اور ’تہذیبوں کے تصادم‘ جیسے تمام معاملات و نظریات کو رد کرتے ہوئے جنگ پسند امریکی انتظامیہ کو یہ بتا دیا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کے عوام اب کسی نئی جنگ کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن افسوس کہ دنیا کے ان کروڑوں انسانوں کی ایک نہیں سنی گئی اور صدر بش کی سربراہی میں امریکی انتظامیہ نے وہی کیا جو وہ کرنا چاہتی تھی۔
امریکا کسی بد مست ہاتھی کی طرح دنیا کو روند دینا چاہتا تھا۔ اور ہم نے دیکھا کہ ساری دنیا کی عوامی خواہش اور احتجاج کے باوجود امریکی صدر بش جونیر نے افغانستان‘ اور عراق کو اپنی عظیم قوت سے کچل دیا اور اس کا انجام افغانستان اور عراق کی تباہی کی صورت میں نکلا۔ ظلم و جبروت پر مبنی اس فوج کشی کے نتیجے میں ہم بھی براہ راست متاثر ہوئے اور پاکستان کی قومی وحدت اور ایک کثیر المشرب معاشرت پارہ پارہ ہو گئی.

آج شمالی وزیرستان کے ہمارے لاکھوں شہری در بہ در ہیں، ہفتوں وہاں فضا سے بمباری ہوتی رہی ہے اور اب زمینی یلغار ہو رہی ہے۔ بارود اور بم بنانے کی فیکٹریاں تباہ کی جا رہی ہیں، دہشت گردوں کا صفایا ہو رہا ہے۔ ہماری آباد بستیاں خاک میں مل رہی ہیں۔ یہ سب کچھ افغان اور عراق جنگ کا شاخسانہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ آج جب یہ کہتے ہیں کہ عراق جنگ ہماری سنگین غلطی تھی جس کا ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں تو وہ صرف امریکی دولت کے زیاں اور اپنے چند ہزار فوجیوں کی ہلاکت یا معذوری کی بات کرتے ہیں۔
شاید انھیں اس امریکی ساکھ کی بربادی کا بھی صدمہ ہو جسے ویتنام پر ہونے والی لشکر کشی نے شدید نقصان پہنچایا تھا لیکن افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کی مداخلت نے اسے پھر سے تہس نہس کر دیا تاہم حقیقت تو یہی ہے کہ اصل نقصان عراق اور شرق اوسط کے دوسرے ملکوں اور پاکستان کو پہنچا۔ عراق میں بے گناہ اور معصوم شہریوں کی لاشوں کے انبار ہیں، مسلکی منافرت کی آگ اس ملک کو خاکستر کر رہی ہے۔ وہ خطہ جہاں ہزاروں برس پہلے انسانی تہذیب نے جنم لیا تھا، اس کے تاریخی شہر آج کھنڈر ہو چکے ہیں ۔

عراق پر غاصبانہ قبضے کے لیے امریکا نے جو لشکر کشی کی وہ مرے کو ماریں شاہ مدار والی بات تھی۔ اس حملے سے دس برس پہلے عراق پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں، انھوں نے تیل سے مالا مال اس ملک کے 5 لاکھ شیر خوار بچوں کی جان لے لی تھی اور لاکھوں افراد دوائیں اور خوراک دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ افراط زر نے امیر عراقیوں کو غریبوں کی صف میں لاکھڑا کیا تھا۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد سے آج تک عراقیوں کو ایک دن کا سکون نصیب نہ ہو سکا۔

عراق ہو یا افغانستان دونوں ملکوں سے امریکی فوجوں کا انخلا، ہلاک ہو جانے والے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں واپس نہیں لا سکے گا اور نہ بغداد ایسے شہر کی وہ فضائیں لوٹ سکیں گی جن میں الف لیلہ و لیلہ جیسی ناقابل فراموش داستان نے جنم لیا تھا۔ شہر زاد اور دنیا زاد کی پرچھائیاں بھی اس جنگ کی آگ میں پگھل گئیں۔ جان کیری آج عراق جنگ کو امریکا کی ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہیں۔ ان کے اس انٹرویو پر امریکا میں قدامت پسندوں کی طرف سے بہت شدت کے ساتھ تنقید ہو رہی ہے۔ ان پر یہ اعتراضات 2005ء میں بھی ہوئے تھے جب اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکی سپاہی رات کے اندھیرے میں عراقی گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔
بچوں اور عورتوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں اور ان تمام تاریخی روایات اور مذہبی رسوم کو تہس نہس کرتے کر دیتے ہیں جو انسانی برادری کا مشترک سرمایہ ہیں۔ 1971ء میں کانگریس کے سامنے گواہی دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ویتنام میں امریکی فوجیوں نے خواتین کی بے حرمتی کی، بے قصور شہریوں کو گولیوں سے بھون دیا، اناج کے ذخیروں میں زہر ملا دیا اور سیکڑوں دیہاتوں اور آبادیوں کو چنگیز خان کے انداز میں زمیں بوس کر دیا۔ میں آج اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے بھی دوسرے امریکی فوجیوں کی طرح یہی کچھ کیا۔ کانگریس کمیٹی کے سامنے ان جنگی جرائم کا اعتراف ایک بہت مشکل امر تھا لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جان کیری نے یہ بیان پل صراط پر چل کر دیا۔

جان کیری اس اعتراف کے بعد بہت بدلے اور اسی لیے بعد کے دنوں میں انھوں نے کھل کر ری پبلکن صدر جارج بش جونیر اور ڈک چینی پر کڑی تنقید کی۔ پچھلے دنوں انھوں نے عراقی جنگ کے حوالے سے کہا کہ جن لوگوں کو عالمی برادری، امریکی عوام اور امریکی فوجیوں سے معافی مانگنی چاہیے وہ صدر جارج بش اور ڈک چینی ہیں، انھوں نے امریکا کو ایک غلط جنگ میں جھونک دیا اور ہمیں ایک ایسی جارحانہ خارجہ پالیسی دی جس نے ہمارے رہنما اصولوں سے غداری کی۔ ہمارے سپاہیوں کو ہلاک اور معذور کیا اور دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کی بجائے اسے مزید وسعت دی۔

یہ وہ اعترافات ہیں جو امریکی سوچ کا ایک دوسرا رخ ہمیں دکھاتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ اعترافات لاکھوں لوگوں کو زندہ نہیں کر سکتے‘ برباد شہروں کو آباد نہیں کر سکتے۔ تیل کے عراقی کنوؤں پر غاصبانہ امریکی قبضہ ختم بھی ہو جائے تو عراق کی ہزاروں برس قدیم ثقافت اور تاریخ میں نئی روح نہیں پھونکی جا سکتی۔ ایک خود دار قوم اس وقت تقسیم اور افلاس کی دلدل میں دھنس رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ اعتراف کہ اس ملک پر امریکی حملہ ایک سنگین غلطی تھی کسی کے دکھ کا مداوا نہیں لیکن یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ غلطی کا کھلے عام اعتراف زندہ قوموں کا وطیرہ ہوتا ہے۔ سوچنا چاہیے کہ ہمارے حکمرانوں اور امریکا دشمن رہنماؤں نے بھی کبھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.