.

ضرب عضب اور قومی یک جہتی

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کافی برس گزرے ایک جرمن استاد نے ہمیں ٹی وی پر کیمرے کے سامنے آ کر بہتر انداز میں بولنے کا ایک سنہری گر بتلایا۔ اُس نے کہا ’’کیمرہ آپ کا دوست نہیں دشمن ہے۔ جتنی جلد ہو سکے اس سے جان چھڑوا کر اُس کا رخ دوسرے کی جانب موڑ دیں‘‘۔ اس مشورے کی دانش مندی مجھے کافی عرصے کے بعد سمجھ آئی۔

یہ مردِ دانا ہمیں غیر ضروری تشہیر سے بچنے کی صلاح دے رہا تھا۔ کیمرے کے سامنے آ کر لمبی لمبی تقریریں جھاڑنے اور ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا لالچ اگر عادت بن جائے تو یہ خود کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔ مقدار سے زیادہ میٹھا کڑواہٹ میں بدل جاتی ہے۔ آپ جتنا زیادہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالیں گے وہ دیکھنے والوں کو اتنا زیادہ آپ کے بارے میں بتلا تا چلا جائے گا۔ وہ جرمن اکثر کہا کرتا تھا کہ صحافی کے لیے خود سے متعلق غیر ضروری تشہیر اور اپنے کام سے منسلک پڑھنے، لکھنے اور سننے والوں کی توقعات کو اعتدال میں رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر اس امتحان کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو رنج و غم مقدر بن جائے گا۔
آپ ساری زندگی اپنے بارے میں غیر حقیقی تصور کو پالتے ہوئے گزار دیں گے۔ اصل کام کرنے کی صلاحیت کھو دیں گے۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے فوراً بعد ذرائع ابلاغ میں جس قسم کی اشتہاری مہم شروع ہوئی ہے سچی بات ہے مجھے اُس سے خوف آ رہا ہے۔ یو ں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے اس تمام سرزمین کی روح میرعلی، میرام شاہ اور دتہ خیل کی تکون میں جکڑی ہوئی ہے اور اگر اس کو آزاد نہ کروایا گیا تو ہم بحیثیت تہذیب ختم ہو جائیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں پھیلی ہوئی دہشت کی بہت سی جڑیں ان علاقوں میں سے نشو و نما پاتی رہی ہیں۔ اس کارروائی کو کیے بغیر کبھی بھی منظم دہشتگردی پر ضرب کاری نہ لگا سکتے تھے۔ ویسے بھی گزشتہ چھ سال سے ہونے والی درجنوں کارروائیوں کو حتمی طور پر با ثمر بنانے کے لیے فاٹا کی اس ایجنسی کے ان علاقوں میں کارروائی نا گزیر ہو چکی ہے۔
لہذا جو ہو رہا ہے درست ہو رہا ہے۔ مگر میرا اعتراض اُس غیر معمولی اور غیر فطری واویلے پر ہے جس کو ہر کوئی اپنا قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دینے پر مامور ہو گیا اور جس کے پیچھے چند حلقے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ مثلاً میڈیا پر چند ایک خواتین اور حضرات جو کبھی اپنے دفتروں میں سے باہر نہیں نکلتے شمالی وزیرستان میں کارروائی کو ’فوجی بقاء‘ کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ ہر روز ایسا سماں باندھتے ہیں کہ جیسے اس سے پہلے اس ملک کو نہ کوئی خطرہ تھا اور نہ اس کے بعد ہو گا۔

اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور ماضی میں کی ہوئی ادارتی غلطیوں کے ازالے کے طور پر وہ فوج کے ترجمان سے بڑھ کر کامیابیوں کے قصے لے کر اس انداز سے کہانی بیان کرتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی کارروائیوں کی تفصیل ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ حلقہ ضرب عضب میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ اس کارروائی کے سائے تلے خود کو فوج سے محبت کرنے والوں کی صف میں کھڑا کرنے کی جستجو میں ہے۔ یہ کوئی ایسی معیوب بات بھی نہیں۔

ہر قومی ادارے کے لیے ہر پاکستانی کے دل میں جگہ ہونی چاہیے۔ اور جب جوان اور افسر چاہے وہ پولیس کے ساتھ ہوں یا فوج کے، ملک کے حصوں کو جرائم پیشہ افراد کے چنگل سے چھڑانے یا دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو اُن کو یہ تسلی ہو نا چاہیے کہ قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے۔ مگر تعریف و توصیف بھی مناسب مقدار میں ہونی چاہیے۔ معاونت و مدد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوشامد کے انبار لگا دیئے جائیں۔ ویسے بھی صحافی کا کام سوال کرنا ہے کسی کے حق میں دھمال ڈالنا نہیں۔
مگر دھمال صرف ذرائع ابلاغ کے بعض افراد ہی نہیں ڈال رہے حکومت اور سیاسی جماعتیں بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ نواز لیگ نے پچھلے چند ماہ میں فوج کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے مداوے کو آپریشن ضرب عضب کی غیر معمولی تشہیر کا مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔ ایک ایسے خاوند کی طرح جو اپنی بیوی کو دھوکہ دینے کے بعد تحفے تحائف کے انبار لگا کر اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر حد پھلانگ دیتا ہے۔

حکومت بھی ایسی ہی کیفیت میں مبتلا نظر آتی ہے۔ کہنے کو نام ضرب عضب کا ہے مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے اس کے ذریعے نواز لیگ ان تمام خطرے کے بادلو ں کو ا فق سے اُڑانا چاہتی ہے جو اس کی حماقتوں کی وجہ سے گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔ چند ایک سیاسی جماعتیں اپنے کرتوتوں پر سے توجہ ہٹانے کے لیے ضرب عضب کی چوبیس گھنٹے والی تسبیح پھیرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے لیے شمالی وزیرستان میں بننے والے حالات موسم بہار کی پھوار ثابت ہو رہے ہیں۔ تمام گناہ بخشوانے کا ذریعہ اب ضرب عضب کا چلہ ہے۔ اس کو کاٹنے سے ہر کوئی اپنی سیاسی راحت کا بندوبست کر رہا ہے۔

ظاہراً اس قسم کے مظاہروں میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ فوج کو یہ اطمینان دلوانا ضروری ہے کہ کسی بھی وجہ سے تما م اہم قوتیں ان کے ساتھ تو کھڑی ہیں۔ مگر اس سب تشہیر کے نقصانات بھی ذہن میں رکھنے چاہئیں۔ ہم نے ’’قومی بقاء‘‘ کو اتنا ثابت کر دیا ہے کہ ہر کوئی اس کے لیے خطرہ بنتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ اگر ہم گھر میں موجود چند سو مجرموں سے دو دو ہاتھ کرنے کو قومی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں تو ہمارے بڑے دشمن ہماری طاقت اور قابلیت کے بارے میں کیا نتائج اخذ کر رہے ہوں گے۔

دوسرا منفی پہلو اس بحث سے متعلق ہے جو ہر جمہوری معاشروں میں کسی بھی عسکری مہم یا کارروائی سے متعلق ہونی چاہیے۔ ماضی میں جتنے بھی فوجی آپریشن ہوئے ان کی اہمیت کو چیلنج کیے بغیر ان کے طریقہ کار، نتائج اور روزمرہ جاری کیے جانے والے سرکاری بیانات کا باقاعدہ تنقیدی جائزہ لیا جاتا تھا جس سے حقائق کو جاننے میں کچھ آسانی ہوتی تھی۔ اس مرتبہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ضرب عضب جاری ہے بس یہی کافی ہے۔ اس سے متعلق کسی قسم کا سوال پوچھنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ کسی کو اس سوال و جواب کی ضرورت کا احساس۔ ان کارروائیوں کی نوعیت سے لے کر ان میں ہونے والے دہشت گردی کے نقصان اور ریاست کی طرف سے استعمال کی جانے والی طاقت کے قانونی پہلو تک کوئی زاویہ اس وقت کسی مباحثے کا حصہ نہیں ہے۔

ہر کسی نے یہ مان لیا ہے کہ اس سے بڑا معرکہ ہماری تاریخ میں کبھی ہوا ہی نہیں اور نہ کبھی ہو گا۔ ہر کوئی یہ توقع کر رہا ہے کہ اس کے بعد ہمارے ملک میں فساد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ نہ دہشت گرد رہے گا اور نہ دہشت گردی۔ ہر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ سب کچھ توقعات کے عین مطابق چل رہا ہے۔ اور ہر روز درجنوں دہشت گرد نیست و نابود ہو رہے ہیں ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ مگر پھر ایسا نہ ہوا تو ؟ اس کی کسی کو فکر نہیں۔ اور ہو بھی کیوں۔ یہاں حقائق کی کیا وقعت ہے۔ جو بھی کہہ دیں سچ بن جاتا ہے۔ تشہیر کارنامہ ہے۔ بعد کی باتیں بعد میں دیکھ لیں گے۔ ہمیں اس رویے کو تبدیل کرنا ہو گا۔ خطرے سے نظر ہٹائے بغیر اس کی غیر ضروری منادی سے گریز کرنا ہو گا۔

اپنے ملک میں دہشت گردوں سے نپٹنے کو فتوحات کا نام دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنی سرزمین پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی ڈینگیں مارنے میں کوئی بڑائی نہیں۔ دہشت گردی کا پھیلا ؤ وسیع ہے ایک نقطے کو ہی گھورتے رہے تو دوسرے خطرات اندرونی امن کو تباہ کرتے رہیں گے۔ کراچی کا حال آپ کے سامنے ہے وہاں پر سیاسی قوتیں پولیس تعیناتیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ بکتر بند گاڑیوں کی خریداری میں کروڑوں روپے کے گھپلے کیے جا رہے ہیں۔

آپریشن سے ہونے والے فوائد کو آہستہ آہستہ ضایع کیا جا رہا ہے۔ سند ھ میں ہونے والے اس سکینڈل پر کسی کی توجہ نہیں۔ شمالی وزیرستان میں استحکام آئے گا تو کراچی پرانی روش پر واپس آ چکا ہو گا۔ یہ حالت اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ہم دہشت گردوں کے معاملے کو اپنے کیرئر میں ٹرافی حاصل کرنے کا ذریعے بنانے کی بجائے ایک ایسی قومی ذمے داری نہیں سمجھیں گے جو ہر کسی کو ہر کونے میں سر انجام دینی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.