.

مودی حکومت کا دستور زباں بندی

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتیہ جنتا پارٹی 'بی جے پی' کی حکومت اپنے آپ کو کچھ مختلف ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے مرکزی وزراء کو پوری طرح خاموش کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے وزیروں کو مختلف قسم کی ہدایتیں جاری کر رکھی ہیں جو ان کی لب کشائی پر پابندی کے مترادف ہے۔ یعنی مرکزی وزراء اپنے طور پر نہ میڈیا سے گفتگو کر سکتے ہیں [مودی کی منظوری کے بغیر] نہ اہم فیصلے کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے لئے ذاتی اسٹاف کی تقرری کا اختیار ہے۔

مودی نے اس تعلق سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ حکم دفتر وزیر اعظم کی جانب سے ہی جاری ہو گا اور یہ بھی کہ حقیقی اختیارات صرف دفتر وزیر اعظم یعنی پی ایم او کے پاس ہی ہیں اور رہیں گے۔ بی جے پی حکومت کے مرکزی وزراء کو مرکزی کابینہ کی جانب سے جو ہدایتیں ملیں گی، ان کے مطابق انہیں عمل کرنا ہو گا۔ ایسا نہ کرنے پر وہ ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ بی جے پی حکومت کا یہ طریق کار خوش آئند ثابت ہوتا ہے یا نہیں لیکن یہ تو ظاہر ہے کہ یہ وزراء کی کڑی نگرانی اور سینسر شپ کے مترادف ہے اور مرکزی وزراء اس سے قبل اتنی نگرانی کے کبھی عادی نہیں رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کو آسمان پر بٹھانے والے میڈیا کی ذمہ داری بھی ختم ہو چکی ہے۔ یعنی مودی اپنی حکومت اور وزیروں کو اب صحافیوں سے دور دور ہی رکھنا چاہتے ہیں اور جب حکومت چاہے گی تبھی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں اور پریس کانفرنسیں ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت نے رائے سیناہل میں اخبارات اور نیوز چینلوں کے نمائندوں کے کیمرے لے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ بہر حال یہ ٹھیک ہی ہوا کہ اب وزیروں کا انتظار کرتے کرتے چینلوں کی ٹیم کو اپنے کیمروں کی بیٹری اترنے کی فکر نہیں ستائے گی۔ وزراء سے ملاقات کرنے کے لئے انہیں پیشگی اجازت لینی ہو گی لیکن بلاشبہ کچھ خاص جرنلسٹ اسسے مستثنیٰ ہیں اور ان کے لیے اصول و ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سرکاری کمروں سے اب گویا خبروں کے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور حکومت کے امور کے تعلق سے خبریں بھی وہی منظر عام آئیں گی جو حکومت چاہے گی۔

مودی حکومت کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے لیکن اس ایک مہینے میں اس کی کارکردگی کے تعلق سے جیسی خبریں منظر عام پر آنی چاہیے تھیں، نہیں آئیں۔ مہنگائی کے تعلق سے جو معمول کی خبریں تھیں وہی دیکھنے اور سننے کو ملیں۔ فوج کے لیے اسلحہ میں اضافہ اور اس پر وزیر اعظم مودی اور وزیر دفاع ارون جیٹلی کے تبصرے کو بھی خبروں میں جگہ ملی لیکن قابل غور ہے کہ عراق میں انتالیس ہندوستانیوں کو یرغمال بنانے کے معاملے کا خاطر خواہ احاطہ نہیں کیا گیا۔ اس معاملے پر وزارت خارجہ بھی ویسی توجہ نہیں دے رہی ہے جیسی دینی چاہیے۔ مزید یہ کہ قومی میڈیا سے وابستہ صحافی بھی اس اہم ترین خبر سے صرف نظر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ خبر ایسی تھی کہ کئی دنوں تک بھی اسے اگر اخبارات کے صفحہ اول پر جگہ دی جاتی اور کئی کئی گھنٹے چینلوں پر دکھایا جاتا تو بھی اس کی اہمیت کم نہ ہوتی۔

یہ منظر نامہ بتا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اطلاعات اور خبروں کی اہمیت سمجھ گئے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہیں یہ بات از بر ہو چکی ہے کہ اطلاعات اور خبروں پر کنٹرول کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی اس بات سے واقف ہیں کہ میڈیا کو کارپوریٹ کنٹرول کرتا ہے اور کارپوریٹ، حکومت کے کنٹرول میں ہوتا ہے اس لئے فی الحال ان کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ ان تمام ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کو ایک معتدل رخ پر ڈالا جانا چاہیے تاکہ ان سے حکومت کے لیے کوئی پریشانی کھڑی نہ ہو۔ مودی یہ بھی جانتے ہیں کہ خفیہ معلومات سرکاری دفاتر سے ہی افشا ہوتی ہیں اور انہیں افشا کرنے والے اکثر جونیئر افسران ہی ہوتے ہیں یا وزراء کے پرسنل اسٹاف سے تعلق رکھنے والے بھی ایسی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کے اہم عہدوں پر ان افراد کو قطعی فائز نہیں کیا جائے گا جن کا تعلق سابقہ حکومت سے رہا ہو اور واضح رہے کہ ان عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں وزیر داخلہ راجناتھ ھسنگھ کو بھی کوئی اختیار نہیں دیا گیا ہے۔

اقتدار سے قبل میڈیا سے قریب رہنے والی بی جے پی بر سر اقتدار آنے کے بعد میڈیا سے دور رہنے کی حکمت عملی پر اس لئے بھی عمل کر رہی ہے کہ اس کے ذریعے نیوز چینلوں پر حکومت یا اس کے امور سے متعلق ہونے والی بے لگام قیاس آرائیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ انہی اسباب کی بناء پر میڈیا میں مودی حکومت سے تعلق سے وہی کچھ دکھایا اور سنایا جا رہا ہے جسے دکھانے اور سنانے کا حکومت نے اسے پابند بنایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مودی حکومت نے میڈیا کی حدود متعین کر دی ہیں، یعنی اپنی مرضی کے مطابق حکومت میڈیا کو اطلاعات فراہم کرے گی اور اسے وہی پیش کرنا ہو گا جو حکومت چاہے گی۔ علاوہ ازیں حکومت میڈیا کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ تفتیشی صحافت کے ذریعے بال کی کھال نکالنے کا کام کرے اور حکومت کی مشکلات بڑھائے۔
آج کی صحافت اور صحافیوں کے کام کرنے کا انداز بہت بدل چکا ہے۔ کسی خبر کو بار بار پیش کر کے اور اس پر بار بار تبصرہ کر کے دیکھنے اور سننے والوں کے لیے اسے ایک بوجھ بنا دینا گویا دور حاضر کے صحافیوں کی ترجیح بن گئی ہے۔

ایسے صحافی اب کم یاب ہو چکے ہیں جو کسی خبر کی تہہ تک پہنچیں اور حقیقت کو منظر عام پر لائیں اور وہ صحافی تو گویا نایاب ہی ہو چکے ہیں جو خبر کو اس کے پورے پس منظر کے ساتھ پیش کریں اور پھر اسے قارئین و ناظرین کے سامنے بحث و مباحثہ کے لیے بھی رکھیں۔

مطلب یہ کہ آج چوبیس گھنٹے اور ساتوں دن چلنے والے بلیٹن کے اس زمانے میں بھی صحافی یہی چاہتا ہے کہ خبروں کے تعلق سے انہیں سطحی معلومات ملتی رہیں اور وہ اسے ناظرین تک پہنچاتے رہیں۔ آج دیکھا جاتا ہے کہ صحافیوں کو جو اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، انہیں وہ اسکول کے بچوں کی طرح نوٹ کرتے ہیں۔ یہی حال پریس کانفرنسوں کا بھی ہے۔ جب نامہ نگار ایک ایک سوال کے جواب پر زور دیتے ہیں لیکن خبروں میں کچھ بھی نہیں دکھایا جاتا۔ پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافی نیوز چینلوں پر دکھائے جانے والے بیانات کی بنیاد پر خبر بنانے لگے ہیں۔

مودی نے اس لئے سب سے پہلے اپنے وزراء کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ انہیں کسی بھی موقع پر کچھ بھی نہیں کہنا ہے بلکہ جو کہنا ہے سوچ سمجھ کر کہنا ہے اور حکومت کی ہدایتوں کے مطابق کہنا ہے۔ مثال کے طور پر یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور دہلی یونیورسٹی کے ساتھ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کے معاملے کو دیکھا جائے تو بات بہ آسانی سمجھ میں آتی ہے۔ یو جی سی کے چار سالہ انڈر گریجویٹ پروگرام پر جو تنازع سامنے آیا اس پر اسمرتی ایرانی نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ان کے پاس تعاون کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد یو جی سی کے افسروں کے ساتھ اسمرتی ایرانی کی جو میٹنگ ہوئی، وہ ایک الگ خبر ہے اور اس میں میڈیا کی زیادہ دلچسپی بھی نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ جس میڈیا نے سابقہ یو پی اے حکومت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، اس میڈیا سے نپٹنے کے لیے بی جے پی حکومت نے پوری تیاری کی ہے۔ اس سختی اور قدغن کے کیا نتائج برآمد ہوں گے، اس پرفی الوقت کوئی رائے زنی نہیں کی جا سکتی لیکن یہ تو طے ہے کہ یہ میڈیا کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کیونکہ حکومت کی پابندیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دینا، اچھی صحافت کی علامت نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ "انقلاب"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.