بن لادن مرا، البغدادی تو زندہ ہے

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

داعش کے لیڈر کے طور پر البغدادی کے سامنے آنے سے یہ خوف از سر نو زندہ ہو گیا ہے کہ ایک شخص ایک منتشر گروہ کو بچانے کے لیے بالآخر ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔ خصوصا ایک ایسے گروپ کے ہوتے ہوئے جس کی تمثیلی، تاریخی اور مذہبی اعتبار سے ایک بنیاد ہے۔ البغدادی کا ظہور القاعدہ کے بانجھ پن کے خاتمے کے طور پر ہوا ہے جو پچھلے تین برسوں پر پھیلا ہوا تھا۔ جب القاعدہ اپنے مقتول قائد اسامہ بن لادن کا جانشین تلاش کرنے میں ناکام رہی۔

تاہم البغدادی کے اس ظہور کی جگہ اور وقت کئی سوالات کو جنم دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ اولا یہ کہ اس گروہ کی ہیئت کیا ہے، اسے کنٹرول کون کرتا ہے اور وہ کون تھا جو اس میں نقب لگانے میں کامیاب رہا۔ داعش اچانک شام میں اس وقت ابھری اسد رجیم کا خاتمہ یقینی نظر آ رہا تھا۔ داعش سامنے آئی تو اسد رجیم کو عالمی برادری کو اسے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کر کے انتباہ کا موقع مل گیا کہ اس کے بعد شام میں متبادل کون ہو سکتا ہے۔ اسد رجیم کے خاتمے کی صورت میں مسلح باغیوں کو بھی اسی کا سامنا ہو گا۔

یہی منظر نامہ عراق میں سامنے آیا۔ نوری المالکی جو ایران کے ساتھ غیر معمولی قربت کا حامل ہے اپنی وزارت عظمی کی مدت کے خاتمے کے قریب تھا، خصوصا جب سنی ، شیعہ اور کرد سبھی لوگ اس کی نئی مدت شروع کیے جانے کے خلاف تھے اچانک داعش سامنے آ گئی۔ اس نے دوسرے بڑے اور غیر معمولی طور پر محفوظ بنائے گئے شہر موصل پر قبضہ کر لیا۔ نتیجتا پس منظر میں جانے والے نوری المالکی دوبارہ پیش منظر پر نظر آنے لگا۔ اس صورت حال میں نوری المالکی نے خود کو سنی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک لازمی ضرورت کے طور پر پیش کر دیا۔

بجائے اس کے کہ داعش اپنے کھلے دشمنوں اسد اور المالکی سے لڑتی اس گروپ نے اپنے جنگ جووں کا رخ سعودی عرب کی عراق کے ساتھ جڑی شمالی سرحدوں کی جانب کر دیا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں پر یمن میں اپنے اجرتیوں کو سرگرم کر دیا ہے۔ گویا بن لادن تو مر گیا ہے لیکن البغدادی زندہ ہے۔ اس نے اسی طرح کے عمل کا سہارا لیا ہے جس طرح کے اعمال اس کے پیش رو کے تھے۔ وہ ان چیزوں سے بچنے کی کوشش میں بھی ہے جن سے اس کے پیش رو نے بچنے کی کوشش کی تھی۔

ایران ان کے پروپیگنڈہ میں ان کا مذہبی حوالے سے حریف تھا لیکن در پردہ وہ ان کا اتحادی تھا۔ حتی کہ 1990 کی دہائی سے ایران القاعدہ کے بعض حصوں کا مسکن رہا ہے۔ افغاستان سے نکلنے کے بعد مصری بنیاد پرست سیف العادل کی زیر قیادت ایران القاعدہ کے متعدد افراد کے لیے پناہ گاہ رہا ہے۔ اسامہ بن لادن نے بھی اپنے آدھے بچوں اور ایک بیوی کو ایران بھیج دیا تھا۔ اسامہ کے بعد انہیں پہلے شام بھیجا گیا اور پھر سعودی عرب۔ اب بھی القاعدہ کے ارکان کی بڑی تعداد جن میں سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کے رہنما بھی شامل ہیں ایران میں موجود ہیں۔ القاعدہ نے ایران کو اس کے نظریات کے باوجود کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا ہے۔

البغدادی اسامہ بن لادن کا نیا ظہور ہے۔ جسے سنی مسلمانوں میں مذہبی اعتبار سے ناکامی کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ یہ انتہا پسندی کو روکنے اور ایک ثقافتی متبادل دینے میں ناکام رہا ہے۔ داعش کی نمود تاریک نہاں خانوں سے ہوئی ہے۔ خطے میں حساس ادارے داعش کو اپنے سیاسی منصوبوں کے ساتھ سامنے لائے ہیں۔ ان منصوبوں کا تنظیم کے اپنے مشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد عراق میں گھسنے والے تقریبا تمام شامی سرحد کے راستے گئے ہیں۔ اس تناظر میں افق پر ایک نئی جنگ کے اشارے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا یہ ایک دہائی جاری رہے یا دو دہائیوں پر محیط ہو جائے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں