اقبال ظفر جھگڑا - سرور پیلس سے لندن کے ہسپتال تک

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ اسی سرور پیلس کا ذکر ہے ہے جہاں پاکستان کے دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو برطرفی کے بعد جلاوطنی کاٹنے جدہ جانا پڑا تھا۔ اقبال ظفر جھگڑا کا اس سرور پیلس سے محض یہ تعلق نہ تھا کہ وہ جدہ کے اس عالی شان محل میں اپنے قائد کو جلاوطنی کے دوران ایک سے زائد بار ملنے گئے تھے اور ان کی ہدایات کی روشنی مسلم لیگ نواز کو جنرل پرویز مشرف کے عروج کے دنوں میں بھی پاکستان کی سیاست سے جلاوطن نہ ہونے دینے کے لیے بطور سیکرٹری جنرل اپنا کردار ادا کرتے رہے تھے بلکہ اس سرور پیلس کی تعمیر میں اقبال ظفر جھگڑا نے بطور انجیئیر بھی حصہ لیا تھا۔ جب وہ اس سرور پیلس کے بام و در کو اٹھا رہے تھے تو انہیں یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ اس محل کی قسمت میں پاکستان کے مقبول رہنما اور وزیر اعظم کو جلاوطنی کاٹنا ہو گی۔ میاں نواز شریف کی جلاوطنی کا یہ وہ دور تھا جب دھڑے بندی کی سیاست کے حامی اور داعیان چودھری برادران بھی بوجوہ مسلم لیگ نواز اور شریف برادران کو چھوڑ کر مشرف بہ پرویز مشرف ہو چکے تھے۔ مگراقبال ظفرجھگڑا جیسا صلح کل، دھیمے لہجے کا انجیئیر ملک میں جمہوری سیاست کی دیواروں کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی حکمران اور اس کے حواریوں کے خلاف صف آراء تھا جن کو چیلنج کرنے کی سزا اُن دنوں آہنی زنجیریں تھیں۔

اس وضع دار سیاستدان نے اپنی خو بدلی نہ اپنی '' جُو ؛؛ بدلی اور مسلم لیگ نواز کے ساتھ وفاداری نبھاتا رہا۔ شریف برادران نے جلاوطنی کا بیشتر وقت گذارنے کے بعد واپس آنے کی کوشش کی تو اسلام آباد میں پرویزی قہر سامانی کا شکار ہونے والوں میں دوسروں کے ساتھ اقبال ظفر جھگڑا بھی موجود تھے ۔ یہ دن بطور صحافی کور کرنا آسان نہ تھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مسلم لیگی رہنماوں کی گرفتاریاں جاری تھیں اور جھگڑا اپنے قائد کے جہاز کوجبرا اسلام آباد ائیر پورٹ سے واپس بھیجنے والے حکمرانوں کی قوت سے جھگڑ رہا تھا۔ بظاہر طاقت کامیاب ہو گئی اور شرافت کو شکست ہو گئی۔ لیکن چند ہی ماہ بعد بالآخر وہ دن آگیا جب شریف برادران کو واپس آنے کا اذن ملا اور ایک فاتح کے طور پر لاہور ائیر پورٹ پر اترے۔ اقبال ظفر جھگڑا اب ظفرمند ، شاداں اور فرحاں تھے۔ وقت گذرتا گیا ''آزمائش کے وقت بھنور سے الجھنے کے بجائے کنارے کنارے رہ کر ملازمت کر لینے والوں کے ''پیا'' من بھاجانے کا امکان بڑھا ہوا نظر آیا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اس طرح کے ''چونچلے'' براداشت کرنا اور پاپڑبیلنا پڑتے ہیں۔ اقبال ظفر جھگڑا مایوسی کا اظہار تو نہ کرتے لیکن مایوسی کو سنبھالے رکھنا اب آسان بھی نہ رہا تھا۔ قسمت نے یاوری کی اور قرعہ بالآخر اقبال ظفر جھگڑا کے نام ہی رہا۔ گویا قدرت نے بھی جھگڑا کی قربانیوں کی لا ج رکھ لی۔ لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھتا گیا اقبال طفر جھگڑاکو دوسرے لوگ آگے بڑھتے نظر آئے ۔ معاملہ ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر خیبر پختونخوا کی گورنری تک ہر جگہ جھگڑا کا نام پذیرائی سے دور رہا۔ حد یہ کہ بقول اقبال ظفر جھگڑا کے جس طرح ایوب خان کے اقتدار کے آخری دنوں میں ایوب خان کے پوتے بھی گھرکے دالانوں اور آنگنوں میں بآواز بلند نعرہ زن ہونے لگے تھے اسی طرح اقبال ظفر جھگڑا کے پوتوں اور نواسوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ'' بابا آپ تو ہمیشہ میاں نواز شریف کے سیکرٹری یعنی معتمد رہے، پارٹی کے لیے مار کھاتے اور لڑتے بھڑتے رہے لیکن اب کیا ہوا آپ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔،آخر کیوں؟''

اقبال ظفر جھگڑا اپنے قریبی ساتھیوں سے اس صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے رنجیدہ ہو جاتے ۔ اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات ان کے لیے یہ ہوتی گئی کہ میاں نواز شریف جیسے مہربان اور وفا شناس کے آس پاس چرب زبانوں اور چبا چبا کر باتیں کرنے والوں نے گھیراایسا تنگ کیا کہ پارٹی عملا طاق نسیاں ہو کر رہ گئی ۔ میاں نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد ایک سال کے عرصے میں ایک آدھ بار سے زیادہ اقبال ظفر جھگڑا کو اپنے پارٹی قائد اور صدر سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا اور وہ ملاقات بھی لاہوری زبان میں بس تنی منٹی فارغ ہونے کے متراردف رہی۔ غالبا ایک طویل ترین ملاقات آٹھ منٹ پر محیط رہی ۔ پارٹی کے وفادار اور وفاشعار کے نزدیک یہ صورت حال پارٹی اورپارٹی کے اقتدار دونوں کے لیے اچھی نہ تھی ۔ اس وجہ سے جھگڑا بغیر جھگڑا کیے ایک مرتبہ ملک سے باہر بھی وقت گزاری کے لیے چلے گئے۔ لیکن چند ہفتوں بعد واپس آنا پڑ گیا۔

اس کے باوجود کہیں احساس کا پتا ہلتا نہ دیکھ کر بیمار رہنے لگے اور اسی دوران دماغ میں خون کے لوتھڑے نے جگہ بنالی۔ بالکل ایسے جیسے مسلم لیگ نواز پر مشکل وقت میں پارٹی جوائن کرنے والے اور پارٹی کے لیے دن رات ایک کردینے والے کئی دوسرے رہنماوں اور کارکنوں کے پارٹی کے رگ و پے میں ہونے کے بجائے اب دل گرفتہ کارکنوں کے بقول بعض لوگوں نے خون کے انہی لوتھڑوں کی طرح پارٹی کی حکومت میں بسیرا کر کے پارٹی کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کا کوئی اجلاس مئی 2013 کے بعد سے اب تک بلایا ہی نہیں جا سکا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی گوناں گوں مصروفیات کا موقع شناس درباری لہجہ اختیار کرکے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ راجہ ظفرالحق جیسا بردبار اور بزرگ رہنما اپنے بیٹے کے لیے کوئی وزارت نہ مل سکنے پر نجی محفلوں میں ذکر کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ بہت سارے پارٹی وفاداروں کا گمان ہے اور کافی حد تک درست بھی محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف ایسے مقبول قائد اور پارٹی کے درمیان ایک کیمونسٹ کلچر کا ''آئرن کرٹن '' تان دیا گیا ہے۔ ایسے میں پارٹی کی حکومت کا ایک ہی سال کے اندر بھنوروں میں الجھ کر رہ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان کو اب پارٹی میں قبولیت ملنے لگی ہے۔ گویا پارٹی میں ایک رد عمل ہے جو بڑھ بھی سکتا ہے۔

ان حالات میں پارٹی کے وہ لوگ جو میاں نواز شریف کی جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو کسی منجدھار میں نہیں دیکھنا چاہتے وہ بھی پارٹی کے اندر کے لوگوں کی طرح یقین رکھتے ہیں کہ پارٹی کو اگر میاں نواز شریف لاوارث نہ ہونے دیں اور اپنے آس پاس کے چند رتنوں سے ماورا پارٹی رہنماوں سے ''فیڈ بیک '' لینا شروع کر دیں توکسی دوسرے رہنما کے لیے نہ ائیر ایمبولینس کا اہتمام کرنا پڑے گا نہ پارٹی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آکسیجن کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ بلکہ خود نواز حکومت کو تازہ دم مشوروں کے علاوہ لڑنے مرنے والے کارکنوں کی سرگرم حمایت زندہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ میاں نواز شریف کا تجربہ اور ویژن ایسا ہے کہ وہ پارٹی کو صف بند رکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں غیر سیاسی اور انتظامی یا محکمانہ انداز رکھنے والے قریبی رفقاء پر انحصار کرنے کے بجائے خود ہفتے کا کم از ایک پورا دن پارٹی کو دینا ہوگا۔ اس صورت میں اقبال ظفر جھگڑا بھی اسلام آباد ائیر پورٹ پر مسکراتے ہوئے اتر سکتے ہیں کہ ایک سیکرٹری جنرل کے لیے پارٹی کی صحت کا بحال ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

یاد رہے میاں صاحب ائیر ایمبولینس پر لندن روانگی سے پہلے پمز میں ہونے والی اپنی چند لوگوں سے ملاقات میں اقبال ظفر جھگڑا نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ فکر نہ کریں پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد جن لوگوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، میاں صاحب انہیں تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیں گے، حالات بدلیں گے۔ اقبال ظفرجھگڑا کی اس یقین دہانے کے سچ ثابت ہونے کی صورت میں ہی صرف حکومت کے اعلی ایوانوں میں گھس بیٹھنے والے گلو بٹ حضرات ایسے زبانی لٹھ بازوں سے بچنے کی صورت میں ہی پارٹی اور پارٹی کی حکومت کسی ضعف سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size