.

سیاست دانو۔۔۔ نوری المالکی نہ بنو

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جو لیڈر امڈتے ہوئے طوفانوں کا ادراک نہیں کر پاتے، اُن کی رہبری عذاب ٹھہرتی ہے۔ نیرو کی طرح بانسری بجا کر یا اپنی گردن کو اونٹ کی طرح ریت میں دبا دینے سے خطرے ٹل نہیں سکتے۔ عراق آج جس صورت حال سے دو چار ہے اس کی ذمہ داری تنہا نوری المالکی پر ہے جنہوں نے سنیوں کو اگر دوسرے کونے پر نہ لگایا ہوتا یا اقتدار میں رہنے کی ضد پر اڑے نہ رہتے تو آج یہ صورت نہ ہوتی اور نہ شیعہ سنی کی سیاست چل نکلتی۔ ضد نور المالکی کو لے کر ڈوب رہی ہے۔ ذرا دیکھیے ہمارے سیاستدانوں کی رہبری یا مسیحائی بھی ان جیسی ہے۔ ملک کو کیا اور کہاں کہاں سے خطرات ہیں۔ ایک جنگ ہے جو قوم پر مسلط ہو چکی ، پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنانے کی جنگ میں آج کون کہاں کھڑا ہے، عمل کچھ اور ہے اور نعرے فوج کے ساتھ، ایسے سوالات تو پریشان کیے بیٹھے ہیں۔ 7 لاکھ سے زائد آئی ڈی پیز گھروں کو چھوڑ کر خانہ بدوش بنے بیٹھے ہیں مگر سیاست کی گدھیں اقتدار نوچنے کے لیے بے قرار اور بے چین ہیں۔ جنگ ہو رہی ہے۔ اتحاد اور مکمل اتفاق کی ضرورت تھی۔

فوج کے پیچھے کھڑے ہو کر بھرپور طریقے سے لڑنے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں کا سیاسی منظرنامہ ہے کہ خدا کی پناہ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں ان کے لیے اس سے شاندار موقع حکومت کو گرانے کا کبھی مل ہی نہیں سکتا، پورا زور لگا رہے ہیں۔ کپتان پر تو ایک ہی دھن سوار ہے۔ دس لاکھ لوگ لے کر جاؤں گا ۔ بات مانو، میری رائے کو اولیت دو، الٹی میٹم دیا، خوب گرجے اور برسے اور 14 اگست کو اسلام آباد کی طرف قافلے چلانے کا اعلان کر ڈالا۔ وہ صوبہ جہاں کپتان کی حکومت ہے شمالی وزیرستان سے آنے والے مہاجروں کا اصل میزبان لیکن نہ جنگ کی فکر، نہ ملکی سالمیت کی کوئی خیال، فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا بھی تو نیم دلی سے۔ کپتان کو سنجیدہ طبقوں نے سمجھایا بھی ، سیاست کے لیے تمام معاملات کسی، اور موقع پر اٹھا رکھیے مگر نہیں مانتے۔ ضد غالب ہے۔ دھاندلی کا حوالہ بھی دیا جاتا تو ایک این جی او ’’فافن‘‘کا۔ اس نے یہ کہہ دیا اور وہ کہہ دیا۔۔۔ یہاں دھاندلی ہوئی اور وہاں اور اب اسی فافن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کپتان کو خاص نکتہ سمجھا دیا ہے۔ کپتان جی۔۔۔ آپ کے ہاتھ کچھ آنے والا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق 410 شکایات الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے 31 مئی 2014ء تک 301 شکایات نمٹا دی گئی ہیں۔ صرف 109 شکایات التوا میں پڑی ہیں۔ انتخابی ٹربیونل کے حوالے سے کپتان جو آسمان سر پر اٹھا رہے تھے۔ 14ماہ سے ٹربیونل فیصلہ نہیں دے رہے ارے۔ خدا کے بندے، تم نے تو پوری قوم سے سچ بولنے کا عہد کیا تھا۔ آج بھی سچ بولو یا کم از کم ’’فافن‘‘ کی وہ رپورٹ ہی قوم کو بتا دو کہ الیکشن کمیشن کو مختلف سیاسی جماعتوں نے جو عذر داریاں بھیجی تھیں ، تحریک انصاف کی طرف سے کل 58 شکایات تھیں جن میں سے صرف 21 شکایات کا فیصلہ ہونا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی عذر داریوں کی تعداد کپتان کے امیدواروں سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی بھی 66 شکایات میں سے 28 فیصلہ طلب ہیں۔ تحریک انصاف کی 37 شکایات میں سے ایک بھی درست ثابت نہ ہوئی۔ علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال بھی روحیل اصغر کے خلاف دھاندلی کی شکایات لے کر پہنچے تھے مگر دلیل کوئی نہ تھی۔ اُن کی عذر داری بھی چند دن سے پہلے مسترد ہو گئی۔ سیاست دان ثبوت کے بغیر انصاف کی خواہش کیوں رکھتے ہیں۔ ٹربیونل کی جانب سے تحریک انصاف کی رہ جانے والی درخواستیں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو بھی پنجاب اور قومی سطح پر پی ٹی آئی کے لیے تبدیلی کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کو مرکز اور پنجاب میں کوئی خطرہ نہیں۔ کپتان کو چاہیے تھا ایسے اداروں کا حوالہ نہ دیا کریں جن کی کریڈیبلٹی کا یہ حال ہوا کہ الیکشن کمیشن سے غلط رپورٹ کرنے پر معافی مانگنی پڑی ہو اور ان کے خلاف مقدمات رجسٹر ہوں۔

بحرانوں کے اس دور میں کپتان جی۔ ایک دانشور بن کر سامنے آؤ آپ کی مقبولیت کا گراف بلند ہے۔ پارٹی مقبول ہے۔ اگلے الیکشن کا انتظار کرو۔ اصل اپوزیشن لیڈر تو ’’ویٹنگ وزیراعظم ‘‘ ہوتا ہے۔ ٹربیونل پر طعنہ زنی کا جو سلسلہ جاری تھا امید ہے رپورٹ سے کچھ ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہونی چاہیے۔ پارٹی کے اندر پالیسی کا جو تضاد بالا سطح پر ابھر رہا ہے وہ آپ جیسی پالولر شخصیت کو کافی نقصان پہنچا رہاہے ۔ کپتان کبھی کبھی درمیانی راستہ بھی لیتے ہیں۔ مگر آپ کے ساتھی ان کی فکر اور پالیسی کے برعکس چل رہے ہیں۔ پارٹی کی تنظیم سے ہی سیاسی جماعتوں کے خدوخال ابھرتے ہیں۔ آپ کی کور کمیٹی جوفیصلے کرتی ہے، ’’کور کمیٹی‘‘ بھی کیا ہے، تحریک انصاف کا دستور دیکھیں تو سب سے مضبو ط اور طاقت ور ادارے کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ پارٹی کے تنظیمی عہدے کے لیے اعظم سواتی کا انتخاب نامزدگی سے ابھرا ہے۔ یہ تو نہ آپ کا اور پارٹی کا مزاج ہے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں عمران اور طاہر القادری کا ملاپ ہو، دونوں مل کر لانگ مارچ کریں۔ حکومت کو تہہ و بالا کریں۔ جمہوریت کا قصہ پاک کر دیں۔ موقع کا انتخاب بھی کیا خوب کیا ہے۔ پھر انقلاب ہو گا۔ ایک کینڈین شہری ہو گا ، خوب چلائے گا پاکستان کا اقتدار اعلیٰ؟ حق لگتی بات یہ ہے کہ پاکستا ن نہ تو مصر ہے نہ عراق یا لیبیا۔

یہاں کسی طاقتور یا ہتھیار کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ آئین پاکستان بالادست ہے اور رہے گا۔ سڑکوں کی سیاست سے چار مارشل لاء ابھرے، افسوس ہی نہیں بلکہ شرم کا مقام تو یہ ہے ، حکومت مخالف سیاسی جماعت کے جس لیڈر سے بات کرو انقلاب لانے میں سقراط اور ارسطو بنا بیٹھا ہے۔ پوچھا کیسے ہٹاؤ گے ایک جمہوری اور تین کروڑ سے زائد ووٹوں سے قائم ہونے والی جمہوری حکومت کو، شرمسار بھی نہیں ہوتے بس کہے جاتے ہیں۔ ہم کچھ کریں یا نہ کریں باقی کام تو اسٹیبلشمنٹ کرے گی۔ آج آئین پاکستان سے انحراف کے راستے پر چلنے والی سیاسی جماعتیں وہ ہیں جو انتخابی عمل میں پاپولر جماعتیں نہیں بن سکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کوئی ایک سیٹ کی جماعت ہے کوئی دو شہروں تک محدود ہے۔ کوئی پریشر گروپ بن کر اسٹیبلشمنٹ کو بلاتا ہے۔ خواہشوں کے مارے سیاست دان جو کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ان سے عرض ہے حضور وقت غلط ہے خطرات کو تو دیکھو۔

حکومت کتنی کمزور اور غیر مؤثر ہو مگر یہاں کا جو سیاسی نظام ہے آئین کے تابع ہی چلنا ہے۔ سب سے حیرت ہمارے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید صاحب کو ہے آخر عمران خان نے اسلام آباد پر یلغار کرنے کے لیے آزادی کے دن کو ماتم میں تبدیل کرنے کا کیوں ارادہ باندھا ہے؟ اگر کپتان سونامی مارچ کے نام پر طاہر القادری کی طرح اپنے شیر جوانوں کو کہیں چڑھ دوڑواور حکمرانوں کو کرسیوں سے کھینچ لاؤ ۔۔۔ تو ایک ایٹمی پاکستان کے وزیراعظم کو ریاست کی رٹ تو منوانا پڑے گی۔ کپتان کی دلیلیں ’’فافن‘‘ کی رپورٹ کے بعد بے کار ہو چکی ہیں۔ جن 35 حلقوں کا بار بار ذکر ہو رہا ہے، اُن میں سے پنجاب کے صرف 15 حلقے ہیں جہاں مسترد ووٹوں کا مارجن جیت کے مارجن سے زیادہ ہے۔ ان 35 حلقوں میں کپتان کے امیدواروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف سے خیر خواہی رکھنے والے برادرم ہارون رشید نے کپتان کو جو مشورے دیئے ہیں اور اُن کی ٹیم کے جن کرپٹ عناصر کی نشاندہی کی ہے، اسی مشورے کو مان لیں تو اپنی پارٹی کو مستقبل میں بہت سی مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اسی میں جمہوریت کا بھلا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.