.

کیا داعش، تہران اور ریاض کو متحد کر دے گی؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ہفتے قبل تک دولت اسلامی عراق وشام (داعش ) شام کے کچھ علاقوں ہی میں جانی جاتی تھی لیکن آج پوری دنیا اس تنظیم سے لاحق خطرات کے پیش نظر چوکنا ہو چکی ہے۔اس تنظیم نے اپنا دائرہ کار عراق سے ترکی، اردن اور سعودی عرب کی سرحدوں تک پھیلا لیا ہے۔ اس کے پروپیگنڈے اور برسر زمین فتوحات کے بعد سے اس کی فوج کی تعداد شاید پانچ ہزار سے بڑھ کر پچاس ہزار جنگجوؤں تک پہنچ چکی ہے، اسی لیے یہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کو ڈرانے دھمکانے کی پوزیشن میں ہے۔

امریکا نے اپنی تمام سکیورٹی سروسز کو الرٹ کردیا ہے۔ اس نے اپنے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی انتظامات کو بھی وسعت دے دی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک نے شام میں جہاد کی ترغیب دینے والوں کو پکڑنے کے لیے اپنی سکیورٹی سروسز کو متحرک کر دیا ہے۔

اب مفروضے پر مبنی سوال یہ ہے کہ کیا داعش اپنے خلاف اپنے دشمنوں کو متحد ہونے پر مجبور کر سکتی ہے؟ کیونکہ اس نے تو ہر کسی کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر کیا خطے کے دو بڑے علاقائی حریف ایران اور سعودی عرب آپس میں مل بیٹھ سکتے ہیں اور وہ داعش اور القاعدہ کے دوسرے دھڑوں کے خلاف تعاون پر اتفاق کر سکتے ہیں؟

مخاصمتوں کا خاتمہ؟

دشمنیاں ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتی ہیں۔ ایران کی جانب سے عراق اور دوسرے ایشوز پر سعودی عرب سے تعاون کے اشارے اس بات کے غماز ہیں کہ وہ اس کے ساتھ سلسلہ جنبانی شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران میں عسکری ،سفارتی ،میڈیا اور مذہبی میدانوں میں مسابقت اور حتیٰ کہ جنگ کی کیفیت کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔محاذ آرائی کا آغاز ایران نے کیا تھا۔ اس نے عرب اور مسلم کے جعلی نعروں کے ذریعے خطے کی خودمختاری کو پامال کیا۔پھر اس نے شامی رجیم ،حزب اللہ اور حماس کے ذریعے بھی ایسا کیا۔

لیکن یہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نئے مرحلے نے لے لی ہے۔ اب اسد رجیم کے لیے شام میں زیادہ دیر تک اقتدار سے چمٹے رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ تمام لبنانی عوام پر حکمرانی کے لیے حزب اللہ کی بالادستی بھی قائم نہیں رہے گی۔ حماس اب فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مقابلے کی صلاحیت کی حامل نہیں رہی ہے اور عراق میں نوری المالکی کی حکومت کے پاس بھی عراقی عوام کی نصف تعداد کے صفایا کی صلاحیت نہیں رہے گی۔

دفاعی حالت

ایران دفاعی حالت میں ہے اور اس نے اس بات کا ادراک کر لیا ہے کہ اب اس کو ایک نئی سیاسی حقیقت کا سامنا ہے۔اس کے اس کی سلامتی اور استحکام پر اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس کے علاقائی ایجنٹ خود افراتفری کا شکار ہیں۔ ایران مکمل نقصان اور جزوی نقصان کے درمیان اپنی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اس ضمن وہ میں علاقائی سکیورٹی مہیا کرسکتا ہے اور اس کی حامی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے۔

یہ سب کچھ خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن یہ سب نئی حقیقت کو تسلیم کرکے ہی ہو سکتا ہے۔ تین شخصیات سے دستبرداری کا اعلان کرکے باہمی تعاون کیا جاسکتا ہے اور وہ ہیں: بشارالاسد، نوری المالکی اور حزب اللہ کے لیڈر۔ ایران کے پاس متبادل یہ ہے کہ وہ ملے جلے نظاموں کو برسراقتدار لانے کے قابل بنانے کے لیے تعاون کرے۔ایسے نظام جو قومی قوتوں کے نمائندہ ہوں لیکن ان میں دہشت گرد اور تخریبی قوتیں شامل نہ ہوں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ عراق میں سُنیوں اور شام میں علویوں کو قبول کرنا ہوگا۔

بعض لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ سعودی عرب کو چونکہ خود داعش سے اور یمنی سرحد سے خطرہ ہے، اس لیے وہ نیا علاقائی نظام تجویز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگر یہ سوچ درست نہیں ہے کیونکہ داعش اور دوسری انتہا پسند اسلامی جماعتیں ان علاقوں ہی میں تباہی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جہاں سیاسی خلاء موجود ہو یا فوجی محاذ آرائی اور جنگوں نے ان کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیے ہوں۔ اس ضمن میں افغانستان، صومالیہ، یمن ،شام اور عراق کے سُنی صوبوں کی مثال دی جا سکتی ہے۔

داعش طوائف الملوکی پھیلا سکتی ہے اور بحرانوں کو گہرا کرسکتی ہے ۔یہ سعودی عرب کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے جیسا کہ اس سے پہلے القاعدہ نے کیا تھا لیکن یہ بہ ذات خود ریاست کو خطرے سے دوچار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

اگر ایرانی فی الواقع عراق میں کسی اتفاق رائے تک پہہنچنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا اس ملک پر اثر و رسوخ ختم نہ ہو تو وہ عرب سُنیوں کو تسلیم کرکے اور ان کو سیاست میں شریک کار کر کے ایسا کرسکتے ہیں۔انھیں بالادستی کی پالیسی کو بھی ترک کرنا ہوگا کیونکہ اس کے تحت ایرانی حکومت مخصوص افراد اور گروپوں کو پورے ملک میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے قابل بناتی ہے۔انھوں نے اسد رجیم کے ذریعے مالکی کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا تھا۔

طوائف الملوکی اور خطرات نے ایران اور سعودی عرب کے لیے ایسا موقع پیدا کردیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام کو بحال کرنے کے لیے آپس میں تعاون کریں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سرد جنگ کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ آگ کا دائرہ مزید نہ پھیلے۔

کالم نگار العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.