معاشی برتری اور فوجی بالادستی

اوریا مقبول جان
اوریا مقبول جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے معاشی برتری کا خواب اس وقت تک پورا نہیں کیا جب تک اس کے پاس ایک مضبوط فوجی قوت موجود نہ تھی جو دنیا بھر میں اس کے مفادات کا تحفظ کرتی۔ دنیا بھر کی معیشتوں کے استحصال کی کہانی عالمی سودی نظام، کاغذ کی جعلی اور فراڈ کرنسی کے ذریعے مصنوعی دولت کے بل بوتے پر فوجی طاقت میں اضافے کے گرد گھومتی ہے۔ 1694ء میں جب بینک آف انگلینڈ کا چارٹر حاصل کیا گیا تو اسی سال اس بینک نے کاغذ کے نوٹوں کا اجراء کیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر میں سونا اور چاندی سرمائے کے معیار کے طور پر بازاروں میں استعمال ہوتے تھے۔ اس سے پہلے جولائی 1690ء میں برطانیہ کو Beachy head کی جنگ میں بدترین شکست ہوئی تھی اور اس کے گیارہ بحری جہاز تباہ ہوگئے تھے۔ فرانس کا رودبارِ انگلستان پر تسلط ہو گیا تھا۔ برطانیہ کا پوری دنیا پر معاشی اور فوجی برتری کا خواب چکنا چور ہو رہا تھا۔ اس زمانے میں ایک طاقتور بحری فوج ہی عالمی غنڈہ گردی کی علامت تھی۔ خزانہ خالی ہو چکا تھا۔

ایسے میں یہودی سود خوروں کے جھتے نے بینک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی اور کاغذ کی جعلی کرنسی جاری کی، جس نے صرف بارہ دن کے اندر ایک کروڑ بیس لاکھ پونڈ اکٹھا کر کے حکومت کے حوالے کیئے تا کہ وہ ایک مضبوط بحریہ ترتیب دے سکے۔ یہاں سے 8 فیصد اجتماعی سود کا آغاز ہوا جو پوری قوم کوادا کرنا پڑا اور سالانہ آٹھ ہزار پونڈ سروس چارجز کے دھندے کا آغاز ہوا۔ اس طرح پوری قوم کو سود کے لالچ میں ڈال کر اس کے سرمائے کو حکومت کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ فوجی طاقت اور سود کے علاوہ ایک تیسری چیز معاشی برتری کے ضروری تھی اور وہ تھی آبادی۔ اس وقت آبادی کو کم کرنے کے نعرے نہیں لگائے گئے۔

یہ تو بعد میں محکوم قوموں کو مغلوب کرنے کے لیے بلند کیے گئے۔ 1721ء تک برطانیہ کی آبادی 71 لاکھ سے ایک کروڑ بیالیس لاکھ ہو گئی، یعنی دگنی ہو گئی۔ عوام کے ہاتھوں میں جعلی کرنسی دے کر سود کے لالچ میں گرفتار کرتے ہوئے جو سرمایہ حاصل کیا گیا اس سے فوجی طاقت بڑھائی گئی اور صنعتوں کا جال بچھایا گیا جسے یہ لوگ صنعتی انقلاب کہتے ہیں۔ فوجی بحری جہاز افریقہ کے ساحلوں پر کھڑے ہوتے اور وہاں سے غلاموں کو جانوروں کی طرح پکڑ پکڑ کر اپنے کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرنے کے لیے لایا جانے لگا۔

امریکا کے مشرقی ساحلوں سے لے کر بنگال بنارس اور جارجیا تک برطانوی کاروباری کمپنیاں مال کمانے لگیں۔ ان تمام کے تحفظ کے لیے برطانوی جنگی جہاز موجود ہوتے۔ پورے بحراو قیانوس اور بحرہند میں ان جنگی جہازوں کا راج تھا۔ ان کی نگرانی میں ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی تجارتی کمپنیاں مقامی تجارت اور صنعت کو تباہ کر کے اپنے مال کی کھپت پیدا کرتیں۔ تیس لاکھ سے زیادہ افریقی لوگوں کو غلام بنا کر کھیتوں میں کام پر لگایا گیا۔ ان تمام کمپنیوں کو سرمایہ بینک آف انگلینڈ فراہم کرتا اور یہ کمپنیاں واپس اپنا منافع وہاں جمع کرواتیں۔ اس سرمائے سے حکومت کو کھل کھیلنے کا اختیار حاصل تھا۔

آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ نئی نئی طاقتیں دنیا کے نقشے پر ابھر آئیں۔ ان کا کام اس سودی نظام اور اس سے جنم لینے والے کا رپوریٹ کلچر کی برتری کا تحفظ کرنا، قوموں کو مغلوب کر کے ان میں اپنے لیے سرمایہ کاری اور منافع خوری کے منافع فراہم کرنا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں پنتالیس ہزار کارپوریٹ کمپنیاں ہیں، جن کو پانچ سو بنیادی کمپنیاں کنٹرول کرتی ہیں اور ان کو بیس بڑے بینک سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ سرمایہ لوگوں کے ہاتھ میں جعلی کاغذی نوٹ تھما کر سود کے لالچ میں گرفتار کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ جتنا فوجی قوت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اتنی ہی مغلوب اور محکوم قوموں کی زندگیاں عذاب بنتی جا رہی ہیں۔

کہیں منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لیے زبردستی قرضوں میں جکڑا جاتا ہے تو کہیں وسائل کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے وہاں خون خرابے کرائے جاتے ہیں، قتل و غارت کا بازار گرم کیا جاتا ہے، اپنی مرضی کے حکمران مسلط کیے جاتے اور آخری کار کسی ملک میں اپنی فوجیں بھی اتار دی جاتی ہیں۔ افریقہ جیسے معدنی وسائل سے مالا مال براعظم کی تباہی وبربادی اور قحط و بیماری اس مہذب دنیا کے منہ پر بدترین تھپڑ ہے۔ جنوبی امریکا سے لے کر ویت نام اور پھر افغانستان و عراق تک معاشی برتری اور بالادستی کا یہ گھن چکر فوجی طاقت کے بل بوتے پر ہی چلایا جاتا ہے۔

طاقت اور معیشت کا توازن بدلتا ہے تو پرانی طاقتیں اسٹیج سے ہٹ جاتی ہیں اور نئی یہاں آکر دھما چوکڑی مچاتی ہیں۔ انگلینڈ، جرمنی اور جاپان پیچھے ہٹے تو امریکا اور روس آ گئے، پھر امریکا ہی رہ گیا۔ مگر اب اس کھیل میں چین اور بھارت اپنے گھوڑوں پر زین کس رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی نا آسودہ تمنائوں کا راستہ پاکستان سے ہو کر گذرتا ہے۔ چین تو اپنے مشرق کی سمت بھی اثر ورسوخ رکھتا ہے اور شمال کی جانب بھی، لیکن بھارت کا خواب برصغیر کی قدیم راجدھانی پر معاشی اور فوجی قبضہ مستحکم ہونے سے شروع ہوتا ہے۔

اس وقت بھارت دنیا کا اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ء2010 سے 2015ء تک بھارت 80ارب ڈالر کے اسلحے کی خریداری کے معاہدات کر چکا ہے۔ اس ضمن میں زمینی فوج سے زیادہ فضائی اور بحری افواج کی طرف توجہ دی جاری ہے۔نئے طیاروں کی خریداری ساڑھے تیس ارب ڈالر سے کی گئی ہے۔ اسی طرح بحری افواج کے ذریعے سے جس طرح پورے بحرِ ہند میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشش اس سے اندازہ ہوتا ہے اس کے جہازوں اور فیلٹوں کی نظر جنوبی چین کے سمندر، بحر الکاہل اور بحیرہ احمر تک ہو جائے گی۔

دنیا کے تمام فوجی رسائل اس صورت حال کو جس تشویش سے دیکھ رہے ہیں، اس کا ایک فیصد بھی پاکستان میں نظر نہیں آتا۔ قومیں جب زوال کے آخری کنارے پر جا پہنچیں تو انھیں غفلت کے تالاب میں مزید دھکا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ خود بخود پھسلتی ذلت کی گہرائیوں میں اترنے لگتی ہیں۔ معاشی برتری کا طریقِ کار آج بھی وہی ہے۔ پہلے اندرونی خانہ جنگی سے کسی ملک کو کھوکھلا کر دو، حکمرانوں کی حیثیت باجگذار اور مرعوب و ظیفہ خواروں جیسی ہو جائے تو پھر ایسے میں کبھی عوام سراٹھانے کی کوشش کریں تو امن اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے نام پر فوجی کارروائی کردو۔ سراج الدولہ سے ٹیپو سلطان تک اور پھر آخر میں ء1857 کی مفلوک الحال اور باجگذار مغلیہ سلطنت کا خاتمہ، سارے ہتھکنڈے آج بھی ویسے ہی ہیں۔

معاشی برتری فوجی طاقت کے بل بوتے پر۔ لیکن اس دفعہ خواب بھارت دیکھ رہا ہے اور اس کا جنوں اٹھارہویں صدی کے برطانیہ اور بیسویں صدی کے امریکا جیسا ہے۔ لیکن بھارت کے اس جنون کے راستے میں پاکستان آتا ہے۔ وہ پاکستان جس کے رہنما بھارت سے دوستی کا خواب دیکھ رہے ہیں، جس کی عسکری قیادت گذشتہ تیرہ سال سے ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس کا سارا مفاد امریکا کا ہے اور جس کی زد میں آ کر پورا ملک جہنم بنا ہوا ہے اور جس کے عوام اپنے حال میں مست ہیں، کوئی غربت کے جہنم میں جل کر خاموش ہے اور کوئی بددیانتی اور لوٹ مار کی دلدل میں ہوش کھو بیٹھا ہے۔

ایسے میں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، یہ تو دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگار لمبی لمبی بحثوں میں الجھ کر بھی ہی بتا سکیں لیکن صدیوں پہلے ایک درویش صفت شخص اور ولیٔ کامل، نعمت اللہ شاہ ولی نے آج کے دور کا منظر نامہ اپنے اشعار کھینچا ہے۔ یہ وہی نعمت شاہ ولی ہیں جن کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف صیح ثابت ہونے پر انگریز سرکار ان کی اشاعت پر پابندی لگادی تھی۔ ان کی تمام پیش گوئیوں میں سے پورا ہونے کے لیے اب اس آخری حصہ رہ گیا ہے اور وہ ہے غزوۂ ہندکے بارے میں ہے۔

وہ غزوہ جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹھارہ احادیث منقول ہیں اور آپ نے اس میں فتح یاب ہونے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی ہے اور اس کا وقت بھی بتایا ہے کہ جب یہ لوگ ہند کو فتح کر کے لوٹیں گے تو اپنے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں گے۔ جو کچھ دنیا میںاس وقت برپا ہے، جس طرح مصر سے پاکستان تک آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ نعمت اللہ شاہ ولی کے کہے گئے شعروں کا مطلب واضح ہوتا جا رہا ہے۔ ان شعروں کا ترجمہ یوں ہے۔’’ ترکی والے ، عرب ، ایران والے دیوانہ وار آئیں گے، پہاڑوں جنگلوں سے اعراب آئیں گے، آگ کا سیلاب ہوگا۔ چترال، نانگا پربت، چین اور گلگت میدان جنگ ہو گا۔ ہندوستان میں شورش برپا ہوگی اور اسلام کے غازی اعلان جہاد کر دیں گے، اہل کابل کافروں کو قتل کرنے نکلیں گے، سرحد کے غازیوں سے زمین قبر کی طرح کانپے گی۔

دریائے اٹک تین بار خون سے بھرکے بہے گا۔ پنجاب، لاہور ، کشمیر، گنگا، جمنا اور بحنور پھر مسلمانوں کے غالبانہ قبضے میں ہو ںگے‘‘ یہ سب ہوگا، یا نہیں ہوگا، کب ہوگا اور اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اس کا علم صرف اللہ کو ہے کہ وہی عالم الغیب ہے۔ لیکن معاشی برتری اور فوجی بالادستی کے اس مرحلے پر اس ملک کے حکمرانوں کی حالت شاہ عالم ثانی اور محمد شاہ رنگیلے جیسی ہے’’ مرہٹے‘‘ قابض ہیں۔ کوئی احمد شاہ ابدالی کو پکار رہا ہے تو کوئی دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اہل نظر کہتے کہ جنگ کا آغاز ہو چکا۔ کون لڑے گا، کس کے سر پر یہ تاج سجے گا، اللہ بہتر جانتا، لیکن فتح کی بشارت اسی کے ساتھ ہے جو اس معاشی ترقی اور فوجی بالا دستی کے سامنے کھڑا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں