آج عالمی ’’یوم آبادی‘‘ کا دن تھا

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بتایا گیا ہے کہ آج 11 جولائی کو عالمی سطح پر ’’یوم آبادی‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جب کہ پوری دنیا کو معلوم ہو گا کہ ہمارا وطن عزیز پاکستان اس وقت دنیا میں بچوں کی آبادی کا سب سے زیادہ تناسب رکھتا ہے اور یہاں کا سب سے زیادہ بچے پیدا کرنے والا ضلع مظفرگڑھ ہے جہاں کی آبادی 2.5% سالانہ سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور یہ کوئی فخر کرنے والی بات نہیں ہے انتہائی بے احتیاطی کا ثبوت فراہم کرنے اور اس پر شرمندہ ہونے والی بات ہے کیونکہ اس طریقے سے ہم اپنے ملک کی افرادی قوت میں اضافہ نہیں کر رہے اپنے معذوروں اور اپاہجوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ادارہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 11 جولائی کو ہر سال انسانی آبادی کے یوم کے طور پر منایا جاتا ہے تاہم پورے نظام شمسی میں انسانی زندگی کے واحد گہوارے یعنی زمین پر انسانی آبادی کو ’’احتیاط‘‘ کی ضرورت کا احساس دلانے کے لئے بتا سکیں کہ طاقت محض ضائع کرنے کے لئے ہی نہیں ہوتی محفوظ رکھنے کے لئے بھی ہوتی ہے طاقت کا محفوظ رہنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

ادارہ اقوام متحدہ کے انسانی آبادی کے اندازہ کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر تقریباً سات ارب 35 لاکھ کی انسانی آبادی کا بوجھ ہے۔ اس بوجھ میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ جراثیم کو تلف کرنے والی پنلسین کی اتفاقی دریافت کے بعد ہوا تھا۔ اب یہ خود اپنی تباہی کی طرف بڑھنے والی ہے۔ چین اور ہندوستان کی مشترکہ آبادی دنیا کی 37 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی اتنا بڑا اعزاز نہیں ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی غربت اور کرپشن بھی ہے۔ ابتدایہ اعزاز بہت قابل قدر اور واجب تحسین ہے کہ جاپان ٹرانسپورٹ کے پہیوں کے ذریعے پوری دنیا پر حکومت کر رہا ہے اور پوری دنیا پر حکومت کرنے کے لئے فوج اور تباہ کن ہتھیار استعمال نہیں کر رہا ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا رہا ہے۔

چین اور ہندوستان صرف دو ملکوں کی آبادی اگر دنیا کی آبادی کا 37 فیصد ہے تو ایشیا کے بر اعظم کی آبادی 4 ارب 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے مگر ایشیا کی آبادی اگر دنیا کی آبادی کا ساٹھ فیصد بنتی ہے تو ایشیا کے مالیاتی سرمائے اور ضروریات زندگی کا بھی دنیا کے دیگر براعظموں سے کرنا پڑے گا جو اس براعظم سے بہت آگے چلے گئے ہیں اور دنیا کی آبادی کا صرف 7% (امریکہ) پوری دنیا پر اپنے ڈالر کی طاقت کے ذریعے حکومت کر رہا ہے اور انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیاروں کو استعمال کر کے کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانی آبادی کو تلف کر سکتا ہے اور انسانی دنیا کو اس طاقت کی ضرورت ہے جو کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانی زندگیاں بچانے کی اہلیت کا مظاہرہ کر سکے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں اور انسانوں کی زندگیوں کو صحت، تعلیم، روزگار کی سہولتیں فراہم کرنے کی سوچ اور طاقت رکھتا ہو۔ قدرت کے تمام مدفون خزانوں کو انسانی استعمال میں لانے کی قدرت رکھتا ہو۔

یہاں ان حقائق کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کے قبضے میں اتنی زیادہ دولت اکٹھی کر دی ہے کہ جس کے مناسب اور موزوں استعمال سے پوری دنیا کی غربت، جہالت، بے روزگاری اور بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں