درندگی اور بربریت فلسطین اور کشمیر میں ہی کیوں؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

فلسطین میں اسرائیلوں نے ایک قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے لئے ظلم روا رکھتا ہے۔ یورپ بھی اسرائیل کے ساتھ ہے مگر شرمندہ ہے۔ میں یہ ظلم و ستم مشرق وسطیٰ میں دیکھتا ہوں اور روتا ہوں۔ بھارت کشمیر میں بھی یہی کچھ کرتا ہے۔ کشمیر کے لئے بھی عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔ دو ہی عالمی مسئلے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین۔ مشرق وسطیٰ کے لئے فلسطین اور جنوبی ایشیا کے لئے کشمیر۔ دونوں کا تعلق عالم اسلام سے ہے۔ امریکہ اور یورپ مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اسرائیل جو کچھ فلسطین میں کرے جو کچھ بھارت کشمیر میں کرے امریکہ یورپ حمایت کرتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو بھارت دوستی کے دھوکے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کے کہنے پر مصر نے کر لی۔ سعودی عرب شام کے معاملات میں مداخلت کے لئے بے تاب ہے مگر فلسطین میں ظلم و ستم کی قیامت اسے نظر نہیں آتی۔ اسرائیل کی نظر سعودی عرب پر ہے۔ وہ مدینہ سے ہجرت کی مجبوری کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے کوئی ڈر ہے تو پاکستان سے ہے۔ اسرائیل کے لئے امریکہ پاکستان پر کوئی اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا واحد اسلامی ایٹمی ملک ہونا اسلام دشمن طاقتوں کو کس طرح قبول ہو سکتا ہے۔

روس نے ملک شام کے لئے تو ایک سٹینڈ لیا ہے جس کے نتیجے میں اب تک امریکہ شام پر حملے کی جرات نہیں کر سکا۔ کسی زمانے میں روس فلسطین کی حمایت کرتا تھا تو یہ ظلم و ستم نہیں تھا۔ امریکہ نے پاکستان کو روس کی شکست و ریخت کے لئے استعمال کیا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کو من مانی کرنے کا موقع مل سکے۔ روس کے افغانستان میں شکست و ریخت سے دوچار ہونے کے بعد امریکی جنرل سے پوچھا گیا کہ اب جنگ کیوں؟ تو اس نے کہا کہ ابھی عالم اسلام باقی ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے عالم اسلام کو برباد کرنے کی ایک سازش اور کارروائی ہو رہی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے دوست وزیراعظم نریندر مودی کو کشمیر کے دورے کے دوران پتہ چل گیا ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ اس کے کشمیر جاتے ہی سارا کشمیر بنکر ہو گیا تھا۔ کیا اب بھی مودی صاحب کو اندازہ نہیں کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ مگر پاکستان کی حکومت مودی جیسے بھارتی حکمرانوں کو حوصلہ دلاتی ہے کہ ظلم و ستم کے ذریعے ہی بغاوت کرنے والوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ خود پاکستانی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ پاک فوج نے حکومت کے سارے ارادے خاک میں ملا دئیے ہیں۔ پاک فوج بھارتی حکومت کے ارادوں کو بھی خاک میں ملا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نجانے مجھے فلسطین میں درندگی دیکھتے ہوئے کشمیر کیوں یاد آ رہا ہے۔ کشمیری بھی فلسطینی حریت پسندوں کی طرح نہیں مانیں گے تو ان کا حشر بھی یہی ہو گا اور پاکستانی حکمران اسی طرح دم بخود دیکھتے رہیں گے جیسے عرب دنیا عالم اسلام کے مسلمان حکمران سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ بھی ہمارے حکام کی طرح امریکہ کے غلام ہیں۔ وہ امریکی دوستی کے دھوکے میں اسرائیل سے کیسے دشمنی رکھ سکتے ہیں؟ کشمیر میں بھی شہیدوں کا قبرستان ہے۔ فلسطین میں بھی ہے۔ یہاں بھارتی فوجی کشمیری مسلمان عورتوں کے ساتھ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد بھی کرتے ہیں ایک فلسطینی بچی کو لہو میں لتھڑے ہوئے اپنی ماں کے بازوﺅں میں دیکھ کر میں دیر تک سکتے میں رہا۔ کوئی اسرائیلی درندوں سے پوچھنے والا ہے کہ اس معصوم بچی کا کیا قصور ہے۔ کیا اس نے اسرائیل پر راکٹ برسائے۔ جو راکٹ مبینہ طور پر اسرائیل میں گرے ان سے ایک بھی یہودی مرا نہیں ہے اور غزہ میں ایک دن کے اندر 31 لوگ شہید ہوئے جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ تین دنوں میں 82 شہادتیں ہو چکی ہیں۔ لہو کی بارش میں آنسوﺅں کی بارش بھی شامل ہو گئی ہے۔ ایسے میں بموں اور گولیوں کی بارش کی کیا وقعت ہے؟ اس دوران فلسطینی لڑکے اسرائیلی مسلح درندوں کو پتھروں سے جواب دے رہے ہیں جن کے ہاتھ میں پتھر ہیں اور وہ موت سے لڑ رہے ہیں۔ انہیں شکست دی جا سکتی ہے؟ شکست ظالموں کا مقدر ہے۔ ظالم بزدل ہوتے ہیں۔ اسرائیل کے حملوں کو مہذب دنیا والے بزدلانہ کارروائی کا نام دیتے ہیں۔ نہتے کمزور اور بے بس لوگوں کو مارنا بہادری تو نہیں ہو سکتی؟

جب بھارت میں اسرائیلی طیارے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لئے پہنچ گئے تھے تو صدر جنرل ضیاءکے ایک نعرہ تکبیر کے بعد وہ دم دبا کے واپس چلے گئے۔ اس کے باوجود ہمارے حکمران بھارت سے دوستی اور تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی عقل پر ماتم کیا جا سکتا ہے۔

اب ایران کیوں نہیں بولتا۔ امریکہ نے ایران کو بھی رام کر لیا ہے۔ روس کے گوشہ نشین ہونے کے بعد عراق اور لیبیا کو بھی امریکہ نے دوستی کے دھوکے میں ڈھال لیا اور پھر عراق اور لیبیا کا انجام سب نے دیکھ لیا۔ صدر صدام اور صدر قذافی امریکہ کی دوستی کا شکار ہوئے۔ امریکہ کی دشمنی نے انہیں بچائے رکھا۔ ہمیشہ امریکہ کی دوستی نے مسلمان حکمرانوں کو برباد کیا مگر ایک حکمران کے انجام کے بعد بھی مسلمان حکمران کوئی سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

فلسطین پر یہ ظلم و ستم دیکھ کر مجھے فلسطینی لیڈر مرحوم یاسر عرفات یاد آتا ہے۔ وہ بھی امریکی دوستی کا یرغمال بن کے فلسطین کو ایک مجبوری میں دھکیل کر چلا گیا۔ آخری عمر میں اپنی یہودی بیوی کی حفاظتی حراست میں اس نے اپنا علاج بھی یورپ سے کرایا اور مر گیا اور فلسطین کو بھی موت و حیات کی کشمکش میں چھوڑ گیا۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے اسرائیل ایسی کھلی بربریت کا مظاہرہ فلسطین میں نہیں کر سکتا تھا۔ لیلیٰ خالد کہاں گئی۔ اس عورت نے اسرائیل کے علاوہ امریکہ اور مغربی دنیا کو بھی خوفزدگی میں مبتلا کر دیا تھا۔ دہشت زدگی کی لعنت اس خوفزدگی سے پھوٹی ہے۔ یہ سب مصنوعی صورتحال ہے جس میں عالم اسلام اور پاکستان کو مبتلا کر دیا گیا ہے۔

فلسطین اور کشمیر دو جڑواں مسئلے ہیں۔ جس طرح کشمیر کے لئے مجاہد صحافت اور پاسبان نظریہ پاکستان مجید نظامی فرماتے ہیں کہ جنگ اور جہاد کے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ فلسطین بھی جہاد سے ہی حل ہو گا اس کے لئے تمام عرب ممالک عالم اسلام کو متحد ہو کر اسرائیل پر چڑھائی کرنا ہو گی۔ قائداعظم سے زیادہ بصیرت والا لیڈر پاکستان اور مسلمانوں کو نہ ملے گا۔ انہوں نے فرمایا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور فلسطین کے لئے انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے انگریز آرمی چیف کو کشمیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر؟ تب سے مغرب کشمیر کے لئے بھارت کے ساتھ ہے۔ فلسطین کے حوالے سے مغرب اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی کوئی بتائے کہ مسلمان حکمران کس کے ساتھ ہیں؟

خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ بادشاہی

بات چیت اور مذاکرات سے امریکہ اور یورپ نے اپنے مسائل کیوں حل نہیں کئے۔ پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے۔ یہ دشمنوں کو معلوم ہے۔ دوستوں کو بھی معلوم ہے۔ دوست دشمن جو مصلحتوں کا شکار ہیں سن لیں کہ نعرہ تکبیر کی گونج فضا میں تحلیل کبھی نہیں ہو گی ہم زندگی اور امن و سلامتی کے لوگ ہیں مگر کمزوری موت ہے۔
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات آخر میں ایک بات یاد آئی ہے کہ ہمارے بہترین اینکر مین طلعت حسین فلسطین گئے تھے۔ دوسروں کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ پاکستانی میڈیا نے اس بات کو بہت اٹھایا تو میں نے لکھا کہ طلعت کی بہادری قابل تعریف ہے مگر اصل معاملہ پس منظر میں نہیں جانا چاہئے۔ طلعت اس جملے پر خفا ہو گیا۔ میں اسے اتنا تنگ دل نہیں سمجھتا۔ آج بھی اسے پاکستان کا سب سے اچھا اینکر مین سمجھتا ہوں۔ آج کل فلسطین کے لئے اس کا کوئی پروگرام نظر سے نہیں گزرا۔ ندیم کا ایک نعتیہ شعر ؎

ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں