ایک پر تاسف پریس کانفرنس اور ایک بھاری وار

نجم الحسن عارف

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

خواجہ آصف کی بول بلار کی صلاحیتوں کا کسے اعتراف نہیں، خوب بولتے ہیں۔ کیوں نہ بولیں ایک ایسے بزرگ سیاستدان خواجہ صفدر کی آغوش میں تربیت پائی ہے جس سیاستدان نے مجلس شوری کی گھاٹ کا بھی پانی پیا تھا اور سکہ بند مسلم لیگی بھی تھے۔ خواجہ صاحب بولتے ہیں تو سیالکوٹی لہجے کے ساتھ کبھی کبھی لاہوری لہجہ بھی نمایاں ہو رہا ہوتا ہے جس کا تاو اور لگنے والا گھاو سب یادگار بن جاتے ہیں ۔ مخدوم امین فہیم کو سامنے رکھیں تو خواجہ آصف کی آصف زرداری سے قربت بھی صاف نطر آجاتی ہے۔ اتفاق سے منگل کے روز کے قومی اخبارات میں ان دونوں آصفین نے خوب جگہ پائی ہے اور سیاسی باکس آفس میں خوب بزنس کیا ہے۔ لیکن میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے لیے بدقسمتی سے دونوں کے خیا لات سے خیر پھوٹنے کا امکان کم اور شراندازی کا خدشہ زیادہ ہے۔

جناب خواجہ نے ایک طرح سے اپنی وزارت کے ایک سال کا حاصل حصول کھول کر پیش کر دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اب تک جس میدان کی خود کو دھنی بتا رہی تھی جناب خواجہ نے اسی کا بھانڈا پھوڑنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کر دی ہے۔ لگتا ہے وہ کسی سخت پریشانی میں اپنی اور حکومت کی پانی و نجلی کے شعبے میں کارکردگی پر پانی پھیرنے پر تلے بیٹھے تھے ، اس لیے انہوں نے صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ عوام بجلی کے معاملے میں ہم پر نہ رہیں، صرف مون سون کا انتظار کریں۔

انہوں نے بجلی کی ترسیل کے حوالے سے سسٹم کی اہلیت اور گنجائش کی کمی کا اظہار تو کیا لیکن اس میں کسی بہتری کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ گردشی قرضو ں سے بھی اس طرح ڈرایا ہے کہ ان سے نمٹنا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ نندی پور پاور پراجیکٹ حکومت میں آنے سے پہلے سے مسلم لیگ نواز کے لیے ایک ماڈل پراجیکٹ رہا ہے۔ خواجہ صاحب نے اسے بھی نندیا پور پہنچا دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے۔ گویا ''جتھوں دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی۔ '' عوام بارشوں کے لیے دعائیں کریں بارشیں ہوں گی، پانی آئے گا پاور سٹیشن چلیں گے تو گھر بلب جیلں گے ورنہ کوئی خوشبری نہیں کوئی بہتری نہیں۔

وزیر پانی و بجلی نے خود کو عملا وزیر مون سون بنا کر پیش کیا ہے کہ مون سون آئے گی تو ان کی وزارت ڈیلیور کر سکے گی۔ یہ جتنا بھی بڑا سچ ہو واقعہ یہ کہ عوام کے لیے اتنا ہی کڑوا ہے۔ خصوصا ایسے موقع پر جب گرمی اپنے زوروں پر اور لوڈ شیڈنگ اپنے طے شدہ اور علانیہ نظام الاوقات کے جامے سے باہر ہو رہی ہے۔ پہلے صرف وہ تنگ تھے جن کے ''یو پی ایس'' یا ''اے سی'' کی سہولت نہ تھی اب گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے گٹھ جوڑ کے موسم میں ہر کوئی بلبلا رہا ہے۔ عوامی مشکلات کو وزیر اعظم بھی براہ راست محسوس کر رہے ہیں اور متعلقہ حکام کی باز پرس بھی کرتے ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات جس کا اظہار خودہ خواجہ صاحب نے کر دیا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ خواجہ آصف کی ذات اور ذاتی صفائی کے لیے یہ وضاحتیں کتنی ہی ضروری ہوں حکومت کے حق میں یہ باتیں کم از کم اس وقت پر انتہائی غیر موزوں تھیں۔ ایک طرف علامہ طاہرالقادری گلا پھاڑ پھاڑ کر انقلاب انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں اور عالی ظرفی سے عاری دشمن کی طرح موقع کی تلاش میں ہیں، دوسری جانب عمران خان نے مولانا طارق جمیل کے کہنے پر اپنے سونامی مارچ کو آزادی مارچ کا نام دینے سے اتفاق کر لیا ہے ۔ گویا یوم آزادی کے دن آزادی اور اس کے ثمرات کی بات کرنا تو جائز ہے۔

ایسے میں ایک طرف حکومتی پارٹی کے منجھے ہوئے، بردبار اور مدبر و بزرگ سیاستدان چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں اور جن کے پاس بولنے کا لائسنس ہے وہ مخالفین کا تمسخر اڑانے اور چٹکلوں پر چٹکلے چھوڑنے کو حکومت کا دفاع کرنے کے لیے کافی سمجھ رہے ہیں۔ سیاسی مخالفت کا بہترین جواب کارکردگی اور سیاسی مکالمہ ہوتا ہے۔ کارکدگی میں کسی وجہ سے کمزوری یا دیری بھی ہو تو سیاسی مکالمے سے معقول بات سمجھی اور سمجھائی جا سکتی ہے۔ طوفانوں کو اٹھنے سے پہلے روکا جا سکتا ہے۔

حالیہ برسوں کا زرداری طرز حکمرانی بعض خرایبیوں اور انتہائی خرابیوں کے باوجود کچھ پہلووں سے ایک مثال بنایا جا سکتا ہے کہ کمزور ترین حکمران کس طرح پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب رہے۔ خود مولانا فضل الرحمان کے ساتھ موجودہ حکومت بھی چنگے بھلے طریقے سے ڈیل کر رہی ہے، کیا ضروری تھا کہ ایک اپوزیشن جماعت کے مارچ کو روکنے کے لیے حکومت ڈی چوک میں تقریب آزادی کا اعلان کرتی۔

سبھاو سے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کے دن آنے والوں کے لیے چشم براہ ہونے کا اعلان کیا جاتا کہ آزادی کا دن تو کم اکم ہایک کے لیے خوشی آور آزادی کا رہنا چاہیے۔ اگر کوئی خرابی کی نیت لے کر آئے تو حکومت اپنی تدبیر سے سدباب کرنے کا پورا حق رکھتی ہے ۔ یہ تو بھلا ہو عمران خان کا کہ جذباتی زیادہ ہیں ورنہ وہ جوابا اعلان کرکے حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لاسکتے تھے کہ ہم حکومتی تقریب آزادی کا خیر مقدم کرتے ہیں اس لیے ہم ڈی چوک پر 14 کو نہیں اب 15 اگست کو جمع ہو جائیں گے۔

اس لیے ایک جانب سیاسی مہمات کا توڑ غیر سیاسی طریقے سے کرانے والے تجویزکار غالب ہیں اور دوسری جانب خواجہ صاحب نے بجلی نہ ہونے کی بجلی گرا کر کومت کو کے ساتھ پر اندر سے وار کر دیا ہے ۔ واقعی حکومت کو بھی باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے۔
اس سے بھی گھاونا تیر قبلہ زرداری صاب کی مفاہمانہ ترکش سے نکلا ہو اور انہوں نے وزیرستان آپریشن کے متاثرین کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر جس لب و لہجے میں بیان داغا ہے اس پر حکومت کے ارباب بست و کشاد ضرور کہنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے کہ

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

جناب زرداری نے ایک سال کے دوران بڑی سمجھداری سے کام چلایا۔ کبھی بلاول کو آگے کیا، کبھی شرجیل میمن بروئے کر لائے اور کبھی کسی اور پہلوان سے کام لیا۔ اب جب انہوں نے حالات کے دھارے کو مفید پایا تو پہلے جناب یوسف رضا گیلانی کا منہ کھلوایا کہ پرویز مشرف کو محفوظ اور باعزت واپسی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ گویا جن کے ساتھ مل کر معاہدہ کیا گیا تھا انہیں حکومت اب دھوکہ دے رہی ہے۔ ابھی حکومت اسی وار سہلا رہی تھی کہ جناب زرداری نے خود ایک بھاری وار کر دیا ہے، جناب زرداری نے بھی وقت کا چناو خوب کیا ہے۔

اتفاق خواجہ آصف کی دعا سے ابھی بارش تو نہیں برسی البتہ دو آصفین اپنے اپنے انداز ،میں خوب برسے ہیں۔ حکومی سٹیک ہولڈرز کو بم کو دولتی مارنے والے گھوڑوں اور عین وقت پر دغا کر جانے والے دوستوں سے بچ کر رہنا ہوگا۔ حکومت کا دفاع تھڑ دلے اور جلی بھنی بیٹھی شخصیات نہیں بالغ نظر اور مدبر سیاستدان کرسکتے ہیں۔ جی ہاں راجہ ظفرالحق جیسےلوگوں کو کب حرکت میں لایا جائے گا۔ کیا مسلم لیگ نواز کا ترکش خالی ہو گیا ہے۔ کیا رجل رشید موجود نہیں جو ان سے کام لینے والے تامل کا شکار ہیں۔ خیال رہے بارشیں ہوں یا نہ ہوں پانی تیزی سے پلوں کے نیچے سے گذر رہا ہے۔ بس اتنا کافی ہے کہ '' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقابلہ سخت ہے۔''

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں