.

فلسطین

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے دنیا کے سب سے گنجان آبادی والے خطے پر ایک بار پھر حملے کرکے فلسطینیوں کی نسل کشی کی اپنی روایتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ دنیا بھر سے مذہب (یہودیت) کے نام پر اکٹھے کیے گئے لوگوں کی مصنوعی ریاست (اسرائیل) نے روزِ اوّل سے ایک باقاعدہ حکمت عملی کے تحت یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ اس خطے پر آباد فلسطینیوں کو، جو صرف مسلمان ہی نہیں مسیحی بھی ہیں، یہاں سے ہجرت پر مجبور کر دیا جائے۔ اگر آپ فلسطینی خطے یا سرزمین کا گہرا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اپنے قیام سے اب تک صیہونیوں نے کس طرح اس مصنوعی ریاست کی سرحدیں وسیع کیں اور فلسطینیوں کو یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبوریا پھر قتل کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

1998ء میں اقوامِ متحدہ کے تحت مجھے اردن میں ایک لیڈر شپ پروگرام میں شرکت کا موقع ملا، جس کے تحت 3 ہفتے عمان میں، ایک ہفتہ قاہرہ اور ایک ہفتہ تل ابیب اور یروشلم بھی شامل تھا۔ میں اس لیڈر شپ پروگرام کے تحت عمان میں تین ہفتے اور ایک ہفتہ قاہرہ تو گیا لیکن احتجاجاً نام نہاد اسرائیل جانے سے انکار کر دیا اور مجھے قلبی اطمینان اس بات کا ہے کہ میں نے اسرائیل نہ جانے کا یہ فیصلہ خاموشی سے نہیں بلکہ عمان میں اس لیڈر شپ پروگرام میں ایک دن سابق وزیراعظم اسرائیل شمعون پیریز (موجودہ صدر) کے سامنے اپنے ایک سوال کے دوران کیا۔ جب شمعون پیریز نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ ’’ہم نے اسرائیل کا آئین بدل کر فلسطینیوں کو اوسلو معاہدے میں اپنی سرزمین کا کافی حصہ واپس کیا اور یہ کہ پی ایل او کو دہشت گرد تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ میں نے اپنی باری پر شمعون پیریز سے سوال کیا کہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ وہ لوگ جو یہاں صدیوں سے آباد تھے، آپ نے یہ کہا کہ آپ نے اپنی سرزمین ان کو دے دی۔

اس سے زیادہ حاکمانہ اور غیر منصفانہ دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ باہر سے آئے قابض لوگ (صیہونی) مقامی لوگوں کی مقبوضہ زمین کا کچھ ٹکڑا واگزار کرنے پر ایک احسان کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور وہ بھی آپ جیسا اہم شخص جو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر رہا ہے اور یہی وہ Expansionist اپروچ ہے جو صہیونیت کی بنیاد ہے۔ میرے اس کمنٹ پر سارے ہال میں سناٹا چھا گیا اور دورانِ سوال شمعون پیریز کے ساتھ آئے اسرائیلی سکیورٹی والوں نے میری کرسی کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ لیکن میرے کمنٹ کے بعد جلاوطن سوڈانی دوست منصور العجب جو کہ کبھی سوڈانی پارلیمنٹ کا رکن تھا اور ان دنوں آکسفورڈ میں سوڈان پر لیکچر دے کر گزراوقات کر رہا تھا، مجھ سے بھی زیادہ ہوش اڑا دینے والا سوال داغ دیا کہ ’’مجھے یہ بتلائیں کہ آپ کے پاس نسل پرستی (صہیونیت) کے جذبے کے تحت مذہب کے نام پر ایک ریاست بنانے کا کیا جواز ہے اور وہ بھی بالفور نامی خفیہ معاہدے کے نتیجے میں آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آپ مشرقِ وسطیٰ میں واحد ایٹمی طاقت ہیں اور آپ کے ہاں انسان کش اسلحہ کے انبار لگے ہیں اور پھر بھی آپ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے غیر محفوظ ریاست ہیں اور آپ غلیل سے جدوجہد آزادی کرنے والوں سے خوف زدہ کیوں ہیں اور آپ لوگ (صیہونی) جو نازی ظلم کا شکار ہوئے، آپ نے ظلم کے وہی طور طریقے کیوں اپنا لیے؟‘‘

میرے لیے اسرائیل ایک مصنوعی اور دنیا کی سب سے بڑی متعصب ریاست ہے جو مذہب اور نسل پرستی کے نام پر قائم کی گئی۔اسی تضاد نے اس کے اندر گھناؤنا پن قائم کر دیا ہے۔ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کے دوران شامل فلسطینیوں نے گھیر لیا اور پوچھا کہ آپ تو ہم سے بھی زیادہ اسرائیل مخالف ہیں تو میں نے عرض کیا ہاں کہ میری قوم کی جبلت میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا شامل ہے۔ یہ ہمارا طے شدہ قومی موقف ہے۔ ہمارے بانی قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر ہر نکتہ نظر رکھنے والے ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ میرے کئی دوست اسرائیل کے خلاف جنگوں میں شرکت کر چکے ہیں جن میں ہمارے دوست آغا ندیم بھی شامل ہیں جنہوں نے لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے بعد کابل کو خیر باد کہہ کر لبنان کا رخ کیا اور عملی طور پر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ اس دوران کانفرنس میں موجود ایک خاتون نے کہا اور آپ کے ذوالفقار علی بوتو(بھٹو) بھی تو فلسطینی کاز کے بڑے حمایتی تھے۔ میری یہ فلسطینی دوست حنان الوزیر، فلسطینی جدوجہد کے بانی ابو جہاد کی بیٹی ہے اور ایک وقت وہ یاسر عرفات کی صدارت میں ترجمان بھی بن گئی۔ اسرائیل اور فلسطین تنازع میری دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ امریکہ میں اپنی تعلیم کے دوران ایک شخص نے مجھے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ میں اپنی بیوی کے مقابلے میں بدنصیب شخص ہوں کیوں کہ جب ہم دونوں سی آئی اے میں فلسطینی ڈیسک میں ریسرچر تھے، میں تو معمول کے مطابق اپنے عہدے سے ریٹائر ہوا لیکن میری بیوی نے کئی سالہ تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل ایک جارح ریاست ہے اور اس کا وجود غیر فطری اور ظالمانہ ہے۔ اس امریکی شہری کا نام بل کرسٹن ہے۔

میرے لیے فلسطین ایک قومی مسئلہ ہے، اس لیے کہ میں نے کئی بار مختلف عالمی کانفرنسوں میں دیکھا کہ میں جنہیں کانفرنس میں شامل فلسطینی مسلمان سمجھتا رہا ،وہ فلسطینی مسیحی تھے۔ میرے لاتعداد فلسطینی دوست ہیں، صرف وہی نہیں جو لبنان یا مغربی دنیا میں رہتے ہیں بلکہ جو فلسطینی اتھارٹی یا نام نہاد اسرائیل میں ہیں۔وہ مسلمان بھی ہیں اور مسیحی بھی اور اسی طرح میرے درجنوں ایسے دوست ہیں جو مراکش، کاکیشیا یا مغربی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور یہودی ہیں، وہ بھی اسرائیل کی ریاست کے اتنے بڑے ہی نقاد ہیں جتنے فلسطینی یا کسی مسلمان ملک کے باشندے۔ چند سال قبل اسرائیلی ٹینکوں کے سامنے مزاحمت کرنے والی نوجوان کینڈین لڑکی کوری میرے ساتھ ایک ہی امن کی عالمی تنظیم میں رہی۔ اس تنظیم کے تحت وہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرامن احتجاج میں شامل ہوئی اور پھر اسرائیلی ٹینکوں نے اسے روند ڈالا اور پوری دنیا میں کوری امن اور آزادی کی علامت کے طور پر جانی جانے لگی۔

فلسطین کاز کے حوالے سے جارج گیلوے اور ٹونی بن سے بڑا علمبردار کون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک، مجھے جن سے ملنے کے متعددمواقع ملے اور اکٹھے کئی تقریبات میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ فلسطینیوں نے محکوموں کو اپنی دہائیوں کی جدوجہد سے سبق دیا کہ اپنی سرزمین کا دفاع کس طرح کرتے ہیں، انہوں نے آزادی کی جدوجہد کرنا بھی سکھایا کہ جارج حباش، لیلیٰ خالد اور حنان اشرفی کے بغیر جدوجہد فلسطین ممکن ہی نہیں۔ فلسطینیوں نے دنیا کی سب سے بڑی Ruthless State کے خلاف صبر آزما جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم ان کی حمایت کرتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں سے سوشل میڈیا پر میں نے جو ویڈیو دیکھی ہیں، وہ تمام کی تمام غیرمسلموں کی ہیں جو اسرائیل، امریکہ اور مغرب کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہی فلسطینیوں کی کامیابی ہے۔ آج بھی اگر اسرائیل، امریکہ اور مغرب ، فلسطینیوں کی حمایت کے حوالے سے کہیں خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں تو وہ ان کو خطرہ سمجھتے ہیں جو عقیدے کے حوالے سے مسلمان نہیں، خون کے حوالے سے فلسطینی نہیں اور پھر بھی وہ اسرائیل کی بربریت پر شدت کے ساتھ تنقید کرتے ہیں۔

چند ہفتے پہلے برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ سر جیرالڈ کافمین جو کہ عقیدے کے حوالے سے یہودی ہیں، نے کہا کہ ’’اسرائیلی اسی طرح جارحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جیسے نازیوں نے یہودیوں پر کی۔‘‘ تین روز قبل ایک خبر کی رپورٹ نے، جو کہ رشین ٹی وی پر ایبی مارٹن کر رہی تھی، میری آنکھوں کو پرنم کر دیا۔ یہ امریکی صحافی جدید مغربی لباس پہنے جس طرح غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے جذباتی ہوئی۔ ایبی مارٹن ایک غیر جانبدار صحافی ہے لیکن اسرائیلی جارحیت کی رپورٹ نے اس کے اندر کا منصف انسان آشکارا کر دیا اور رپورٹ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ\”It\’s too much.\”۔ میری شریک حیات ریما عبداللہ کے والد کامل عبداللہ مرحوم کے قصبے کانام خیام ہے جو فلسطین (نام نہاد اسرائیل) کی سرحد پر واقع ہے۔

لبنان کے اس سرحدی قصبے خیام، مَیں جب بھی جاتا ہوں تو سرزمین فلسطین کو چھونے کا اعزاز حاصل کرتا ہوں، جہاں چند گز کے فاصلے پر دنیا سے آکر آباد ہوئے صہیونیوں کی مصنوعی آبادیاں (Settlements) ہیں۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک لبنانی عورت سرحد کنارے بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔ میں اس کے قریب کھڑا ہوگیا۔ وقفے کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ اسرائیل کی طرف رخ کرکے کیوں تلاوت کر رہی ہیں۔ خاتون نے کہا، اسرائیل نہیں، اس طرف فلسطین ہے اور اسی رخ پر قبلہ اوّل ہے۔ میرا ایک پسندیدہ گیت ’’شہروں میں ایک پھول‘‘ ہے جو لبنان کی گلوکارہ فیروز نے یروشلم کے بارے میں گایا ہے۔ یہ گیت ’’شہروں میں ایک پھول‘‘ القدس کی تاریخ بھی ہے اور مستقبل بھی۔ عرب دنیا میں فیروز کا یہ گیت، فلسطینی قوم کا گیت کہلاتا ہے اور میرے ہاں کبھی کبھار صبح کو بجتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.