پاکستان کی جوہری سفارت کاری

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
ڈاکٹر ملیحہ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

پاکستان خطے میں جنم لینے والے نئے فوجی و تذویراتی حالات کے سیکورٹی مضمرات کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے، جو جنوبی ایشیا کے جوہری مستقبل سے متعلق اس کی سوچ پر ممکنہ طور پر اثر انداز ہوں گے۔ یہ حالات پہلے سے ہی پاکستان کی جوہری سفارتکاری کو شکل دے رہے ہیں، خصوصاً جنیوا میں تخفیف ہتھیاروں پر ہونے والی کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ (سی ڈی) میں جہاں بم بنانے والے فیسائل مواد پر پابندی کے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کے لئے کئی دہائیوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سی ڈی تخفیف ہتھیاروں پر کثیر الفریقی بات چیت کیلئے دنیا کا واحد فورم ہے۔ گزشتہ ماہ جینز انٹیلی جنس ریویو، دا اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) اور امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی (آئی ایس آئی ایس) سب نے یہ خبر دی کہ بھارت کے یورینیم افزودگی کے ایک نئے مرکز کے منصوبوں کا بظاہر مقصد تو اس کی بحری استعداد کار کو بڑھانا ہے لیکن در حقیقت ان منصوبوں سے اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے تھرمو نیوکلیئر رستے پر گامزن ہورہا ہے۔

جینز کے جائزے میں ان کوششوں کی کافی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ انتہائی افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) کی پیداوار بڑھانے کے بھارتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے جینز کی اشاعت میں بتایا گیا کہ ہوسکتا ہے اسے بحرہند اور اس کے پار بھارتی بحری عزائم کی تکمیل کے لئے ترتیب دیا گیا ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اضافی استعداد کو بحری استعمالات (بشمول جوہری آبدوزیں) سے بھی آگے بڑھ کر تھرمو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے کام میں لایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں دہرایا گیا کہ امریکہ بھارت سویلین جوہری معاہدے کے تحت بھارتی ایٹمی ہتھیاروں کی مزید تیاری پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ۔ اس کی بازگشت گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کے ایک اداریئے میں بھی سنی گئی جس میں بتایا گیا کہ اس کمزور معاہدے میں بھارت سے ایٹمی ہتھیاروں پر بندش لگانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔اسی طرح، عالمی جوہری طاقتوں پر سپری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے اور میسور کے قریب ایک نیا غیر محفوظ گیس سنٹری فیوج مرکز زیر تعمیر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ممکنہ اضافی استعداد کار سے اس کے ارادے پتہ چلتے ہیں کہ وہ یورینیم کے ساتھ پلوٹونیم کے موجودہ ذخائر کا مرکب بنا کر تھرمو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے جا رہا ہے۔

آئی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک میں واقع مرکز سول اور فوجی مقاصد بشمول تھرمو نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کے لئے بھارت کی ایچ ای یو استعداد کار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ یہ مرکز کسی بھی بین الاقوامی حفاظتی قانون کے مطابق نہیں ہے۔بھارت کی جانب سے تھرمونیوکلیئر ہتھیاروں کے ذریعے اپنے اسٹریٹجک اسلحے میں اضافے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کی خبریں ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مضحکہ خیز طور پر مغربی حکومتوں کے خدشات مسلسل پاکستانی ایٹمی پروگرام پر ہی مرکوز ہیں۔

بھارت کے جوہری اقدامات سے متعلق تازہ انکشافات نے ثابت کردیا ہے کہ اپنے پڑوسی کی اسٹریٹجک بڑھوتری کے بارے میں پاکستان کے خدشات بے بنیاد نہ تھے۔ یہ انکشافات علاقائی سلامتی کے موجودہ کشیدہ ماحول میں مزید بگاڑ کی خبر بھی دیتے ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی متاثر کرے گا۔1998 میں دونوں ممالک کی جانب سے کئے جانے والے ایٹمی تجربات سے قائم ہونے والا اسٹریٹجک توازن گزشتہ دہائی میں پیش آنے والے متعدد عالمی اور علاقائی واقعات کی وجہ سے پہلے ہی کمزور پڑ چکا ہے۔ ان واقعات میں بھارت امریکہ سویلین ایٹمی معاہدہ، نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی چھوٹ اور اس کے نتیجے میں دہلی کے کئی ممالک کے ساتھ ایندھن فراہمی کے معاہدے شامل ہیں۔

دیگر امور میں بھارت کی جانب سے جنگ کے فعال فوجی نظریات بشمول کولڈ اسٹارٹ (سرد آغاز) کا کھلم کھلا اظہار ، اپنے جوہری تکون کو وسیع کرنے کی کوششیں، بیلسٹک میزائل دفاعی نظام (بی ایم ڈی) تیار کرنے کے منصوبے اور آبدوزوں سے مار کرنے والے و درمیانی رینج کی میزائل استعداد کو بڑھانے کی سعی بھی شامل ہے۔

ان حالات و واقعات جن میں جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں میں امتیازی رویہ برتنے کا پہلو بھی کارفرما ہے، نیز نیوکلیئر سی بی ایمز (اعتماد سازی کے اقدامات) پر پاکستان کے ساتھ سلسلہ جنبانی کرنے سے بھارت کا انکار اور روایتی ایٹمی ہتھیاروں کی مسلسل تیاری نے پاکستان کو ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پاکستان نے ہر سطح کی ڈیٹرنس (سد جارحیت) کا نظریہ اپنا کر اپنا ردعمل ظاہر کیا جس میں میدان جنگ میں استعمال ہونے والے (تدبیری) ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تیاری بھی شامل ہے۔ اس نظریئے کا مقصد تذویراتی توازن بحال کرنا اور مستحکم سد جارحیت کا دوبارہ قیام ہے۔

تھرمو نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی بھارتی کوششیں خطے کے نازک توازن اور سلامتی کے ماحول کو مزید خراب کریں گی۔ مغربی حکومتوں کی بھارت کے ساتھ اپنائی جانے والی استثنائی پالیسی اور کھلی ایٹمی چھٹی حالات کے اس نہج پر پہنچنے کی بنیادی وجہ ہے۔اس کے نتیجے میں ظاہر ہے یہی ہونا تھا بھارت کو اتنی شہ مل گئی کہ وہ خاص طور پر اپنے اسٹریٹجک ہتھیاروں اور صلاحیتوں میں اضافہ کرنے لگا اور پھر پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کے بامعنی مذاکرات سے انکار کر دیا جن سے سنجیدہ جوہری اعتماد سازی والے اقدامات کئے جا سکیں۔ اہم مغربی ممالک کی جانب سے ملنے والی کھلی ایٹمی چھوٹ نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا جس کے بارے میں پاکستان طویل عرصے سے خبردار کرتا آ رہا ہے کہ بھارت این ایس جی سے استثنیٰ ملنے کے بعد کئی ممالک سے ایندھن حاصل کرکے چپکے سے اپنے مقامی فیسائل مواد کے ذخائر کو اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کی طرف منتقل کررہا ہے۔ حالیہ رپورٹس سے تو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بھارت بحری پروپلزن (جہازوں، آبدوزوں کو حرکت میں لانے والا نظام) کے لئے درکار مقدار سے زیادہ ایچ ای یو بنانے والا ہے جسے تھرمو نیوکلیئر ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی کوئی نگرانی نہیں کی جارہی۔یہ حالات اس موقف پر اثر انداز ہوئے جو پاکستان نے حال ہی میں سی ڈی میں فیسائل مواد کی روک تھام کے معاہدے (ایف ایم سی ٹی) میں اپنایا ہے۔ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ تحفظات سب کو پتہ ہیں لیکن یہاں انہیں دہرائے جانے کی ضرورت ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کا مقصد مستقبل میں فیسائل مواد کی پیداوار کی روک تھام کرنا ہے لیکن یہ غیرمتوازن اسلحہ ذخائر اور بم کے مواد کے موجودہ ذخیروں کا مسئلہ حل نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے محض پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ عدم توازن کو ہی منجمد کردے گا۔ اسلحہ ذخائر میں عدم توازن کا معاملہ ملحوظ خاطر نہ رکھے جانے سے معاہدہ طے پانے کے نتیجے میں پاکستان ایک مستقل تذویراتی گھاٹے میں رہے گا۔ بھارت کو حاصل این ایس جی چھوٹ کی وجہ سے اس عدم توازن کا مزید بڑھنا نا گزیر ہے۔ جیسے کہ اس وقت نظر آ رہا ہے کہ ایف ایم سی ٹی پاکستان کو اپنی سد جارحیت کی صلاحیت محدود کرنے پر مجبور کر دے گا لیکن بھارت کے ساتھ روا رکھے جانے والے رعایتی سلوک کی وجہ سے اس کا اطلاق دہلی پر نہیں ہو گا۔ معاہدے کی موجودہ وسعت بھارت کو اسلحے کے تذویراتی ذخائر بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے مثلاً کئی ممالک کے ساتھ ایندھن معاہدے کرنے سے وہ ری ایکٹر درجے کے مواد کو پروسس کرنے کے قابل ہو جائے گا اور جب چاہے گا اسے ہتھیاروں میں استعمال کے قابل بنالے گا۔ حال ہی میں رواں سال کے اختتام پذیر ہونے والے سی ڈی اجلاس میں پاکستان نے ان بنیادی خدشات کو دہرایا ہے۔ لیکن اس کے نمائندوں نے اپنے موقف میں تازہ ترین حالات کو بھی شامل کیا ہے اور معاہدے کی وسعت کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس میں نہ صرف ہتھیاروں کی سطح کے یورینیم یا پلوٹینیم کا معاملہ بھی شامل کیا جائے بلکہ وہ ماضی اور مستقبل کی پیداوار کے مختلف قسم کے مواد کے حوالے سے حفاظتی قوانین کو بھی یقینی بنائے، مثلاً غیر ممنوعہ فوجی سرگرمیوں کے لئے جیسے بحری پروپلزن۔

پاکستان کے قابل مستقل نمائندے برائے اقوام متحدہ ضمیر اکرم سی ڈی میں اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح کے مواد کی ماضی کی پیداوار بشمول فوجی مقاصد کے لئے اضافی مواد کی تیاری کو نظر انداز کرنا ہزاروں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا ممکنہ سر چشمہ بنے گا۔ فیسائل مواد کی مخصوص اقسام کے غلط استعمال سے بچنے کے لئے انہوں نے تصدیق کے ایک مکمل طریقہ کار اور موثر نگرانی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ذخائر کے معاملے سے نمٹنے کے لئے کئی آپشنز بھی بیان کئے ۔مذاکرات میں پاکستان کا نمایاں تعاون بعض لوگوں کیلئے حیرت کا باعث ہوگا لیکن ایٹمی صلاحیت سے محروم ممالک کی اکثریت نے ہمیشہ پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ معاہدے کو فیسائل مواد کی موجودہ اور مستقبل کی پیداوار دونوں سے نمٹنا چاہئے۔ یہ اس موقف کو حاصل وسیع تر حمایت کا سبب ہی ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے چار سال تک مسترد کرنے کے بعد بالآخر امسال جنوری میں سی ڈی کے اجلاس کے شروع میں یہ تسلیم کر لیا کہ سی ڈی میں تمام امور بشمول ذخائر کے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے سمجھوتے کے بجائے بحث و مباحثہ ہونا چاہئے۔

رواں سال کے اجلاس میں پاکستان کی بھرپور شرکت کا مقصد اس کے غیرمبہم موقف کا پیغام دینا تھا کہ ایک وہ ایسے معاہدے کی حمایت کرتا ہے جو نہ صرف مستقبل کی پیداوار پر پابندی لگائے بلکہ اسلحے کے موجودہ ذخائر کا معاملہ بھی حل کرے اور ساتھ ہی اس مقصد کے حصول کےلئے عملی تجاویز بھی دے۔ پاکستان یہ اشارہ بھی دینا چاہتا تھا کہ معاہدے پر بات چیت کا موزوں فورم سی ڈی ہی ہے نہ کہ نام نہاد گروپ آف گورنمنٹ ایکسپرٹس (جی جی ای) جسے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کی قیادت مغربی ممالک کا ایک گروپ کر رہا تھا جو ایف ایم سی ٹی کا عمل سی ڈی سے باہر منتقل کرنا چاہتا تھا جس کے نتیجے میں وہاں تعطل پیدا ہو گیا۔ جی جی ای کو معاہدے کے زاویوں کی وضاحت کرنے کا ہدف دیا گیا لیکن گزشتہ ماہ ہونے والا اس کا پہلا اجلاس ایٹمی اور غیر ایٹمی ممالک کے درمیان اسی معاملے پر اختلافات کے باعث بے نتیجہ ختم ہو گیا جو سی ڈی میں ڈیڈ لاک کا سبب بنا تھا یعنی فیسائل اسٹاکس۔ اس نے ایک اہم حقیقت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ جب تک جنیوا میں تعطل کا سبب بننے والے معاملات حل نہیں کرلئے جاتے تب تک ایسی سفارتی مشقوں سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکے گی جو قائم کثیر الفریقی تخفیف اسلحہ مشینری سے باہر ہوں یا پھر ایسے معاہدے سے بھی کوئی حل نہیں نکلے گا جس میں بعض ممالک کے مفادات کا خیال رکھا جائے اور بعض کو نظر انداز کر دیا جائے۔ پاکستان نے فیسائل مواد کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک عملی اور منصفانہ طرز عمل اختیار کرنے کی تجویز دی ہے جو ذخائر میں عدم تناسب کے مرکزی مسئلے کا احاطہ کرتا ہے۔ گیند اب ان لوگوں کے کورٹ میں ہے جنہوں نے طویل عرصے سے پاکستان کو اس کے موقف پر اپنے عتاب کا نشانہ بنایا ہے لیکن مسئلے کا کوئی ایسا قابل عمل سمجھوتہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جو تمام ممالک کے سیکورٹی خدشات کا حل پیش کرتا ہو جو اسلحے پرکسی بھی کنٹرول یا تخفیف معاہدے کے لئے لازم و ملزوم ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں