تقسیم افغانستان کا خدشہ۔ حقیقت یا فسانہ؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

نہ جانے بعض دانشوروں کو افغانستان ملک کم اور شیشے کا گلاس زیادہ کیوں نظر آتا ہے ۔ وہاں سیاسی یا عسکری محاذ پر کوئی معمولی تبدیلی آ جاتی ہے اور یہاں یہ لوگ تقسیم افغانستان کے خدشات ظاہر کرنے لگ جاتے ہیں ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس بھیانک خواب کو دیکھنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ان دو ملکوں میں پائی جاتی ہے جو سب سے زیادہ افغانستان سے متعلق ہیں اور جہاں افغانستان کا تذکرہ دنیا کےکسی بھی ملک سے زیادہ ہوتا ہے یعنی امریکہ اور پاکستان۔ خود افغانستان کے اندر اس بنیاد پر تجزیہ کرنے والوں یا پھر اس بھیانک خدشے کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنمائوں یا دانشوروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن مغرب اور پاکستان میں ان کی بہتات ہے۔ اب جبکہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتائج متنازع ہوگئے ہیں تو جہاں امریکہ کے بعض دانشور تقسیم افغانستان کے خدشات ظاہر کرنے لگے ہیں، وہاں پاکستانی میڈیا میں بھی ان کی بنیادپر تجزیے ہونے لگے ہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ لوگ بھی مغربی دانشوروں کی طرح مخصوص عینک لگا کر افغانستان کو دیکھتے ہیں، ماضی میں جیتے ہیں یا پھر پاکستانی پالیسی سازوں کی سالوں سے استوار شدہ خطوط کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں اور آزادانہ سوچ کے ساتھ افغانستان کے زمینی حقائق کی بنیاد پر تجزیہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔

حالانکہ خطے کے دیگر ممالک کی بہ نسبت لسانی بنیادوں پر افغانستان کی تقسیم کا امکان سب سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ اب امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی مداخلت سے ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ انتخابی نتائج سے متعلق ووٹوں کی تصدیق کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں لیکن اگر یہ تنازعہ ختم نہیں ہوتا تو بھی اس کے نتیجے میں افغانستان ایک بڑے سیاسی بحران سے تو دو چار ہو گا تاہم یہ بحران لسانی بنیادوں پر ہو گا اور نہ یہ تقسیم افغانستان کا موجب بنے گا۔ کچھ قوتیں یہ کوشش ضرور کریں گی کہ اس کو لسانی رنگ دیا جائے اور تقسیم افغانستان کی راہ ہموار ہو سکے لیکن اس کوشش کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ مغربی اور پاکستانی میڈیا میں یہ غلط تاثر پھیلا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی چونکہ پختون اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ تاجک پنجشیری ہیں، اس لئے ایک پختونوں اور دوسرے تاجکوں کے نمائندے ہیں۔ یوں ان کا تنازعہ دو لسانی قومیتوں کا تنازعہ بنے گا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا تعلق پنجشیر سے ضرور ہے لیکن ان کے والد پختون ہیں اور وہ روانی کے ساتھ پشتو بول سکتے ہیں ۔ عبداللہ عبداللہ کے ساتھ نائب صدر اول کے لئے ماضی میں گلبدین حکمتیار کی جماعت سے وابستہ پختون انجینئر احمد خان امیدوار ہیں اور انتخابی نتائج پر جو اعتراض عبداللہ عبداللہ کو ہے، وہی اعتراض اسی پختون انجینئر احمد خان کو بھی ہے ۔

پہلے مرحلے میں حامد کرزئی کے نمائندے سمجھے جانے والے پختون امیدوار زلمے رسول بھی دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور دھاندلی کا الزام وہ بھی لگا رہے ہیں۔ پختونوں کے اصل گڑھ قندھار سے تعلق رکھنے والے پہلے مرحلے کے صدارتی امیدوار گل آقا شیرزوئی بھی عبداللہ عبداللہ کے اتحادی ہیں اور اگر اشرف غنی کی جیت کے خلاف کوئی تحریک چلے گی تو وہ بھی عبداللہ عبداللہ کے ہمرکاب ہوں گے۔ اسی طرح ہزارہ قوم کے نمائندے استاد محقق بھی نائب صدر کے امیدوار کے طور پر عبداللہ عبداللہ کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد ازبک، ترکمن اور دیگر پختون رہنمائوں کی بھی عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ہے ۔ فریق ثانی یعنی ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی کے کیمپ کی طرف آ جائیے۔ تاجکوں اور پنجشیریوں کے غیرمتنازعہ لیڈر سمجھے جانے والے احمد شاہ مسعود کے سیاسی جانشین، ان کے بھائی احمد ضیاء مسعود ہی ہو سکتے ہیں اور وہ اشرف غنی کے ساتھ نائب صدر اول کے امیدوار ہیں۔

ازبکوں کے سب سے طاقتور لیڈر عبدالرشید دوستم ان کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار ہیں جبکہ ہزارہ قوم کے کئی ممتاز لیڈروں کے علاوہ پہلے مرحلے میں گلبدین حکمتیار کی جماعت کی نمائندگی کے دعویدار قطب الدین ہلال بھی دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ ہیں۔ اب جب پختون ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ ساتھ تاجک یا پنجشیری احمد ضیاء مسعود اور ازبک عبدالرشید دوستم بھی کامیابی کا جشن منارہے ہیں اور پنجشیری عبداللہ عبداللہ کے ساتھ دھاندلی کا الزام پختون انجینئر احمد خان، پختون میرویس یاسینی (ڈپٹی ا سپیکر قومی اسمبلی) ، پختون گل آقاشیرزوئی اور پختون استاد سیاف بھی لگارہے ہیں تو پھر یہ تنازعہ لسانی بنیادوں پر تقسیم کا موجب کیوں بنے گا؟ ایک اور حقیقت جو نظرانداز کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹراشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سیاسی جماعتوں کے رہنما نہیں ۔ پاکستان میں چونکہ سیاسی جماعتیں قائم ہیں اور ان پر شخصیات کی گرفت مضبوط ہے اس لئے یہاں میاں نوازشریف کا فیصلہ پورے مسلم لیگ کااور زرداری صاحب کا پوری پیپلز پارٹی کا فیصلہ بن جاتا ہے یا پھر عمران خان کے دل میں آنے والا کوئی بھی خیال پوری تحریک انصاف کی پالیسی بن جاتی ہے لیکن افغانستان میں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوئی ہیں اور نہ ان پر شخصیات کی گرفت مضبوط ہے ۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی بھی اگر پاکستانی لیڈروں کی طرح اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے رہنما ہوتے تو پھر وہ ایسا کر سکتے تھے لیکن اشرف غنی کی طاقت ان کی وہ اتحادی شخصیات ہیں جن میں دیگر لسانی قومیتوں کے لوگ بھی شامل ہیں جبکہ عبداللہ عبداللہ کی کی موجودہ حیثیت بھی مختلف پختون، ہزارہ، ترکمن اور ازبک شخصیات سے مل کر بنی ہے۔

اشرف غنی اگر لسانی بنیادوں پر کوئی نعرہ بلند کریں گے تو پھر تاجک احمد ضیاء مسعود اور ازبک رشید دوستم کیوں ان کا ساتھ دیں گے ۔ اسی طرح اگر عبداللہ عبداللہ تاجک قوم کے علمبردار بنیں گے تو پھر ان کے ساتھ انجینئر احمد خان، گل آقا شیروزئی، زلمے رسول اور میرویس یاسینی وغیرہ کیوں ہمنوا رہیں گے۔ نہ جانے ہمارے دانشور یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ افغانی جس قدر کسی ایک قائد یا منشور پر متفق نہیں ہوپاتے، اس قدر وہ افغانستان کی وحدت اور استقلال پر متفق ہیں۔ دنیا کے کسی ملک کا شہری اپنے ملک یا جھنڈے کے بارے میں غلط بات سننے پر اس قدر سیخ پا نہیں ہوتا جتنا کہ ایک افغانی ہوتا ہے ۔ افغانستان اور افغانیت کا جتنا زیادہ ذکر افغانستان کی شاعری اور موسیقی میں پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے، وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں۔ جغرافیائی حوالے سے دیکھا جائے تو بھی افغانستان کے اندر لسانی قومیتوں کی تقسیم اس طرح ہوئی ہے کہ افغانستان کی تقسیم ان بنیادوں پر ناممکن نظر آتی ہے ۔ مثلاً ’’ہرات‘‘ افغانستان کے جنوب میں قندھار کے ساتھ جنوبی پٹی میں ایرانی سرحد پر واقع جنوبی شہر ہے لیکن یہاں تاجکوں کی اکثریت ہے ۔ دوسری طرف ’’قندوز‘‘ افغانستان کے انتہائی شمال میں تاجکستان کی سرحد سے متصل صوبہ ہے جہاں پختونوں کی اکثریت ہے اور پختونوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت یعنی حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمتیار کا تعلق اسی صوبے سے ہے ۔ اسی طرح ’’دیہہ کنڈی‘‘ کا صوبہ جنوب مشرقی افغانستان میں پختون صوبوں کے درمیان واقع ہے جہاں دری بولنے والوں کی اکثریت ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ تاجک کسی ایک حصے یا کونے میں بستے ہیں بلکہ وہ ملک میں پھیلے ہوئے ہیں جبکہ پختون بھی کسی ایک حصے تک محدود نہیں ہیں ۔ شمال میں تاجکوں کے ساتھ ازبک اور پختون بھی رہتے ہیں جبکہ وسط میں ہزارہ قوم سب کے درمیان پل کا کام دیتی ہے ۔ خود کابل بھی کسی ایک قومیت کا شہر نہیں ۔ اس میں سب قومیتوں کے لوگ بستے ہیں اور اس کے تین سمتوں میں پختون جبکہ ایک سمت میں تاجک علاقے ہیں۔ حیران ہوں کہ ان واضح حقائق کے ہوتے ہوئے وقتاً فوقتاً لسانی بنیادوں پر افغانستان کی تقسیم کی آوازیں کیوں بلند کی جاتی ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں