جمہوری حکمرانوں کا غیر جمہوری رویہ

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

وزیرِ اعظم صاحب نے ایک مرتبہ پھر مقدس ماہِ صیام میں لوڈ شیڈنگ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کا فوری تدارک کرنے کے احکامات جاری فرما دیے ہیں۔ نصف رمضان تو تمام ہوا اور اس سے قطع نظر کہ وزیرِ اعظم صاحب نے کیا احکامات صادر کرنے ہیں، ہمیں ’’عملیت پسندی‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے موسمِ برسات کے جلد آغاز کی دعا کرنی چاہیے۔ بارش قوم کے دکھوں کا اس سے کہیں زیادہ مداوا کر دے گی جو سیکرٹری برائے توانائی، نرگس سیٹھی، کی کاوشوں سے ممکن ہو سکتا ہے۔ آج کل خادمِ اعلیٰ نے جالب کا کلام پڑھنا کیوں موقوف کر دیا ۔’’ ایسے دستور کو، صبح ِ بے نور کو، میں نہیں جانتا۔۔۔‘‘ جناب کے ہونٹوں پر ان انقلابی الفاظ سے زیادہ کوئی اور ولولہ انگیز اور جرات آمیز بات کیا اچھی لگے گی؟ بعض اوقات وہ ان اشعار کو اپنی مترنم آواز میں گاتے بھی تھے۔ تاہم جالب کچھ اور نہیں، جالب ہی تھے۔ اگر ان مواقع پر جالب بھی موجود ہوتے تو کہتے کہ ’’کچھ نہ ماننے‘‘ کی بجائے لینن سے دانائی کا سبق لیں۔ روسی انقلاب کے بعد کسی کسان نے پوچھا کہ کمیونزم کیا ہے، تو لینین کا جواب تھا۔ ’’کمیونزم کیا ہے؟ کمیونزم سوویت پاور اور تمام ملک کے عوام کی رگوں میں ولولہ انگیز بجلیاں بھر دینے کا نام ہے۔‘‘

اسلام کیا ہے؟ اسلام یہ ہے کہ ہر بچے کو اسکول میں ہونا چاہیے، ڈاکٹروں کو کسی خلیجی ملک میں نہیں بلکہ اُنہیں اپنے ملک میں ملازمت اور اس پر قناعت کرنی چاہیے، لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے اور ڈیفنس اور کیولری گرائونڈ جیسے علاقوں میں بجلی کے بلوں کے بھاری نرخ ہوں تاکہ غریب علاقوں کو امدادی قیمت پر سستی بجلی فراہم کی جا سکے اور آئی ایم ایف کے ہاتھ میں اس کی رقم تھما کر کہا جائے کہ ہمارے ملک سے تشریف لے جائیں، اب ہمیں ان قرضوں کی ضرورت نہیں۔ سیمنٹ اور شوگر مافیا اور دیگر دولت مند طبقوں سے سختی سے ریاستی محصولات وصول کیے جائیں۔ یہ اسلام ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے ریاضی کے کسی دقیق فارمولے کی ضرورت نہیں کہ عوام کے لیے کس چیز کی غیر موجودگی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بجلی یا سڑکوں کے جال اور فلائی اوورز کی؟ پہلے عوام کو درکار زندگی کی بنیادی ضروریات کی دستیابی یقینی بنالیں پھر جو دل چاہے کرتے پھریں۔ تاج محل بھی اتناہی اہم ہے جتنا Versailles کا محل یا گرینڈا میں الحمراء، لیکن پہلی اہمیت ایسی تعمیرات کو نہیں بلکہ امورِ مملکت کو درست کرتے ہوئے ریاستی محصولات کی وصولی کا نظام بنانے کو دی جانی چاہیے۔ خزانے کو بھریں اور پھر عوام کو زندگی کی سہولتوں کی فراہمی، انصاف اور دفاع پر توجہ دیں۔ ان امور کو یقینی بنانے کے بعد پھر جیسے چاہیں مغل شہنشاہوں کی نقالی کرتے رہیں۔

لاہور کینال روڈ کو کافی وسیع کیا جا چکا ہے۔ پہلے پرویز الہی نے توسیع کے نام پردرخت کاٹے تو خادم ِ اعلیٰ کیسے پیچھے رہ سکتے تھے؟ ترقی کے نام پر درخت کاٹنا ویسے بھی قومی سطح پر ہمارا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ درخت کاٹ کر ایک لین کا اضافہ کیا گیا۔ اب سنا ہے کہ اسی سڑک میں مزید تبدیلی کا منصوبہ بن رہا ہے۔ اے خدا ہمیں بخش دے۔ سنا ہے کہ اب نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں کے ارد گرد ایک وسیع و عریض تفریحی پارک بنانے کا منصوبہ بھی گردش میں ہے۔ ان دونوں مقبروں نے گزرتے ہوئے ماہ وسال کی سختیاں برداشت کیں، جیسا کہ ہندوستان پر غیر ملکی یلغار، مغلیہ سلطنت کا زوال، سکھوں کا قبضہ، پنجاب میں شورش وغیرہ لیکن گزشتہ چار سو سال یہ اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن اب ان کے گرد ایک تفریحی پارک ، جس میں ریستوران، بچوں کے جھولے بھی ہوں گے اور کار پارکنگ بھی بنایا جائے گا۔ اس ترقی کے سامنے عہدِرفتہ کی یہ فکر انگیز یاد دم توڑ جائے گی۔ دراصل ایک یاد ہی ایک تاریخی مقام کو ایک عام جگہ سے ممتاز کرتی ہے، ورنہ جدت اور خوبصورتی تو نئی عمارات میں ہی ہوتی ہے۔ لیکن اب چونکہ منصوبہ بن چکا ہے، اس لیے آسمانی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر ان مقابر کو موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کے ذہن میںکسی تعمیراتی منصوبے کا آنا پتھر پر لکیر ہوجاتا ہے۔ ہمارے مسائل اور ہماری ترجیحات میں حائل تفاوت دیکھ کر ذہن چکرا جاتا ہے۔ کیا اس طرح ہم اس شہر کو سیاسی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں؟اس سے پہلے لوڈشیڈنگ نے ہی پی پی پی کا دھڑن تختہ کیا تھا۔ اب یہ جماعت پنجاب میں کبھی بھی اپنے قدم مضبوط نہیں کرسکے گی۔یہاں اس کی تاریخ کا ورق تمام ہوا۔ اب اگر ایک اور موسم ِ گرما بھی اس طرح کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ بسر کرنا پڑ گیا تو عوام موجودہ حکمران جماعت کا بھی جلوس نکال دیں گے۔

یہ بات سمجھنے کے لیے بہت زیادہ سیاسی فہم رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود حکمرانوں کی توجہ کسی اور طرف ہے۔ ماضی میںموٹر وے یا اب ایک میٹرو بس اس سیاسی دارالحکومت کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی، لیکن اس وقت قوم کو تین مصائب سے چھٹکارا چاہیے: لوڈ شیڈنگ، طالبان اور انتہا پسندی اور غیر ملکی قرضے۔ ان کے علاوہ ہر معاملہ ثانوی نوعیت کا ہے۔ ماڈل ٹائون فائرنگ میں ایک درجن کے قریب شہری ہلاک اور بیسیوں کے قریب زخمی ہوئے۔ اگر اس معاملے پر صوبائی حکومت اور خادم ِ اعلیٰ کے بیان پر یقین کر لیا جائے تو صورتِ حال کی سنگینی ذہن مائوف کر دیتی ہے۔ صوبائی حکومت کی مثال اس طرح ہے کہ جب خادم ِ اعلیٰ کو علم ہوا کہ منہاج القران سیکریٹریٹ کے سامنے کیا ہو رہا ہے تو اُنھوں نے فوری طور پر پولیس کو پیچھے ہٹانے کا حکم دیا۔ یہ حکم ڈاکٹر توقیر شاہ سے ہوتا ہوا چیف سیکرٹری تک آیا تو پھر وہاں سے پولیس کی چین آف کمانڈ میں سے گزرا۔ دو گھنٹوں کے بعد پھر یہی حکم دہرایا گیا لیکن پولیس پیچھے نہ ہٹی۔ گزشتہ سال جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایک نئی پولیس فور س کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تو لاہور میں پولیس سروس آفیسرز نے صوبائی حکومت کے خلاف ایک طرح کی عملی بغاوت کر دی تھی۔ اس پر خادم ِ اعلیٰ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اگرچہ بغاوت کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا سوال نہیں لیکن اس تمام معاملے پر اس طرح مٹی ڈال دی گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

اب اگر ایک صوبائی منصب دار اور کوئی معمولی منصب دار نہیں بلکہ ملک کے سب سے طاقتور اور فعال منصب دار جو وزیرِ اعظم کے بھائی بھی ہیں ۔ بھی پولیس کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو ان کے پاس اپنے عہدے پر موجود رہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ کسی بھی حکومت، چاہے وہ امریکہ میں ہو یا کسی اور سیارے پر، کا سب سے اہم کام امن و امان کا قیام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔ اور اگر گورننس کا یہ عالم ہو کہ انتہائی طاقت ور وزیرِ اعلیٰ تواتر سے حکم دے اور پولیس ان کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے پیچھے نہ ہٹے تو کیا پھر ان کی گورننس کا اظہار نہر کے کنارے اگے ہوئے بیچارے درختوں کو کاٹ کر سڑک وسیع کرنے یا چار صدیاں پرانے مقابر کو پارک میں ’’زندہ درگور‘‘ کرنے سے ہی ہوتا ہے؟ ایسے معاملات کی نشاندہی جمہوریت کے خلاف سازش نہیں۔ یا یہ کہنا کہ جمہوریت کو فعال اوربامعانی کردار ادا کرنا چاہیے، بھی جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کے مترادف نہیں۔

برطانیہ میں بھی اس قسم کا جمہوری نظام بہت دیر تک رائج رہا اور وہاں بھی ہائوس آ ف کامن میں بحث و مباحثے جاری رہتے تھے لیکن بدترین بات ان کا انتخابی نظام تھا۔ اس کی خرابیو ں کے سامنے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان معصوم طفلِ مکتب قرار پائے۔ چنانچہ وہاں اصلاحات کی ایک تحریک چلی تاکہ ان خرابیوں کو دور کیا جا سکے۔ ایک طویل عرصے تک کی جانے والی کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی عمل میں شفافیت آتی گئی۔ اٹھارویں صدی کے اختتام تک ایک چوزہ چرانے کی بھی سزا موت تھی۔ خواتین کو بمشکل بیسیویں صدی کے آغاز تک ووٹ کا حق دیا گیا اور نیشنل ہیلتھ سروس کا قیام دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد عمل میں آیا ، اور وہ بھی اُس وقت جب Attlee کی لیبر پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ اسکینڈے نیویا کی بہترین فلاحی ریاست، جرمنی میں سوشل سکیورٹی کوئی راتوں رات قائم نہیں ہو گئی تھی۔ ایک طویل عرصہ تک ترقی پسندجماعتوں، سماجی جمہوری پارٹیوں اور عوامی حلقوں نے مزدور پیشہ طبقے کے حقوق کے جدوجہد کی تب جاکے وہ مثالی صورت دیکھنے میں آئی جو آج دنیا کے لیے قابلِ رشک ہے۔ کیا ہم کائنات کے کسی اور سیارے پر آباد ہیں؟ ہمارے ہاں ان معاملات پر آواز بلند کرنے سے جمہوریت کو خطرہ کیوں محسوس ہونے لگتا ہے؟ کیا پاکستان غریبوں کے استحصال، ان کے بچوں کی تعلیم سے محرومی، دہرے تعلیمی نظام اور معاشی ناہمواری اور اشرافیہ طبقے کے لیے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے بنا ہے؟ کیا ان جرائم سے آنکھیں بند رکھنے اور ان کے خلاف لب کشائی کی جسارت نہ کرنے کا نام جمہوری استحکام ہے؟

اس میں دو آراء نہیں کہ جمہوریت کو قائم رہنا چاہیے، لیکن کیا یہ جمہوریت؟ کیا استحقاق یافتہ طبقے کے ہاتھوں عوام پر جبر کو جمہوریت کا نام دے کر ہر آن اس کی ستائش کی جائے؟ جیسے برطانیہ میں ٹوریز پارٹی بنیادی طور پر استحقاق یافتہ طبقے کے حق کے لئے کھڑی تھی، اسی طرح پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود غریب عوام کو وعد و ںاور تسلیوںسے بہلا کر مراعات یافتہ طبقے کو مزید مواقع فراہم کرتی ہیں۔ یہ بات کہنا یا یہ آرزو کرنا کہ پاکستان ایک بہتر ریاست بنے، کس طرح آئین سے انحراف یا جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کے مترادف ہے؟ مغربی پاکستان میں پی پی پی کا قیام اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کے چھ نکات دراصل ایوب حکومت کے جبر کا ردِ عمل تھے۔ اس وقت پاکستان میں دولت مندوں کو نوازنے اور غریب عوام کو میٹھی گولیوں سے بہلانے والی حکومت قائم ہے۔ اگر ہمارے ذہن بالکل مائوف یا تصورا ت سے تہی نہیں ہوچکے تو اس کا کوئی نہ کوئی متبادل تلاش کرنا ہوگا ، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اگر ملک کی بہتری کے لیے کوئی اور آپشن تلاش کیا جاتا ہے تو یہ بات نہیں کرنی چاہیے کہ جمہوریت کوخطرہ لاحق ہے۔ جمہوریت کوان سے خطرہ نہیں جو اس کے دائرہِ عمل کو بڑھانا چاہتے ہیں بلکہ اس کے ٹھیکے داروں سے خطرہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں