سلطنت روما کا زوال

اکرام سہگل
اکرام سہگل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ہن نامی نیم وحشی جنگجو قوم کے سردار اٹیلا نے سلطنت روما پر حملہ کیا اور اسے انحطاط کی کھائی میں دھکیل دیا جہاں سے پھر وہ باہر نہ نکل سکی۔ ڈاکٹر ویس رابرٹس Dr. Wess Roberts نے اپنی کتاب ’’لیڈر شپ سیکرٹس آف اٹیلا دی ہن‘‘ (اٹیلا دی ہن کی قیادت کے اسرار و رموز) میں قیادت کو متاثر کرنے والی بیماریوں کا جامع مطالعہ پیش کیا ہے۔ تعجب انگیز بات ہے کہ سولہ صدیاں گزرنے کے باوجود یہ بیماریاں دنیا بھر کے لیڈروں میں آج بھی بعینہ موجود ہیں۔ ہمارے لیڈروں کو بھی اس قسم کے مطالعے سے ایک دو چیزیں سیکھ لینی چاہئیں۔

لیڈر شپ کی عمومی بیماریوں میں ’’انتہا درجہ کی لالچ اور حرص‘‘ سب سے نمایاں ہیں۔ غیر قانونی طریقے سے دولت اکٹھی کرنے کا جنون پاکستان میں بھی موجود ہے۔ قومی احتساب بیورو (NAB) نے بدعنوانی کے خلاف بڑی سخت مہم چلائی لیکن اس کا ارتکاز مخصوص اہداف پر ہی رہا۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم کس طرح منی لانڈرنگ کے ذریعے غیر قانونی طور پر سوئس بینکوں میں جمع کرا دی گئی؟

نیز وہ کونسے زمینی حقائق ہیں جن کی بنا پر موجودہ حکومت نے اس بارے میں چپ سادھ رکھی ہے؟ ’’اٹیلاآن لیڈر شپ ڈیزز‘‘ (ATTILA ON LEADERSHIP DISEASE) کے عنوان سے 29 ستمبر 2002ء میں شایع ہونے والے میرے مضمون کے حوالے سے نیب نے منصفانہ طریقے سے احتساب نہیں کیا ، چنانچہ نیب اپنی ساکھ کھو رہی ہے۔ ملک کے قوانین کا اطلاق سب پر مساویانہ طور پر ہونا چاہیے۔ بدعنوانی کسی کے عہدے یا ادارے کی اہمیت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

فیلڈ مارشل سلم (Slim) نے اپنی کتاب ’’غیر سرکاری تاریخ‘‘ (Unofficial History) میں ذاتی تجربات کی مثالیں دے کر تلقین کی ہے کہ اس قسم کے معاملات میں ہمیں ضرورت سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ ڈر اور خوف کو اپنا ہمراز نہ بناؤ بلکہ جرأت مندی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ خطرات کا سامنا کرنا قیادت کا فطری تقاضا ہے۔ تذبذب کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ مشکلات کو قبول کر لیا جائے کیونکہ جرأت کا فقدان بھی ایک بیماری ہے۔ جو خطرہ مول نہیں لینا چاہتے وہ ناکامی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگ عمومی سطح کے لوگ ہوتے ہیں انھیں قیادت سنبھالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل کیانی نے فیلڈ کمانڈروں کے دباؤ ڈالنے کے باوجود شمالی وزیرستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہ دی۔ جس سے انھیں مزید طاقت اکٹھا کرنے کا موقع مل گیا جو کہ نہ صرف یہ کہ مقامی آبادی بلکہ پاکستان کے لیے تباہ کن مضمرات کا موجب بنا۔ مزید برآں اس سے فوج کا کام اور زیادہ کٹھن ہو گیا۔ جو لیڈر معاشرے اور قوم کے لیے سخت مگر غیر مقبول فیصلے کر لیتے ہیں وہ شخصی مقبولیت کے حصار میں گرفتار نہیں ہوتے۔ جرات مندی سے صحیح فیصلے کرنے کے باعث شش و پنج میں مبتلا رہنے کے منفی اثرات سے نجات مل جاتی ہے۔ ہمارا انٹیلی جنس نظام حقیقی اور خیالی سازشی نظریات قائم کر کے ہمارے لیڈروں کو ہمہ وقت پریشانی میں مبتلا رکھتا ہے۔

قوم کے لیے اولیت اس کی توقیر اور شان و شوکت کو دی جانی چاہیے اس کے بعد عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے اطمینان کا درجہ ہے جب کہ لیڈروں کا اپنا تحفظ اور آسائش و آرام سب سے آخر میں آتا ہے جب کہ ہمارے یہاں یہ گنگا الٹی بہتی ہے۔ الزامات سے بچنے کے کوشش اور کسی پر انحصار کرنے سے انکار قیادت کی شان کے منافی ہے وہ جو اپنی ذمے داری کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں انھیں ان کے منصب سے ہٹا دینا چاہیے۔ وہ لوگ جو ہم آہنگی پیدا کرنے کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں کو متاثر کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں تا کہ ان کا کام آسانی سے نکلتا رہے۔

اعصابی ارتکاز (Focus neurosis) حقیقت سے متصادم ہے۔ اس سے خواہ مخواہ وقت ضایع ہوتا ہے۔ وسائل کا زیاں ہوتا ہے اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر کوئی اور اس کے ’’انکل‘‘ سمیت جو ایک ڈیل کے تحت مشرف کو باہر بھجوانا چاہتے ہیں لیکن آخر ہم سب لوگوں کا قیمتی وقت کیوں ضایع کر رہے ہیں اور ان کے صبر کا امتحان کیوں لے رہے ہیں؟ آخر کیوں نہ اسے جانے دیا جائے تا کہ وہ اپنی زندگی گوشۂ گمنامی میں گزار سکے۔

منہ پھٹ ماتحتوں کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو بالغ نظری پر حاوی نہیں ہونا چاہیے اور جب اپنی ذات کو بے جا اہمیت دی جائے تو حقائق میں شکوک و شبہات سرائیت کر جاتے ہیں۔ کلیدی مشیر اور قریبی معتمد اپنے لیڈر کی خود اعتمادی کے بغیر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ بھڑکتی ہوئی انانیت خود فریبی میں مبتلا کرتی ہے کہ انھوں نے اونچے مراتب اپنے کوششوں سے حاصل کیے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں اقربا پروری کا دور دورہ ہو اس میں میرٹ یا صلاحیت کو نااہلی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ کے مطابق ’’اپنی ذات کی اہمیت کی دائمی خود فریبی حقائق کے ادراک کے آڑے آتی ہے۔‘‘

سیاسی اور عسکری ہر دو قائدین عام طور پر ’’خود کو سب سے بالا دست سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مطلق بالادستی کی تمنا اور بے لگام خواہشات اپنے رفقائے کار اور ماتحتوں کو الگ تھلگ کر دیتے ہیں۔ وہ لیڈر جو ’’بے حسی کے الجھاؤ‘‘ میں گرفتار رہتے ہیں وہ اپنے ساتھیوں کے مفادات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گویا بری خبر لانے والے پیغام رساں کو گولی مروانے کا حکم دے دیا جائے‘ خود کو ’’محفوظ اور محکم سمجھنے کے فریب‘‘ میں مبتلا ہونا احمقانہ سوچ ہے۔ بلا استثنیٰ کوئی بھی ناقابل شکست نہیں ہوتا۔ لیڈروں کو جو منہ میں آئے نہیں کہہ دینا چاہیے۔ کہ وہ اپنے منصوبوں کے بارے میں حساس معلومات افشاء کر دیں بالخصوص خواتین کو مثاثر کرنے کے لیے اور اگر اس میں مے نوشی بھی شامل ہو جائے تو سمجھئے کہ مکمل تباہی کا سامان پیدا ہو گیا۔

کوئی شخص بنفسہ ہر چیز پر حاوی نہیں ہو سکتا ایک اچھے لیڈر کے اردگرد اسمارٹ صلاح کار اور اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے مشیر موجود ہونے چاہئیں جو کہ اسے اچھا مشورہ دے سکیں جو کہ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق ہوں اور جس میں کہ خسارے کا بہت کم احتمال ہو۔ معاشرے اور قوم کے وسیع تر مفادات میں سخت فیصلے کرنا پڑیں تو مشیروں میں اتنی جرأت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ حق بات کہہ سکیں بجائے اس کے کہ معاملات بگڑ کر بے قابو ہو جائیں۔ ریاست ہر فرد سے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، عظیم تر ہوتی ہے۔ ایک سچے لیڈر کے ساتھیوں کو اس پر بھرپور اعتماد ہونا چاہیے اور انھیں یقین ہونا چاہیے کہ وہ اس کے مخلص ساتھی ہیں جو مل جل کر اور ایک دوسرے کی باہمی حمایت کے ساتھ ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک سچے لیڈر کو وہی کرنا چاہیے جو وہ کہتا ہو۔

اپنے رفقائے کار اور ماتحتوں کی محنت اور کاوشوں کو برسر عام سراہنے کے بجائے ’’بعد از مرگ‘‘ ان کے کارناموں کو شناخت دینے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی کامیابیوں کو مستقلاً تسلیم کر کے ان کا حوصلہ بڑھایا جائے۔ ایک غارتگر رجحان جو آج کل دولتمندوں اور طاقتوروں کے درمیان پایا جاتا ہے، خطرناک ہے۔ ہمارے بہت ذہین وزرائے اعظم میں سے ایک عدم تحفظ کا اس حد تک شکار تھا کہ کمزوروں کو جان بوجھ کر ہدف بنا کر اپنی اذیت پسندی کی تشفی کرتا تھا اور اس طرح خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

اچھی قیادت کے بنیادی اصولوں میں ذہنی طور پر چاک و چوبند رہنا اور ہٹ دھرمی کے بجائے لچک دار رویہ رکھنا ورنہ ترقی میں رکاوٹ پڑے گی۔ اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنا۔ دوسروں کی مدد کرنے پر توجہ رکھنا۔ داخلی اور خارجی زندگی میں ایک توازن رکھنا نیز ذہن، جسم اور دل کے معاملات میں بھی ایک ہم آہنگی رکھنا اور آخر میں افراط اور تفریط کا شکار ہونے سے بچنا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں