اسرائیل اب کسی ہمدردی کا مستحق نہیں

حسن کمال
حسن کمال
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

خشت اول گر نہد معمار کج

تا ثریا می رود دیوار کج

( اگر معمار بنیاد کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھ دے تو پھر دیوار ثریا ستارے تک اونچی اٹھائی جائے تو ٹیڑھی ہی رہے گی۔)
مولانا روم کا یہ شعر اگر آج کسی پر پوری طرح صادق آتا ہے تو وہ اسرائیل اور صرف اسرائیل ہے۔ اقوام متحدہ میں بیلفورڈیکلریشن کے تحت منظور کی جانے والی یہ تجویز ہی بنیاد کی پہلی ٹیڑھی اینٹ ثابت ہو رہی ہے کہ برطانوی تسلط سے آزاد ہونے والے مشرق وسطٰی کے اس خطہ میں، جس کا نام صدیوں سے فلسطین تھا، دو ریاستیں بنا دی جائیں۔ ایک ریاست اسرائیل دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ان یہودیوں کے لیے مختص کر دی جائے ، جو فلسطین کو ارض موعودہ یا وہ سرزمین سمجھتے ہیں جسے بنی اسرائیل کو دینے کا اللہ نے حضرت یعقوب علیہ سلام سے وعدہ کیا تھا۔ دوسری ریاست کا نام فلسطین ضرور ہو، لیکن ان عیسائیوں اور مسلامانوں کے تصرف میں رہے جو وہاں صدیوں سے آباد تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فلسطین کے یہ عیسائی اور مسلمان بھی کسی زمانے میں یہودی ہی رہے ہوں گے اور جنہوں نے بعد میں عیسائیت یا اسلام کے دامن میں پناہ لی ہو گی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب میں جمہوریت کے فروغ کے ساتھ ہی اس نظریہ کا بھی فروغ ہوا، بلکہ اسے پوری شدت سے فروغ دیا گیا کہ سیاست میں مذہب کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ اس نظریہ یا اصول کو سب سے پہلے توڑا بھی مغرب نے، جب برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر اسرائیل کو خاص مذہبی بنیادوں پر تسلیم کیا اور زبردستی سے دنیا کے بیشتر ممالک سے بھی تسلیم کرا لیا۔ بنیاد کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھنے کی اس کے بعد کسی وضاحت کی چند ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اب ہر چند کہ اسرائیل نام کی دیوار کافی بلند ہو چکی ہے، لیکن نہ صرف ٹیڑھی نظر اآتی ہے بلک اس کا ٹیڑھا پن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ غزہ میں جو کھ ہو رہا ہے، وہ اس ٹیڑھے پن کا بین ثبوت ہے۔ لیکن یہ بھی ایک ازلی حقیقت ہے کہ ٹیڑھی دیوار چاہے جتنی مضبوط گارے کی بنی ہو اور چاہے جتنی بلند ہو جائے، اس کی بقا کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ طاقت کا زعم عقل سلیم پر پردے ڈال دیتا ہے، لیکن یہ پردے حقائق اور حالات کی روشنی کی بہت دنوں تک تاب نہیں لا پاتے۔

تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو نظر آئے گا کہ اسلام کے نزول کے اولین ادوان کے دوران بھی عربوں (مسلمانوں) اور بنی اسرائیل (یہودیوں) کے مابین کبھی بڑے معرکے نہیں ہوئے۔ غزوہ خندق کا نام لیا جا سکتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ خالص مدافعتی جنگ تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے حملے سے مدینہ کا دفاع کیا تھا۔ غزوہ خیبر کو بھی زیادہ سے زیادہ معاہدہ شکنی کے سبب جوابی کارروائی کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل جس خطہ کو ارض موعودہ کہتے ہیں، اس سے انہیں مسلمانوں یا عربوں نے کبھی باہر نہیں نکالا، وہاں سے انہیں ایک بار رومنوں نے اور اس کے بعد عیسائیوں نے باہر نکالا۔ یہودیوں پر ایک رومن کیتھولک عیسائی "ایڈولف ہٹلر" نے تو وہ مظالم ڈھائے کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ یہ ریاکاری کی انتہا ہے کہ آج وہی عیسائی ممالک "ارض موعودہ" کے سب سے بڑے وکیل بنے بیٹھے ہیں۔ جب کہ تاریخ تو واقعتاً کچھ اور کہتی ہے۔ بارھویں صدی عیسوی میں جب غازی صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تھا تو انہوں ن ے دنیا کے مختلف حصوں میں پناہ گزیں ان یہودیوں سے واپس اآنے کی اپیل کی تھی اور انہیں تحفظ کی ضمانت بھی دی تھی، جنہیں رومنوں اور عیسائیوں نے اس خطے ہو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔ بنی اسرائیل نے رومنوں اور نصرانیوں کے مظالم کے خلاف کوئی تعرض نہیں کیا اور صلاح الدین ایوبی کے احسان کا بدلہ غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی لاشین بچھا کر چکا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجود اسرائیل کے وجود کا کوئی بھی پہلو مثبت نہیں ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ دوسری قوموں کی طرح یہودیوں کو بھی اپنی ریاست کے قیام کا حق حاصل ہونا چاہیے تو یہ بھی جان لیا جائے کہ بہت سی قومیں اب بھی ایسی ہیں، جنہیں اپنی خود مختار ریاست نہیں ملی ہے۔ سکھ اور جین فرقوں کا نام خاص طور پر لیا جا سکتا ہے، لیکن یہ دونوں فرقے جہاں جہاں آباد ہیں خوش بھی ہیں اور خوشحال بھی۔ گاندھی جی نے اسی لیے مذۃب کی بنیاد پر اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی۔

اسرائیل کے وجود کا دوسرا منفی پہلو یہ ہے کہ اسے اخلاقی بلیک میلنگ کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا۔ ہٹلر کے مظالم نے دنیا کو لرزہ براندام کر دیا تھا اور یورپ کے ضمیر کو تو بالخصوص ایک مستقل آزار اور احساس جرم میں مبتلا کر دیا تھا۔ یہودیوں نے اس احساس جرم کا جو فائدہ اٹھایا، اس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دولت ان کے پاس ہمیشہ سے تھی۔ انہوں نے امریکہ میں بسے ہوئے ہیرالڈ روبنس، لی اون یورس اور ارون گویلیس جیسے یہودی ادیبوں کو ایسے ناول لکھنے کی ترغیب دی جس میں یہودیوں کی مظلومیت کا مبالغہ آمیز پرچار کیا گیا ہو۔ انہوں نے ہالی ووڈ کے کئی فلمسازوں کو ایسی فلمیں بنانے کے لیے پوری طرح فنانس کیا۔ اس طرح اس مجرم خمیری کا زبردست پیمانہ پر استحصال کیا۔ رفتہ رفتہ دنیا میں یہودیوں کے لیے ہمدردی کی لہر دوڑ اٹھی۔ لیکن یہ مظلومیت کتنی مبالغہ آمیز اور مصنوعی تھی ، اسکا اندازہ غزہ کے حالات سے ہو رہا ہے۔ جنہوں نے واقعی ظلم کا عذاب جھیلا ہو، وہ دوسروں پر اس طرح ظلم نہیں ڈھایا کرتے، جس طرح آج اسرائیلی افواج غزہ پر ڈھا رہی ہیں۔

آخر اس بربریت اور اس وحشیانہ طاقت کے مظاہرے کا سبب کیا ہے؟ حماس تو کیا تمام عرب دنیا میں کسی کے بھی پاس ویسی فوج اور ویسا اسلحوں کا انبار نہیں ہے، جو اسرائیل کے پاس ہے، دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوری صلاحیت موجود ہے، جو کبھی بھی پڑوسی عرب ملک کے پاس نہیں ہے۔ حماس تو اتنا بھی منظم اور تربیت یافتہ عسکری گروہ نہیں ہے، جتنا یاسر عرفات کا الفتح ہوا کرتا تھا۔ پھر آخر اتنے زبردست پیمانے پر بمباری کی ضرورت کیا تھی؟ غور کیا جائے تو اسرائیل دراصل کسی کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہا ہے۔ اس خفت کے سو اسباب ہیں۔ اپنی بے پناہ فوجی طاقت کے باوجود اسرائیل نہ تو الفتح کو ختم کر سکا، نہ اب تک حماس کا کچھ بگاڑ سکا۔ اب تک اسے اپنے ہر اچھے برے کام کے لیے امریکہ اور یورپی یونین کی بھرپور اور غیر مشروط تائید حاصل رہتی تھی۔ یہ تائید اب بھی حاصل ہے، لیکن اس میں وہ زور نہیں رہا ہے کیونکہ خود امریکہ اور یورپی یونین کے اقبال کا سورج جھکتا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کو اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود ایران سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ دو ریاستوں کے قیام کے فارمولے سے انکار ، مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر دنیا کی مسلسل بڑھتی ہوئی خفگی اور فلسطینیوں سے دو بدو بات کرنے سے انکار کرتے رہنے کی وجہ سے اسرائیل نے مظلومیت کا جو لبادہ اوڑھ رکھ تھا، وہ جگہ جگہ سے چاک ہونا شروع ہو گیا ہے۔

یورپ میں فلسطین کے تعلق سے غلط فہمیوں کا دور ہونا اور عوام کی سوچ میں تبدیلی ہونا ایسی باتیں ہیں جنہوں نے اسرائیل کو جھنجھلاہٹ اور کھسیاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسے غصہ اس پر ہے کہ شدید جانے نقصان کے باوصف حماس اسرائیل کے آگے سر جھکانے کو تیار نہیں ہے۔ سب سے زیادہ غصہ اسے اس پر ہے کہ دنیا اب اسرائیل کو معصوم اور مظلوم اور فلسطینیوں کو دہشتگرد ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مظلومیت اسرائیل کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ اس ہتھیار کے کند ہونے کا صدمہ اس سے برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ دنیا میں فلسطین کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ چنانچہ فوجی جارحیت کے ما سوا ہر محاذ پر اسرائیل پیہم شکست سے دو چار ہے۔ سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ غزہ پر بمباری کے بعد عالمی رائے عامہ یہ خیال ظاہر کر رہی ہے کہ اسرائیل اب کسی ہمدردی کا مستحق نہیں رہ گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ کے کئی اداروں اور ایجنسیوں میں امریکہ اور اسرائیل کی بے انتہا مخالفت کے بعد بھی فلسطین کو ممبر شپ مل گئی جو ایک طرح سے بطور ریاست اسے تسلیم کرنے کی صورت تھی۔ اسرائیل کی بلند مگر ٹیڑھی دیوار میں شگاف پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''راشٹریہ سحارا "

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں