اسرائیل بربریت کی انتہا کو پہنچا

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

غزہ ایک دفعہ پھر لہولہان،اسرائیلی جارحیت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، اسرائیلی فضائی بمباری جو 12 جون 2014ء کے روز شروع ہوئی تاحال 150 فلسطینی غزہ کی پٹی میں شہید ہو چکے ہیں اور زمینی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ عز الدین القاسم بریگیڈ نے پہلا زمینی حملہ پسپا کر دیا ہے۔ جس طرح کی بربریت ہورہی ہے اس سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ ہم کسی مہذب دُنیا میں رہ رہے ہیں جو انسانیت کی فلاح چاہتی ہو۔ جیسے اس دُنیا میں فلسطینیوں کو جینے کا حق نہیں ہے، اسرائیلی فلسطینیوں کو تو ختم کرکے دم لینا چاہتے ہیں۔ جس کا اندازہ مجھے 8 نومبر 2005ء کو چندی گڑھ بھارت میں ایک مذاکرہ میں ہوا جہاں دُنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ اس میں ایک اسرائیل کے سابق ایڈمرل نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ تمام فلسطینیوں کو مار دیا جائے، انکی اس بات پر احتجاج تو ہوا مگر بس کہنے کا۔ تاہم اسرئیلی اسی نظرئیے پر کام کررہے ہیں۔ حماس کو غزہ کی پٹی میں مقید کردیا ہے جو ایک بڑا جیل خانہ ہے اور جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسرائیلی کسی نہ کسی بہانے سے فلسطینیوں کی نسل کشی کرتے رہتے ہیں۔ 12 جون 2014ء سے شروع ہونے والی اس نئی جارحیت نے ایک نیا رُخ اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ، مصر، پاکستان، ایران اور کئی ممالک نے اس کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر بر اوباما نے اس پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے کہا ہے کہ حملے بند کئے جائیں اس لئے کہ یہ خطہ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مگر اسرائیل نے تمام اپیلوں کو رد کردیا ہے۔

یہ نئی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب 12 جون کی رات تین اسرائیلی لڑکے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں قائم ایک یہودی بستی سے اغوا کئے گئے اور بعد میں اُن کی لاشیں ملیں۔ مغربی کنارہ اسرائیلیوں نے اردن سے زبردستی چھینا ہوا ہے اور وہاں اسرائیلی بستیاں قائم کردی ہیں۔ اس علاقے میں فلسطینی صرف رام اللہ تک محدود ہیں۔ اب یہ لڑکے کیسے اغوا ہوئے، خود اسرائیلیوں نے کئے یا کسی تیسری طاقت نے یہ جنگ کو شروع کرانے کے لئے ایسا کیا ۔ اسرائیلیوں کے اغوا ء اور ان کے قتل کی آڑ میں غزہ پر حملہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ اُن میں سے ایک تو یہ کہ ایران نے حماس کو فجر میزائل جو(( M75 کہلاتا ہے وہ ایک چھوٹا میزائل ہے اور جس کی حد ہدف 90 کلومیٹر ہے ایک بڑی تعداد میں دیدیئے ہیں۔ اس نے 5 ہزار میزائل اس وقت استعمال کردیئے جب خلیج میں ایران کو گھیرنے اور حملہ کرنے کے لئے امریکی و دیگر بحری بیڑے، جنگی جہاز اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے جہاز جمع تھے۔ حماس نے 5 ہزار میزائل پھینکے تو یہ جمگھٹا خلیج سے ہٹ گیا کیونکہ ایران نے اسرائیل پر تین طرف سے حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی یعنی وہ حماس، حزب اللہ اور خود ایران کی طرف سے یہ حملہ کرسکتا تھا۔

ابھی بھی حماس کے پاس کوئی سات سے دس ہزار میزائل موجود ہیں۔ اس جنگ میں اسرئیلیوں کے مطابق اب تک انہوں ان میزائلوں سے 900 حملے کئے ہیں جو اسرائیلیوں نے آئرن ڈروم نامی میزائل روکنے کے نظام سے مار گرائے ہیں۔ ایک میزائل یروشلم کے بن گوریان ایئرپورٹ تک بھی پہنچ گیا اُس کو اسرائیل نے مار گرایا مگر ہوائی اڈہ ایک گھنٹے تک بند رہا اور کئی جہازوں کو قبرص کا رُخ کرنا پڑا۔ حماس کے ذرائع کہتے ہیں کہ انہوں نے 460 راکٹ پھینکے ہیں۔ اسرائیلیوں نے 160 روک لئے ہیں مگر باقی کا پتہ نہیں مگر اسرائیلی دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس کے راکٹوں سے اُن کی سرزمین میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ اسرائیل حماس کے پاس باقی بچ جانے والے راکٹوں پر یا تو قبضہ کرنا چاہتا ہے یا اُن کو ضائع کر دینا چاہتا ہے اس لئے اس نے یہ لڑائی چھیڑی ہو۔ دوسرے وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جو مذاکرات 20 جولائی کو ہورہے ہیں اس سے وہ مضطرب ہے اس لئے اسرائیل جانتا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں ہے مگر ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ ہم سے کہہ رہا ہے کہ چاند لا کر دو۔

یعنی امریکی ایران سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت کو کم کرے اور طریقہ یہ ہے ایک لاکھ 90 ہزار (SWU ( Separative Working Units سے گھٹا کر صرف 10ہزار پر لے آئے اور دوسرے وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایران ''فردو'' کا کا ایٹمی ری ایکٹر بند کردے۔ اس ایٹمی ری ایکٹر کو فضائی حملہ سے نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کامیابی کے امکانات یکسر معدوم نہیں ہوئے ہیں اس لئے اسرائیلی فکرمند ہیں۔ شاید اسی وجہ سے اس نے اپنی ہی قوم کے بچوں کو اغوا کرکے مارنے کی قبیح حرکت کی ہو ورنہ حماس کیلئے تو اثاثہ تھے اگر وہ حالت گرفتاری میں اُن کے پاس رہتے، اس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کرایا جاسکتا تھا۔
اسرائیلی آرمی چیف جنرل بینی گنٹز نے کہا ہے کہ وہ زمینی حملہ کرکے حماس کی حالت غیر کردیں گے۔ اسرائیلی رعونت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے ایک امریکی فلسطینی بچے کو گرفتار کیا اُسے بہت مارا اور امریکی سفارت کار کو اس تک اس وقت تک رسائی نہیں دی جب تک اُس کی خوب دھنائی نہ کرلی۔ بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد سب مارے جارہے ہیں۔ جرم صرف یہ ہے کہ وہ فلسطینی ہیں اور انہیں جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

حیرت انگیز طور پر اسلامی ممالک کی کانفرنس OIC خاموش ہے اور وہ کوئی نہ مہم چلا رہی ہے اور تاحال اجلاس تک نہیں بلایا ہے۔ پاکستان میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ مصر جس کے سربراہ شاہ فاروق نے پاکستان کو یہ طعنہ دیا تھا کہ آپ لوگ اسلام کے جس طرح مبلغ بنے ہوئے ہو اور جس طرح اسلامی اتحاد کی بات کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اسلام 14 اگست 1947ء کو دُنیا میں آیا۔ وہ ملک خاموش بیٹھا ہے اسی طرح سے دوسرے ممالک نےاس معاملہ سے صرف نظر کیا ہوا ہے۔ مگر فلسطینی عوام مدد کے لئے دہائی دے رہے ہیں کہ اور انہوں نے یہ طعنہ بھی دیا ہے کہ سارا عالم اسلام فٹ بال کے میچ دیکھ رہا ہے مگر فلسطینی پر ہونے والے مظالم سے صرفِ نظر کر رہا ہے۔ مگر فٹ بال کےکھیل کا فیصلہ ہو گیا جرمنی فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ اب عوام اس طرح توجہ دیں۔ پاکستان ہر معاملہ میں مدد کرتا تھا مگر اب اپنے اندرونی حالات کی بنا پر کسی مدد سے قاصر ہے۔ اگرچہ پاکستان نے مصر، شام اور دیگر ممالک کی اسرائیل کے خلاف ہمیشہ مدد کی ہے اور انہیں بڑی ہزیمت سے پانچ جنگوں میں سے دو میں بچایا ہے مگر اب شاید وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی امدادی کارروائی کرے۔ تاہم عالمی ضمیر کو کیا ہوگیا وہ کیوں سو گیا ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف کیوں اسرائیل کے ہاتھ نہیں روکتا جو کسی قانون کو نہیں مانتا۔

ایک ظالم ریاست کا وزیراعظم نیتن یاہو یہ کہتا ہے کہ فضائی اور زمینی حملے نہیں روکیں گے۔ زمینی حملوں میں اسرائیلیوں کو نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ جس کا شاید اسرائیل متحمل نہ ہو کیونکہ ایک کے بھی مرنے پر اُن کے یہاں کہرام مچ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے یہ تحقیق ہو کہ ان اسرائیلی بچوں کو کس نے اغوا اور پھر قتل کیا۔ اس کے لئے عالمی کمیشن بن سکتا ہے۔ شاید کوئی اسرائیل کو رسوا کرنا چاہتا ہو اس لئے کہ اس نے امریکہ کی بات نہیں مانی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مشن کو فیل کیا۔ شاید کوئی غیر ریاستی ایکٹر اس میں ملوث ہو اور اسرائیل حماس پر چڑھ دوڑا ہے کیونکہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ کمزور ہے اور جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ مگر اسرائیل بھی بربریت کی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ اس کا بھی حساب کتاب بھی تو ہونا ہے تو اب کیوں نہیں۔ شاید اسلامی ممالک کچھ کر سکیں، شاید اقوام متحدہ کچھ کرے، ورنہ وہ تین کے بدلے تین سو افراد مارے گا یا تین ہزار۔ دیکھتے ہیں یہ زمینی خدا کہاں تک جاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''جنگ''

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں