خاموش اورناپاک مفاہمت.

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ مرکز اور صوبوں میں حکومتیںتو ہیں لیکن حکمرانی (گورننس) کہیں نظرنہیں آتی۔ مرکز میں بقو ل شخصے جمہوریت کے نام پر چند افراد کی بادشاہت قائم ہے ۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مسئلے کی حکومت کو سمجھ ہے اور نہ وہ اس طرف توجہ دینے پر آمادہ۔ پارلیمنٹ تو کیا کابینہ سے بھی مشاورت نہیں کی جاتی ۔ سرکاری اداروں میں میرٹ کی پامالی کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے ۔ وزارت خارجہ کو مبینہ طو ر پر نفسیاتی الجھنوں کے شکار ایک بزرگ کے سپرد کردیا گیا ہے جنہوں نے سب متعلقہ افسران کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ۔ وزیرداخلہ وزیراعظم سے ناراض ہیں اور ان کی وزارت کے لوگ ان سے نالاں۔ نیکٹا اور نادرا جیسے اداروں پر تقرریوں کے لئے وزیراعظم کے پاس وقت ہے اور نہ اہم کارپوریشنوں پر تعیناتیوں کے لئے فرصت۔ حکمران لاہور کے ڈومیسائل‘ ایک خاص قبیلے اور ایک خاص سروس گروپ کے سوا کسی اور دوسرے علاقے‘ قبیلے اور کسی اور گروپ کے بندے کو اہم عہدہ دینے کے روادار نہیں۔ چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو وفاق اور پنجاب سے متنفر کیا جارہا ہے ‘ اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے یا پھر لڑایا جارہاہے۔

دو تین ملکوں کی مخصوص کمپنیوں یا پھر ان ملکوں میں رجسٹرڈ ہونے والی اپنی کمپنیوں کو ٹھیکے دلوانے کے لئے صرف بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کئے جارہے ہیں اور بیرون ملک سرمایہ کی منتقلی زوروں پر ہے ۔ پی پی او جیسے ڈریکونین قوانین کو پاس کیاجارہا ہے اور عدالتی اصلاحات جیسے بنیادی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ سوشل سیکٹر کی رقوم کو تیزی کے ساتھ میٹرو جیسے تعیشاتی منصوبوں کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔ یہی صورت حال پنجاب کی بھی ہے اور اچھی حکمرانی کے لئے شہرت پانے والے میاں شہباز شریف اب کی بار ناکام ترین حکمران کا لقب حاصل کرتے جارہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن کی طرف ان ایشوز پر حکومت کا محاسبہ نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے خاموشی ہے جبکہ تحریک انصاف نے پنجاب کے چار حلقوں کو پورے پاکستان کا مسئلہ بنارکھا ہے ۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ان سے توجہ ہٹا کردرحقیقت مسلم لیگ (ن) کے محسن کا کردار ادا کررہی ہیں۔ اس بدترین طرز حکمرانی پر حکمرانوں کے محاسبے کی بجائے مجرمانہ خاموشی یا پھر چار حلقوںکو قوم کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنانا کیا اس قوم کے ساتھ ظلم نہیں؟

اب آئیے سندھ حکومت کی طرف ۔ نہ جانے یہاں کی حکومت کو حکومت کا نام دینا مناسب بھی ہے یا نہیں ۔ امن وامان کا معاملہ فوج اوررینجرز کے سپرد ہے ۔ نام کے وزیراعلیٰ تو قائم علی شاہ صاحب ہیں لیکن انہیں ٹپی صاحب کی اور ٹپی صاحب کو زرداری صاحب کی خدمت سے فرصت نہیںجبکہ زرداری صاحب بلاول کی تربیت میں مگن ہیں ۔ رہے سندھ کے عوام تو وہ جیسے پہلے خوار ہوتے رہے ‘ اب بھی ہورہے ہیں ۔شہری سندھ کے مسائل جیسے تھے‘ ویسے ہیں‘ اندرون سندھ کے مسائل بھی گمبھیر سے گمبھیر ہوتے جارہے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں جو لوٹ مار پورے ملک میں کی جارہی تھی‘اب وہ کوٹہ صرف سندھ سے پورا جارہا ہے لیکن سندھ حکومت کی ان نااہلیوں اور زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔ مسلم لیگ(ن) باقی ملک میں اپنے بارے میں پیپلزپارٹی کی خاموشی کے احسان کا بدلہ یہاں خاموشی کے ساتھ دے رہی ہے جبکہ تحریک انصاف یہاں بھی چار حلقوں کی دہائی میں مصروف ہے ۔یہاں بھی دیکھاجائے تو سندھ حکومت کی اپوزیشن (مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف) رکاوٹ ڈالنے کی بجائے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے محسن کا کردار ادا کررہی ہے۔
باقی ملک کو علم نہیں اور ہر وقت ٹی وی ٹاک شوز میں نظر آنے والے پی ٹی آئی کے گلوبٹ نما ترجمان تاثر کچھ اور دے رہے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں رہنے والے سنجیدہ لوگ گواہ ہیں کہ یہاں پر تحریک انصاف کی حکومت اس صوبے میں تاریخ کی بدترین حکومت ثابت ہورہی ہے ۔ انتظامی لحاظ سے صوبے کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ۔ صوبے میں وزراء اور سیکرٹریوں کی تقرری اور تنزلی بنی گالہ سے ایس ایم ایس کے ذریعے ہونے کا جوسلسلہ زوروں پر ہے ‘ اس کی وجہ سے وزراء اور ایم پی ایز کام کرنے کی بجائے دن رات اسلام آباد میں بیٹھ کر عمران خان اور ان کے خوشامدی ٹولے کی خوشامد کرنے میں مصروف نظرآتے ہیں ۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی نظام وضع نہیں ہوا۔ دہشت گردی کے مسئلے پر سیاست تو بہت ہوئی لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے صوبائی حکومت کوئی منصوبہ سامنے نہ لاسکی ۔ ڈی آئی خان جیل کی رپورٹ سامنے آئی اور نہ بنوں جیل واقعہ کے ذمہ داروں کو سزا ملی۔

صحت کی ابتری کا عالم پشاور کے سب سے بڑے اسپتال میں زمین پر پڑے مریضوں کے اوپرسے وزیرصحت شہرام خان ترکئی کےگزرنے کی فوٹیج سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے شوکت یوسف زئی جیسے پارٹی کے منتخب جنرل سیکرٹری کو پارٹی عہدے کے ساتھ ساتھ وزارت سے بھی محروم کردیا گیا جبکہ مسلم لیگ(ق) سے آنے والے لوگوں کو اہم وزارتیں دی گئی ہیں ۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے بھی بڑھ کر اگر کوئی حکومت ڈرامہ باز حکومت کا اعزاز حاصل کرے گی تو وہ یہی حکومت ہوگی جو بنیادی ایشوز کو چھوڑ کر روزانہ ڈراموں پر وقت گزاررہی ہے لیکن تماشہ یہ ہے کہ اس حکومت کا اصل چہرہ باقی پاکستان تک دکھانے یا پھر اس کا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی موجود نہیں ۔مسلم لیگ (ن) بھی جواب میں چودہ اگست چودہ اگست کھیل رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامیوں پر اس کا محاسبہ کررہی ہے اور نہ کسی اور حکومت مخالف گروپ کو شہ دے رہی ہے ۔ یہاں پر میاں نوازشریف ‘ عمران خان اور پرویز خٹک صاحب کے محسن کا کردار ادا کررہے ہیں۔اب آجائیے بلوچستان حکومت کی طرف ۔ بلوچستان کی محرومیاں اپنی جگہ لیکن این ایف سی ایوارڈ کے بعد اس صوبے کو ملنے والی رقم اگر کیش کی صورت میں بھی اس صوبے کے شہریوں تک پہنچا دیا جائے تو ہر شہری کی زندگی بدل سکتی ہے ۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کے سلسلے میں اس حکومت کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آرہی ۔ یہاں پر بھی صرف وزارتوں پر جھگڑے زوروں پر ہیں اور عوامی حکومت کہلانے کے باوجود وہ عوام کوکوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا ۔ یہاں مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت تھوڑی بہت اپوزیشن کررہی تھی لیکن مرکز میں وزارتیں ملنے کے بعد اب وہ بھی خاموش ہوجائے گی۔ یہاں کے حالات کا باقی پاکستان کو خبر ہورہی ہے اور نہ تحریک انصاف یا کسی اور اپوزیشن جماعت توجہ دینے کی زحمت گوارا کررہی ہے حالانکہ بدترین دھاندلی کی بات ہو تو بھی سب سے زیادہ دھاندلی بلوچستان میں ہوئی ہے ۔

مذکورہ زاوئیے سے دیکھاجائے تو اس وقت تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں حکمران ہیں اور کوئی بھی بڑی جماعت اس سختی سے نہیں گزررہی جن سے ماضی میں اپوزیشن جماعتیں گزرتی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) مرکز‘ پنجاب اور بلوچستان میں حکمران ہے ۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں حکومت کررہی ہیں ۔ جے یو آئی (ف) بھی اب مرکز میں حکمران باقاعدہ حکمران بن گئی ۔ نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بلوچستان میں حکومت کے مزے لوٹ رہی ہیں ۔ زرداری صاحب سندھ کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور ایم کیوایم بھی حصہ دار بن گئی ۔ غور سے دیکھاجائے تو اس وقت اے این پی کے سوا تمام قابل ذکر جماعتیں ’’جمہوریت‘‘ کے فوائدسے مستفید ہورہی ہیں جبکہ عوام تباہ حال ہوکر ریاست سے لاتعلق اور متنفر بنتے جارہے ہیں ۔ کیا یہ سب اس وقت کا وقت انتظار کررہے ہیں کہ کوئی ڈکٹیٹر آکر ان سب کی چھٹی کرادے یا پھر ان کے اس غیراعلانیہ اتحاد کے جواب میں مظلوم عوام اتحاد کرکے ان سب سے باجماعت انتقام لینے لگ جائیں ۔ ہم میڈیا والے اس خاموش مفاہمت کی حقیقت سے قوم کو آگاہ کرنے اور بنیادی ایشوز پر مباحثے کی بجائے ریٹنگ کی خاطر اپنے ٹاک شوز میں ان ڈراموں کی بنیاد رپرمباحثے کروا کر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کیا ہم اینکرز اس وقت کا انتظارکررہے ہیں کہ یہ قوم اٹھ کرہم اینکرز کو بھی اسٹوڈیوز سے نکال کر سڑکوں پر گھسیٹ دے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں