سیاحوں کیلئےدنیا کے 10خطرناک اور غیر محفوظ شہر

خلیل احمد نینی تال والا
خلیل احمد نینی تال والا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

موجودہ صورتحال کی وجہ سے اب دنیا بھر کے باشندے دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں ۔ شاید ہی کوئی ملک اب بچا ہو جہاں یہ دہشت گرد اپنی کارروائیاں نہ کر رہے ہوں۔ کہیں کم اور کہیں بہت زیادہ۔ حتیٰ کہ اب تو وہ ممالک بھی سرِ فہرست ہیں جہاں 30 ، 40 سالہ تک برسر اقتدار حکمرانوں سے نجات پانے والے باشندے اب آپس میں لڑ بھر رہے ہیں اور معصوم عوام ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس میں سر فہرست عراق، شام، لیبیا، مصر، صومالیہ، اور سوڈان ہیں اور یہ تمام مسلمان ممالک ہیں۔ عراق میں صدام حسین نے ایک عرصہ تک طاقت کے زور پر عوام کو قابو کر رکھا مگر زوال آیا تو بے بسی کے عالم میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ جس کے بعد امریکہ نے اپنے من پسند افراد کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا، مگر اس کے بعد سے عراق بم دھماکوں، کشت و خون میں آج تک ڈوبا ہوا ہے۔ اب تشدد کی ایک نئی لہر شام سے نکل کر اب عراق کی سرحدوں کو عبور کر چکی ہے اور ایسا کرنے والے خلافت کے نام پر اب ہر مسلمان ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ہماری افواج ملک میں دہشت گردوں کے خلاف وزیرستان میں ملک کی سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہیں مگر حالات کس نہج تک جاتے ہیں کچھ پتہ نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کون ان تنظیموں کے لئے اسلحہ اور دولت کے انبار لگا رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر خبروں کی تلاش کے دوران میں نے سیاحوں کے لئے اطلاع کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی خبر پڑھی کہ سیاح دنیا کے ان 10 شہروں میں جانے سے گریز کریں۔ سیاحت کےحوالے سے مختلف ملکوں کےا دارے اپنے سیاحوں کو دہشت گردی سے بچانے کیلئے مختلف ذرائع سے آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ یہ ہدایت امریکہ اور کینیڈا کے ٹورزم کی طرف سے تھی۔ تو میں نے سوچا ہمارے پاکستانی باشندے بھی روزگار کی تلاش میں دنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں اس لئے یہ مناسب ہو گا۔ پاکستان سے باہر جانے والوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ ان علاقوں میں جانے سے احتیاط برتیں اور چند شہروں کیلئے تو انتہائی آگہی ہے کہ وہ ہرگز وہاں نہ جائیں۔ بد قسمتی سے ان شہروں میں تیسرا نمبر ہمارے ملک کے شہر پشاور کا ہے۔ دنیا کے ان شہروں میں سب سے پہلا نمبر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے شہر کالی کا ہے۔

یہ ملک اور شہر جو شروع ہی سے سیاحوں کیلئے خطرناک ہوا کرتا تھا اب خطرناک ترین ہو چکا ہے۔ یہاں کسی کی بھی جان محفوظ نہیں رہی ، حتیٰ کہ خود وہاں کے باشندے بھی محفوظ نہیں رہے ۔ اس ملک سے امریکہ کوہر قسم کی ڈرگ سپلائی کی جاتی ہے اور وہاں ہزاروں لوگ اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ ہر علاقے کی الگ مافیائیں ہیں جو اس کو کنٹرول کرتی ہیں یہ لوگ آپس میں بھی ایک دوسرے کے رقیب بھی ہوتے ہیں۔ مرنا مارنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔خود اس میں بڑے بڑے سرکاری افسران بشمول پولیس والے ان گروہوں کے سرپرست بن چکے ہیں۔ اربوں کھربوں ڈالر کی منشیات کا کاروبار ہوتا ہے۔ امریکہ اپنی ایجنسیوں کی مدد سے اس کاروبار کو ختم کرنا چاہتا ہے مگر آج تک اسے اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

ایسا دوسرا بڑا میکسیکو کا شہر ACAPULCO ہے۔ یہ امریکہ کے سمندری ساحلوں سے ملا ہوا ہے۔ بہت ہی خوبصورت سمندری ساحلوں کی وجہ سے اس ملک میں لاکھوں سیاح آیا کرتے تھے خصوصاً امریکہ اور کینیڈا کی سردیوں سے بچنے کیلئے یہاں کی دھوپ اور آب و ہوا بہترین ماحول سے بھرپور ہوتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس شہر کو بھی میکسیکو کی دوسری ریاستوں کی طرح ڈرگ اور جوئے کی وبا نے گھیر لیا۔ یہاں بھی پولیس کی سرپرستی میں مافیائوں نے اس کاروبار کو وسعت دی۔ ایک طرف وہ کشتیوں کے ذریعے انسانوں کی کھیپ امریکہ پہنچاتے تھے کیونکہ میکسیکو میں غربت بہت ہے ۔ امریکہ کا شمار امیر ترین ممالک میں ہوتا ہے ۔ نوکری اور کاروبار کی خاطر میکسیکو کے لاکھوں باشندے غیر قانونی طور پر امریکہ کی نزدیکی ریاستوں میں اسمگل ہوتے ہیں۔ الغرض اب امریکیوں کو میکسیکو کے اس ساحل پر جانے کی ممانعت ہو چکی ہے ۔ کیونکہ وہاں سیاحوں کو آسانی سے نوجوان لڑکیوں کے جال میں پھنسا کر لوٹا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس کاروبار میں ملوث لوگوں کی آپس کی لڑائی میں بے موت بھی مارے جاتے ہیں ۔ پولیس بھی بے بس ہے یہاں پولیس والوں کو اتنی تنخواہیں نہیں ملتیں جتنی غیر قانوی کاروبار کرنے والے انہیں رشوت دیتے اور بچ جاتے ہیں۔

تیسرا خطرناک شہر پشاور کو قرارد یا گیا ہے جس کا تعلق پاکستان سے ہے جس کے متعلق سیاحوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ یہاں کے باشندے اگرچہ بہت مہمان نواز ہیں مگر یہاں دہشت گرد خود کش حملہ کرتے ہیں جس کی لپیٹ میں معصوم شہری اور سیاح بھی آجاتے ہیں ۔ طالبان غیر ملکی سیاحوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ وہ ہر سفید فام کو امریکن یعنی اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور جان سے مارنے سے بھی باز نہیں آتے۔ اغواء برائے تاوان بھی یہاں عام ہے ۔ پورے شہر میں ڈر اور دہشت کا راج ہے ۔ حکومت اس کا خود نشانہ ہے اور لاچار ہے ۔ شہر اکثر دھماکوں سے گونجتا رہتا ہے۔ اب یہ سیاحوں کی جنت نہیں رہا ۔ چوتھا بڑا شہر وینزویلا کا دارالحکومت ہے جہاں لا تعداد یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک زمانے میں دنیا بھر سے طلباء اس پڑھے لکھے شہر میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے اور یہ سیاحوں سے بھی بھرا ہوتا تھا۔

وینزویلا کے سابق صدر کے جانشین ہوگو شاویز کی موت کے بعد لاء اینڈ آرڈر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ وہ سابق امریکی صدر بش کے شدید ترین ناقد تھے اور انہیں ہر جگہ برا بھلا سنانے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ بد قسمتی سے وہ نوجوانی میں کینسر سے فوت ہو گئے ۔ اب ان کے جانشین دہشت گردی، سیاحوں کو لوٹ کر جان سے مارنے سے بھی باز نہیں آتے، لہٰذا اب سیاحوں کو اس شہر سے بھی دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ پانچویں ملک کا تعلق بھی لاطینی امریکہ کے ہنڈارس کے شہر ڈسٹرکٹ ٹو سنٹرل سے ہے۔ یہ تین شہروں کو ملا کر بنایا گیا ایک بڑا شہر ہے۔ بہت چھوٹا ملک غربت اور تعلیمی طور پر جہالت کا شکار ہے۔ یہاں بھی ڈرگز کے علاوہ ہر طرح کا غیر قانونی کاروبار عام ہے اور سیاحوں کی جانوں سے کھیل کر انہیں دن دہاڑے لوٹنا عام سی بات ہے۔ لہٰذا قانون بے بس ہے۔ اس لیے سیاحوں کو منع کیا جاتا ہے ۔ چھٹا شہر صنعا ہے جس کا تعلق ملک یمن سے ہے۔

یہ افریقہ اور خلیجی ممالک کے درمیان ہے۔ اس شہر کی خوبصورتی کی وجہ اس کی پرانی دلکش عمارتیں تھیں۔جن کو دیکھنے دور دور سے سیاح آتے تھے ۔ اب یہ شہر آپس میں متحارب گروپوں کی جنگ کی وجہ سے غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ خصوصی طور پر امریکہ نے بہت کوشش کی کہ اس شہر کو لا قانونیت اور قتل و خون سے بچانے کی مگر حکومت دشمن عناصر بے لگام ہو کر قتل و غارت گری سے باز نہیں آتے ۔ اس لئے سیاحوں کو غیر محفوظ سمجھ کرانہیں وہاں جانے سے منع کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں دوبارہ امن و امان بحال نہ ہو جائے ۔ ساتواں ملک برازیل کے شہر MAECIO ہے۔ یہ دنیا کے چودہ خطرناک شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ جس کی آبادی کے ہر لاکھ باشندوں میں سے 135 افراد ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ اور سیاحوں کا تو یہاں زندہ بچنا بھی معجزہ ہوتا ہے ۔ یاد رہے برازیل وہی ملک ہے جہاں اس سال فٹ بال کا ورلڈ کپ کھیلا گیا ہے اور بد قسمتی سے خود برازیل فٹ بال کا سب سے پرانا ریکارڈ ہولڈر ہونے کے باوجود سات گول کا زخم دوبارہ کھا کر ورلڈکپ سے باہر ہو گیا۔ باقی 3 ممالک میں سے صومالیہ کے شہر موگادیشو ، لبنان کا شہر بیروت اور کینیا کے شہر نیروبی بھی آپس کی خانہ جنگی کی وجہ سے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ یہاں بھی سیاحوں کو جانے سے منع کیا جاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''جنگ''

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں