.

آپریشن سے امریکہ کی مایوسی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے بی بی سی پر اس دن سے اعتبار کرنا چھوڑ دیا تھا جب اس نے 65ء میں خبر دی تھی کہ لاہور کی انارکلی میں بھارتی فوجیں گشت کر رہی ہیں۔ میں نے اس کی ویب سائٹ پر بھی کبھی ایک نظر نہیں ڈالی کہ یہ مغربی استعمار کا بھونپو بنا ہوا ہے، اس لئے خواہ مخواہ اسے پڑھ کر اپنا خون کھولانے کی کیا ضرورت؟۔ مگر اب اپنے ہی اخبار میں اسے تسلسل سے پڑھنا پڑھ رہا ہے۔ پرسوں بی بی سی نے سراج الحق کی ایک افطاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اور یہ میں نے نوائے وقت میں پڑھا کہ مسلمان فلسطین اور کشمیر کے لئے آخری قطرہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں، مگر چھوڑیے آخری قطرہ خون کو، پہلا قطرہ تو بہائیں۔ اور اس کے بعد اس قدر تباہی کہ خدا کی پناہ!

بی بی سی اگر اس خون سے مطمئن نہیں جو فلسطین میں ایک صدی سے بہایا جا رہا ہے اور کشمیر میں پون صدی سے بہایا جا رہا ہے اور عراق، افغانستان، مصر، سوڈان ، کویت اور شام وغیرہ میں بہایا جا رہا ہے تو اس کی یہ بے خبری میرے لئے حیرت کا باعث ہے۔ کیا ان خطوںمیں ابھی تک مسلمانوں کا پہلا قطرہ خون نہیں بہا اور اگر مغربی اور امریکی ڈریکولا کی پیاس نہیں بُجھی تو وہ تیر آزمائے، ہم جگر آزمائیں گے۔ مسلمانوں کے خون سے کرہ ارض کے سارے سمندر سرخ ہو چکے، بی بی سی کی خون پینے کی حسرت نہ جانے کب بُجھے گی۔

آج کے نوائے وقت نے فرنٹ پیج پر افغانستان میں امریکی کمانڈر کا شکوہ چھاپا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن میں حقانی گروپ بچ نکلا ہے۔ امریکی جرنیل جوزف ڈینفرڈ نے یہ بیان اپنی کانگریس میں دیا ہے بلکہ اپنا رونا رویا ہے۔ کہتے ہیںکہ وزیرستان میں جاری آپریشن سے امریکی توقعات پوری نہیں ہوئیں کیونکہ وہاں موجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف یہ آپریشن کارگر ثابت نہیں ہوا۔ پاکستان کو وہ کامیابی نہیں ملی جو ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہیں پاکستانی طالبان اور ازبکوں کے خلاف کسی حد کامیابی ملی ہے۔ البتہ حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں خلل ضرور پڑا ہے کہ ان کو میران شاہ سے اپنے ٹھکانوں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

امریکی جرنیل نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان حقانی گروپ کے خلاف کارگر کارروائی کا کیوں مکلف تھا، کیا پاکستانی فوج امریکہ کی زر خرید ہے، کیا پاکستان امریکہ کی کوئی سٹیلائٹ ریاست ہے یا باجگزار علاقہ کہ وہ امریکی خواہشات پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر حقانی گروپ کے خلاف بارہ برسوں میں خود امریکی اور نیٹو فوج مل کر کوئی کارگر کارروائی نہیں کر سکی تو اس پر ان فوجوں کے کمانڈروں کو نااہلی کی سزا ملنی چاہئے، اُلٹا انہیں ترقی مل رہی ہے، شاید شکست کھانے پر امریکہ میں ترقی دی جاتی ہو گی۔

بی بی سی کے پیٹ میں اگر کوئی مروڑ اٹھا ہے تو اس کی وجوہات سمجھ سے بالاتر نہیں ہیں، اس کا خیال تو یہ تھا کہ پاکستان جونہی شمالی وزیرستان میں گھسے گا، وہ چوہے کی طرح کڑکی میں پھنس کر رہ جائے گا۔ امریکہ اور بھارت نے ایک سازش کے تحت شمالی وزیرستان کے دہشت گردوں کو ایک عرصے تک تربیت دی تھی، انہیں ڈالر مہیا کئے تھے اور ہر قسم کے مہلک اسلحہ کے ڈھیر بھی۔ امریکہ کو یہاں صرف حقانی گروپ سے عناد تھا کیونکہ یہ اسے افغانستان میں ناکوں چنے چبوا رہا تھا۔ حافظ سعید نے ٹھیک تجزیہ کیا ہے کہ سوویت روس کے خلاف تو امریکہ نے مجاہدین کو استعمال کیا لیکن موجودہ افغان جنگ میں اسے خود میدان میں اترنا پڑا اور اسے چھٹی کو دودھ یاد آ گیا۔

امریکی جنرل نے دل کے پھپھولے تو پھو ڑ لئے مگر وہ یہ تو بتاتا کہ خود امریکی اور نیٹو افواج نے آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے لئے کیا کردار ادا کیا، آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ کی لاہور کی میڈیا بریفنگ کی رو سے پاکستان نے افغان حکومت اور ایساف کی ہر سطح تک یہ پیغام پہنچایا کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر چوکسی کا مظاہرہ کریں اور فرار ہونے والے دہشت گردوں کو تو کیفر کردار تک پہنچائیں یا انہیں پکڑ کر پاکستان کے حوالے کریں لیکن پچھلے ایک ماہ کے دوران سرحد پار سے ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ امریکی، نیٹو یا افغان فوج نے کسی قسم کی بھی معاونت کی ہو۔ آج تک جو کچھ سامنے آیا، وہ یہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین بھگوڑے دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

دوسری طرف آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ جنرل اطہر عباس کا یہ انکشاف بھی درست ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کو حقانی گروپ سے عناد تھا اور وہ پاکستان کو مجبور کر رہا تھا کہ اس کے خلاف آ پریشن کیا جائے مگر جنرل کیانی نے اس سے گریز کیا۔ ظاہر ہے جنرل کیانی امریکی فوج کے تنخواہ دار نہیں تھے کہ ان کی خواہشات کی تکمیل کرتے، انہیں پاکستان کے مفادات عزیز تھے اور جب پاکستان کو اپنے مفاد کے تحت یہ آپریشن سوٹ کرتا تھا، اسے تبھی لانچ کیا گیا اور جنرل راحیل شریف نے اس کے لئے ایک لمحے کی تاخیر بھی روا نہیں رکھی۔ اب آپریشن کا فیصلہ پاکستان کا اپنا ہے، اس میں امریکی ڈکٹیشن شامل نہیں، اس لئے امریکی جرنیل نے جو بھی واویلا مچایا ہے وہ بلا جواز ہے اور محض پاک فوج کو عالمی سطح پر بدنام کرنا مقصود ہے کہ اس نے امریکہ کے دشمنوں کے خلاف جان بوجھ کر کوئی کارروائی نہیں کی۔

مگر امریکہ کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکے کہ اس نے پاکستان کے لئے کب اور کیا فائدہ کیا۔ ڈرون مار مار کے رائے عامہ کو بھڑکانے کی کوشش کی، نیٹو سپلائی کے ٹرالوں سے ہماری شاہراہوں کا ستیاناس کیا اور دہشت گردوں کی پیٹھ ٹھونک کر پاکستان کے چپے چپے پر خون بہایا، اس سے پاکستان کو دنیا کے لئے ایک خطرناک ملک کے طور پر بدنام کر دیا گیا، ہمارے پہاڑوں پر دہشت گردی سے سیاحوں نے پاکستان سے منہ موڑ لیا، ائر پورٹوں پر کشت وخون سے دنیا کی فضائی کمپنیوں نے پاکستان کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا۔ چرچوں پر حملوں سے پاکستان کو اقلیتوں کے لئے غیر محفوظ ہونے کا تاثر دیا گیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے تو اس ماحول میں بھاگنا ہی تھا، خود ملکی سرمایہ کاروں نے بھی نئے کاروبار سے ہاتھ کھنچ لیا۔

میرا آج کوئی ارادہ نہیں تھا کہ کالم لکھوں، رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے لیکن بی بی سی کی خبر نے مجھے تڑپا دیا۔ اگر میرا نیوز ایڈیٹر اگلے دو چار دنوںمیں بی بی سی کی مہا گرو، بھارتی آکاش وانی کی خبریں بھی لفٹ کرتا رہے تو میں رمضان کی ساری چوکڑی بھول جاﺅں گا اور شاید ایک دن میں دو کالم لکھنے لگ جاﺅں۔ بی بی سی اور آکاش وانی دونوں میری برداشت سے باہر ہیں۔ اگر ان کی دھما چوکڑی جاری رہی تو میں بھی میدان میں ہوں، دیکھا جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.