.

خارجہ پالیسی کے لوازمات

اکرام سہگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہماری خارجہ پالیسی کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تمام بڑی پارٹیوں نے مسلم لیگ ن کے 2013ء کے انتخابی منشور کے افتتاحی کلمات سے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان آج اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے جب کہ بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہو چکا ہے۔

اس کی آزادی اور خود مختاری پر سمجھوتہ ہو چکا ہے اور اس کی اقتصادی کمزوری اسے مجبور کرتی ہے کہ ہاتھ میں گداگری کا کشکول اٹھا کر بھیک مانگتا پھرے جب کہ بیرونی ریاستیں اس کی سرزمین پر یکطرفہ طور پر حملے کر رہی ہیں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز اس سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنائے ہوئے ہیں تاکہ اپنے مخصوص ایجنڈے کو نافذ کر سکیں انھیں پاکستان کے قومی مفادات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی لڑکھڑاتے ہوئے ایک ایسے رستے پر چل رہی ہے جس کی کوئی منزل نہیں اور یہ ہمارے سول اور غیر سول دونوں حکمرانوں کی خود غرضیوں کا نتیجہ ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کو 25 جون 2014ء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا : ’’سب سے زیادہ اہمیت ملک کی اپنی سلامتی کو دی جائے گی نہ کہ دوسرے ملکوں کے ایجنڈے اور ان کی ترجیحات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔‘‘ جغرافیائی اور سیاسی حالات کے تناظر میں ہمارے حکمران تو اپنے بچائو کی خاطر ملک کو بیچنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر کے مطابق: ’’پاکستان کی سلامتی کے دفاع کے لیے انتہا پسندی، عدم برداشت اور تشدد کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔

صرف ایک واضح سیاسی اور فوجی حکمت عملی سے جس میں دیگر ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کی ضمانت شامل ہو اس صورت حال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اس کا تزویراتی اثاثہ ہے نہ کہ اس کی کمزوری ہے۔ تزویراتی بصیرت میں جغرافیائی اور اقتصادی حکمت عملیوں میں ایک توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک ’’قومی سلامتی حکمت عملی‘‘ کا تشکیل دیا جانا ناگزیر ہے جب کہ ہمارے یہاں اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔

ہماری سیاسی جماعتیں ہماری خارجہ پالیسی سے پوری طرح متفق نہیں ہیں حالانکہ انھیں بعض بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کر لینا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اور دوسروں پر انحصار کم کر کے اقتصادی بحالی کی کوشش کی جانی چاہیے تا کہ تعمیر و ترقی کا عمل جاری رکھا جا سکے۔ ہمیں لوگوں کی توقعات اور مالیاتی حقائق کے درمیان فاصلے کو کم کرنا چاہیے اور عوام کے سامنے زبانی جمع خرچ سے احتراز کرنا چاہیے۔ توانائی کے بغیر ہماری صنعتی پیداوار نہیں ہو سکتی اور صنعتی پیداوار کے بغیر ہماری اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔ ہمیں امداد کے بجائے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔ توانائی کے بحران کو حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انتہا پسندی کو ختم کرنے سے اندرونی اور بیرونی امن کا قیام ممکن ہو گا جس سے بالآخر عوام کو معاشی آزادی حاصل ہو سکے گی۔

پاکستان نہ صرف شمال اور جنوب میں جغرافیائی و سیاسی پل کا کام دے سکتا ہے بلکہ مشرق اور مغرب کے درمیان اقتصادی راہداری کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے، گوادر سے براستہ کاشغر چین تک اور وسطی ایشیاء اور مغربی ایشیاء یعنی ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘‘ (CPEC) ہمارے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔

سی پی ای سی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے جس سے توانائی کا انفراسٹرکچر اور اقتصادی یک جہتی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ یوکرائن کا بحران اور اس حوالے سے مغربی ممالک کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کے باعث ہمیں بہتر مواقع حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ روس چین کی حمایت کے ساتھ یوریشیا کو عالمی اقتصادیات سے وابستہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزید برآں آسیان (ASEAN) ممالک افریقہ اور لاطینی امریکا باہمی طور پر اقتصادی تعاون کا ایک نیا میدان کھول رہے ہیں۔

بعض نام نہاد دانشوروں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ افغانستان ہمیں تزویراتی گہرائی فراہم کرتا ہے۔ لیکن آج یہ تزویراتی گہرائی تزویراتی سر درد بن چکی ہے۔ کابل میں جو بھی حکومت ہو اس کے ساتھ ہمیں تمام مسائل پر کھل کر بات کرنا چاہیے تا کہ ایک دوسرے کی سرزمین کا ناجائز استعمال ختم ہو نیز اس سے اعتماد کے فقدان میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تعمیری تعلقات کے نتیجے میں مشترکہ سرحد کی حفاظت کا انتظام بہتر بنایا جا سکتا جس سے ہمارے تجارتی محصولات میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے نیز اس سے ہمارے یہاں مقیم تیس لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کی ان کے وطن واپسی کی راہ بھی ہموار کی جاسکتی ہے اور منشیات کی اسمگلنگ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

اور چونکہ بھارت کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعلقات بہت ضروری ہیں لیکن کشمیر اور پانی کے مسائل حل کیے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت ایک بہت بڑا مثبت اقدام تھا جس کے نتیجے میں مخالفانہ بیانات میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن جب تک ایک دوسرے کی تشویش کو صحیح معنوں میں دور نہیں کیا جاتا تعلقات میں کسی مثبت تبدیلی کا امکان مشکل ہے۔

ہمیں امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا۔ لیکن ایسے لگتا ہے جیسے ہم اپنا پیغام وہاں تک پہنچانے سے قاصر ہیں۔ امریکا نہ صرف تجارت اور سرمایہ کاری میں ہمارا کلیدی پارٹنر ہے بلکہ دفاع اور سلامتی کے معاملات اور بالخصوص انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بھی معاون ہے۔ اگر ہمیں مغربی منڈیوں تک زیادہ رسائی حاصل ہو جائے اور ہمارے توانائی کے معاملات بھی حل ہو جائیں تو ہماری سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ہماری ایٹمی حیثیت کو بھارت کی طرح تسلیم کیا جانا چاہیے۔ امریکا کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیں اپنے عرضداشت گزار کے بجائے ہمارے ساتھ اپنے پارٹنر کی طرح سلوک کرے۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری لانی چاہیے ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عالم اسلام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور جس کے سعودی عرب کے ساتھ ہر شعبے میں بہت شاندار تعلقات ہیں۔ ہمیں بنگلہ دیش کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے ویزا اور ٹیرف کی پابندیاں ختم کر دینی چاہیئں اس سے دونوں کا فائدہ ہے۔ ہمارے سفارت کاروں کو ایسے معاملات میں جن سے ہمارے قومی مفادات کو براہ راست کوئی خطرہ لاحق نہ ہو دیگر ممالک سے اس حوالے سے بھی متوازن تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔

ہمیں پاکستان کا ایک نرم تاثر ابھارنا چاہیے تا کہ ہمارے بین الاقوامی تشخص میں بہتری آئے۔ اس کا انحصار داخلی طور پر ہماری سیاسی بالغ نظری پر ہو گا۔ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہمیں اقتصادی پابندیوں کا نشانہ نہ بنایا جائے بلکہ دہشت گردی کے انسداد اور انسانی حقوق کی پاسداری کے تاثر کو فروغ دیا جائے اور ہمارے معاشرے کو صبر و تحمل اور برداشت کرنے والے معاشرے کے طور پر پیش کیا جائے۔

ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی کو سفارتی ذرایع سے تقویت دی جانی چاہیے۔ پس ہماری خارجہ پالیسی کے کلیدی عناصر میں:

(1) تعمیری تعلقات

(2) عدم مداخلت

(3) تجارت و سرمایہ کاری

اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.