.

غزہ اور بیروت پر چڑھائی کا منظر نامہ

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سے اسرائیلی روزنامے اپنی اشاعتوں میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیے رہے ہیں کہ وہ حماس کو صرف کچلیں ہی نہیں بلکہ اس کے وجود ہی کو ختم کر دیں۔ (غزہ پر) مکمل چڑھائی کے لیے کی جانے والی ان اپیلوں میں اعتراف کیا گیا تھا کہ اسرائیلیوں کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی لیکن ان کا کہنا ہے کہ مقامی رائے عامہ اس لاگت کو قبول کرنے کو تیار ہے۔

بعض اس جنگ کو ایک نادر موقع خیال کر رہے ہیں کیونکہ مصری اپنے داخلی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کا حماس کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے۔ قبل ازیں مصر ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اسرائیلیوں پر غزہ کے ''اسٹیٹس کو'' کو تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ مصر کے سابق انٹیلی جنس چیف مرحوم عمر سلیمان نے (غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا کے درمیان سرحد کے ساتھ) زیر زمین سرنگوں کی تعمیر اور وہاں سے حماس کے لیے اسلحے کی اسمگلنگ کے معاملے پر آنکھیں بند رکھی تھیں۔ وہ حماس کے لیڈروں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے تھے مگر اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ حماس مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے بجائے اخوان المسلمون کے ساتھ کھڑی ہے۔

غزہ سے حماس کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے مطالبات کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ سنہ 1982ء میں اسرائیل کی تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے خلاف کارروائی کے مشابہ ہیں۔ تب اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اپنی فوج کو چڑھا کر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ایک ہی مشن ہے: فتح اور اس کی قیادت بالخصوص یاسر عرفات کا خاتمہ۔ وہ اسرائیل کے اردگرد مسلح فلسطینی موجودگی کے خاتمے میں کامیاب رہے تھے۔ فتح کے قائدین تیونس، سوڈان اور یمن میں جلا وطنی پر مجبور ہو گئے تھے۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو لبنان سے تیونس جلا وطنی پر مجبور کر دیا اور یہ یقین کر لیا تھا کہ اس نے ان کا خاتمہ کر دیا ہے۔

تاہم یاسر عرفات اوسلو معاہدے کے بعد فلسطین لوٹ آئے تھے۔ غزہ سے اریحا تک ان کے ساتھ ان کے ہزاروں جنگجو آئے تھے۔ اسرائیلی، حماس کے قائدین کے خاتمے کے لیے مکمل چڑھائی کی دھمکی دیتے رہے ہیں اور میرے خیال میں غالباً وہ انھیں قطر اور ایران جلا وطن کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیل بتدریج غزہ کا محاصرہ ختم کر دے گا مگر اسرائیل یہ بھِی جانتا ہے کہ حماس اپنی انتہا پسندی اور ایران جیسے مخالف ممالک سے تعلقات کے باوجود سلفی جہادی گروپوں کے مقابلے میں صہیونی ریاست کے لیے کم خطرناک ہے۔

ان گروپوں کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور گذشتہ برسوں کے دوران حماس نے بہ ذات خود غزہ میں انتہا پسند قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔ یہ حماس ہی میں حوصلہ تھا کہ اس نے غزہ میں ان انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان کی سرگرمیوں کا مرکز ایک مسجد کو بھی شہید کر دیا تھا۔ چنانچہ (حماس کے خاتمے کی صورت میں) اسرائیل کے ساتھ محاذ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کا کردار کون ادا کرے گا؟

اس المیے سے ممکنہ طور پر یہ معجزہ رونما ہو سکتا ہے کہ حماس کے ساتھ کوئی سیاسی تصفیہ ہو جائے اور اس حل کے نتیجے میں چیک پوائنٹس اور بائیکاٹ کا خاتمہ ہو جائے۔ غزہ کی بندرگاہ دوبارہ کھل جائے اور وہاں دوبارہ ماہی گیری کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں۔ یہ سمجھوتا بالکل اس طرح کا ہو سکتا ہے جس طرح کا غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ کیا تھا اور جنوبی لبنان میں ایسے ہی سمجھوتے پر حزب اللہ نے دستخط کیے تھے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.