.

مظلوم پاکستانی اور مظلوم فلسطینی!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج جو باتیں میں کہنا چاہ رہا تھا اس میں سے کچھ باتیں انور حسین مجاہد صاحب نے میرے نام اپنے خط میں تحریر کردی ہیں اور رحمان فارس نے غزہ کے مظلوموں کے حوالے سے میرے جذبات منظوم کر دئیے ہیں، چنانچہ پہلے انور حسین مجاہد صاحب کا گرامی نامہ پڑھئے جو ان کے نظرئیے کے بہت سے گوشوں کا احاطہ کر رہا ہے اور پھر رحمان فارس کی نظم بھی ملاحظہ کریں۔

محترم قاسمی صاحب!

رمضان 1435ھ اس لحاظ سے اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے باوجود کربناک انداز سے گزررہا ہے کہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر اسرائیلی جارحیت اور بربریت کا نظارہ ایک عالم بشمول اسلامی دنیا خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ کسی حد تک ترکی کے وزیر اعظم جناب طیب اردگان نے اس ظلم کے خلاف موثر آواز اٹھائی ہے۔ شروع میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی اس جارحیت کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا لیکن پھر اتنے مسائل میں گھرے ہونے کے باوجود پاکستان کم از کم سرکاری طور پر اس سلسلے میں خاموش ہے۔ نہ OICکی طرف سے کوئی باضابطہ احتجاج یا مذمتی بیان سننے میں آیا ہے، آج ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی یہ ناتوانی اپنے پیچھے ایک تاریخ رکھتی ہے جس کا آغاز بیسویں صدی کے آغاز میں خلافت عثمانیہ کے خلاف عربوں خصوصاً شریف مکہ کی مغربی اتحادیوں سے اشتراک عمل سے ہوا اور نتیجتاً پورے مشرق وسطیٰ کو نہ صرف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کر دیا گیا (جو کسی حد تک اب بھی جاری ہے) بلکہ اسرائیل کا خنجر بھی مشرق وسطیٰ کے سینے میں پیوست کر دیا گیا۔ علامہ اقبال نے اسی طرز عملکی طرف ا شارہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰ‘‘ انہی ایام میں بہت محنت اور محبت سے بنائی گئی’’حجاز ریلوے‘‘ کو بھی تخریب کاری سے اڑا دیا گیا (جو دمشق کو مدینہ منور ہ سے ملاتی تھی)۔

وہ دن اور آ ج کا دن اس خطے نے امن کا ایک دن بھی شاید مشکل سے دیکھا ہو لیکن غیروں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنوں کے طرز عمل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور فرقہ فرقہ نہ ہوجائو‘‘ اسی طرح کی باہمی مناقشت اور محاذ آرائی 1992ء میں مسلم سپین کی آخری ریاست غرناطہ کو لے ڈوبی تھی اور جنوبی یورپ میں مسلمانوں کا سات سو سالہ اقتدار زوال کی پستیوں میں ڈوب گیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ سے قبل کا سیاسی خلفشار تو ابھی کل کی بات ہے۔ ان واقعات کی نشاندہی کا مقصد پاکستان کے سیاستدانوں اور عوام کو یہ یاد دلانا ہے کہ خدارا اپنے ماضی کی تاریخ سے سبق سیکھیں۔’’ہنگامہ آرائی اور انقلابی سیاست‘‘ کے ذریعے لائی گئی کوئی ایسی تحریک جس کا مقصد غیر آئینی طور پر حکومت کا تختہ الٹنا ہو اور سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا ہو۔ افسوناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ وطن عزیز جو اس وقت دہشت گردی کے عفریت کے خلاف ایک سنگین محاذ آرائی میں مبتلا ہے اور جس کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ ہم وطن بنوں کے کیمپوں میں انتہائی مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کسی مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان متاثرین کی دستگیری کسی بھی محب وطن کا اولین فریضہ ہونا چاہئے جو اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر موسم کی شدتوں اور ناہموار رتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں ، اسی لئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ان نازک حالات میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کرنے والوں کو بجا طور پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اس مہم جوئی کے سلسلے میں صوبائی تعصبات کو ابھارنے اور قومی اداروں کو مطعون کرنے کا عملبھی جاری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ؎

’’سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے‘‘

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، دو صوبوں سے تعلق رکھنے والے چند اصحاب نے’’کالا باغ‘‘ ڈیم جیسے قابل عمل اور نسبتاً آسان منصوبے کو جس کے ذریعے موجودہ لوڈشیڈنگ پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا تھا ہر ممکن طریقے سے مخالفت کرکے پایۂ تکمیل نہیں پہنچنے دیا۔ اب وہی افراد الٹا صوبہ پنجاب (جس کی بہت سی ملیں توانائی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوچکی ہیں اور لاکھوں مزدور بے کار ہوچکے ہیں) کی قیادت کو الزام دے رہے ہیں۔ جسے نسبتاً آسان اور قابل عمل منصوبے کو چھوڑ کر (جس کی گواہی سابق چیئرمین واپڈا اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ممتاز انجینئر جناب شمس الملک نے دی ہے ) انتہائی مشکل اور دور دراز منصوبوں پر ہاتھ ڈالا دیا جائے گا تو ا س کا نتیجہ ایسا ہی نکلنا تھا(بنی اسرائیل بھی اسی لئے عتاب کا نشانہ بنے تھے کہ من و سلویٰ کو چھوڑ کر دوسری اشیاء کا تقاضا کرتے تھے)۔

ہمارے سندھی بھائیوں کا یہ جائز مطالبہ ہے کہ کوٹری سے نیچے دریائے سندھ میں 10 MAF پانی مہیا ہونا چاہئے تاکہ دریائے سندھ کی روانی میں فرق نہ آئے اور یہ پانی وہاں کی سمندری حیات کی بقاء کا باعث بنے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ پانی اسی صورت میں مہیا ہوگا جبکہ اس کے لئے مناسب سٹوریج Reservoirs مہیا ہوں (اس امر کے بارے میں 1990ء کے بین الصوبائی معاہدے میں بھی شق موجود ہے) اور یہی بات 4 جون 2014ء کو راقم الحروف نے کراچی شیراٹن میں"Strategic sectoral environmentle assessment for Indus basin project" کے تحت ہونے والی ایک ورکشاپ میں کہی جس میں صوبہ سندھ سے ہمارے محترم آبی اور ماحولیاتی ماہرین موجود تھے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں ہر آدمی صرف اپنے سچ(جو عموماً آدھے سچ کی مانند ہوتا ہے) کی بالادستی چاہتا ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آنے والا بحران پانی کا بحران ہوگا جو خدانخواستہ توانائی کے بحران سے کہیں سنگین ہوگا لیکن نہ ہمارے انقلابی سیاستدانوں کے ایجنڈے میں ایسا کوئی پروگرام ہے اور نہ ہمارے صوبائی تعصبات کو ابھارنےوالے دوست اس پر کوئی توجہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ شاید ہم بحیثیت قوم ’’لذت زوال‘‘ کا شکار ہیں اور ہم نے ہر معقول بات کو رد کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے، حالیہ اطلاعات کے مطابق ’’بھاشا ڈیم‘‘ کی تعمیر کے لئے عالمی اداروں نے بھارت کی رضامندی کی بھی شرط لگا دی ہے۔

اس کے لئے 140 کلو میٹر طویل شاہراہ قراقرم کی Relocation کی ضرورت ہوگی اور یہ ڈیم ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں اکثر زلزلے آتے ہیں۔ ٹرانسمیشن لائن بھی مقابلتاً دور سے اور دشوار گزار علاقے سے لانی پڑے گی جبکہ کالا باغ ڈیم مقابلتاً ایک قابل عمل اور آسان منصوبہ ہے ،اس سے پنجاب کے صرف 37 فیصداور دوسرے صوبوں کو 63 فیصد پانی مہیا کرنا مقصود تھا جبکہ صرف سیلاب کے دنوں کا 120 دن کا پانی اکٹھا کیا جانا تھا (جہاں تک نوشہرہ کے ڈوبنے کا تعلق ہے وہ 2010ء کے سیلاب میں ڈیم کے بغیر بھی ڈوب گیا اور اب ڈیم کی اونچائی بھی کم کردی گئی ہے اس لئے یہ سب بے بنیاد خدشے اور سیاسی شوشے ہیں) اس ڈیم سے جنوبی پختونخواہ، جنوبی پنجاب اور سندھ کو بہت فائدہ ہوگا۔ خدا کرے کہ ہمارے اصحاب فکر و دانش اس امر کو سمجھیں کہ ایسے مسائل جن پر پوری قوم کی بقاء کا انحصار ہے باہمی مشاورت اور رضامندی سے پارلیمان میں طے کئے جانے چاہئیں اور انہیں صوبائی اور نسلی تعصبات سے پاک رکھنا چاہئے۔ حضور اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے‘‘ کیا ہمارا طرزعمل اس مبارک حدیث سے مطابقت رکھتا ہے۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

انجینئر انور حسین مجاہد

پھر غزہ کے خال و خد پر خون کا غازہ لگا!
اور میں چپ ہوں، مری غیرت کا انداز لگا

اب صلاح الدین ایوبی تو آنے کا نہیں!
زندہ رہنا ہے تو اپنے دل کو آوازہ لگا

وہ گل نوخیز جو مرجھا رہا تھا دھوپ میں
اپنے خوں میں ڈوب کر کیسا تروتازہ لگا

تیرے گھر تک آہی پہنچے گا فلسطینی لہو
قوم اسرائیل! اب تو لاکھ دروازہ لگا!

جو بکھرتا جارہا ہے ظلم کے طوفان میں
چشم نم کو نسل انسانی کا شیرازہ لگا

شاید ایسے تیرے دست و پا کا فالج ختم ہو
اپنے پیکر پر شہیدوں کے کٹے ا عضا لگا!

غور سے دیکھا تو قتل امت معصوم بھی
مجھ کو فارسؔ اپنی خاموشی کا خمیازہ لگا

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.