.

غزہ : جتنا ظلم اتنی بے حسی

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنی ہی مقبوضہ سرزمین کی 380 سکوائر کلو میٹر کی گنجان آباد ساحلی پٹی میں محبوس 12 لاکھ فلسطینیوں پر اسرائیلی حکومت تباہی پھیلانے والے جدید اسلحے سے جو قیامت برپا کر رہی ہے اس کے نتیجے میں یومیہ درجنوں شہادتیں، زخمیوں اور املاک کی تباہی کی اطلاعات و مناظر گزشتہ 3 ہفتوں سے پوری دنیا تک پہنچا رہا ہے۔ تل ابیب کی اول و آخر یہودی حکومت گھروں، اسکولوں، مساجد، اسپتالوں اور جنازوں تک پر اسرائیلی فضائیہ جس بربریت سے ایف 16 سے بمباری کر رہی ہے اس پر دنیابھر کی کٹھ پتلی اور آزاد حکومتوں کو بھی تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ آزادی اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا چمپئن امریکہ اور عالمی امن کا ضامن، اقوام متحدہ اس فکر میں مبتلا ہیں کہ ان کی خاموشی (نیم رضا مندی) سے کہیں اسرائیل، جس کی مذمت حکومتوں اور عالمی برادری کے لئے آسان تر اور اس کی بربریت کی تائید کسی بھی طرح ممکن نہیں، کی تائید میں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے لہٰذا ہر دو اسرائیل کی تائید کر کے بھی اس فکر سے آزاد ہو گئے۔ لبرٹی سٹیچو والے اور ساری دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے والے امریکہ کی حکومت اور عوام دونوں ہی یہودیوں کے جانے اور انجانے خوف میں گرفتار رہتے ہیں اور اپنے ایک سے بڑھ کر ایک اسرائیل نواز فیصلوں سے جی پاتے ہیں ۔

نیو یارک میں عالمی یہودی کانگریس کی چھتری کے دبائو سے لے کر وال سٹریٹ کی پاور آف ویلتھ تک اور دولت کی طاقت سے ہالی وڈ کی سحر انگیزی تک، پھر نیو یارک کے سونے کے بازاروں سے لے کر عالمی ذرائع ابلاغ عامہ تک یہ سب کچھ سرزمین امریکہ پر یہودی اثاثہ ہی تو ہے، جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ’’پاکستانیوں‘‘ کے 200 بلین ڈالر سوئس بینکوں میں ہمارا ہو کر بھی ہمارا اثاثہ نہیں، امریکہ میں بھی امریکی اثاثہ بھی یہودیوں کا ہی ہے کیا وائٹ ہائوس اور کیا کیپٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) وہ اسے جب چاہیں جتنا اور جہاں چاہیں استعمال کر لیں۔ یقین نہ آئے تو سابق امریکی منتخب نمائندے پال فنڈلے کی کتاب "They Dare To Speak Out" کا مطالعہ کر لیں۔ ایسے میں یہودیوں کا فلسطینیوں کے عورتوں اور بچوں کے خون سے اپنی ’’برتری‘‘ کی تاریخ مرتب کرنا کیا مشکل ہے۔ رہ گیا بانکی مون، اس کو تو جیسے امریکی یہودیوں نے کان پکڑ کر تل ابیب بھیجا کہ ہم سے یکجہتی یا ہمارے شکار فلسطینیوں کی مذمت کرنی ہے تو ہمارے گھر جا کر بنیابن کی موجودگی میں کرو، لہٰذا حراساں بانکی مون نے یہ ’’فریضہ‘‘ ایف 16 کی گونج اور غزہ پر برستے بم و بارود کے ماحول میں مقتل غزا سے ذرا دور تل ابیب جا کر ہی انجام دیا۔

عالمی برادری میں آٹے میں نمک برابر یہودی جتنے طاقتور ہیں اتنے ہی جارح ہیں۔ جتنے جارح ہیں اتنے ہی سفاک اور جتنے سفاک ہیں، اس سے بھی زیادہ دیدہ دلیر۔ ادھر عالم اسلام کا یہ عالم ہے کہ جتنا بڑا اتنا ہی بے بس، جتنا بے بس ہے، اس سے بھی زیادہ بے حس ، اس عالم میں بھی، اس عالم کے جو ممالک جس قدر دولت مند ہیں اتنے ہی عیاش اور بدمست، جتنے عیاش اس سے بڑھ کر بزدل اور بے حس۔ اسرائیل کے بڑے غلام کے غلام۔ سب اپنی کامل خاموشی سے اپنی وفا کا کامل یقین دلانے میں ایک دوجے پر سبقت لے جانے والے۔ عالم اسلام اتنا ہی منتشر جتنے یہودی متحد، ہم اتنے ہی خود غرض جتنے وہ اپنے قوم و دین پر سب کچھ لٹانے والے وہ اتنے ہی باصلاحیت جتنے ہم نا اہل۔ ایٹمی پاکستان کے لئے آسان ترین کام ’’مذمت‘‘ ادا کرنا بھی محال ہو گیا ہے، کیونکہ ہماری حکومتیں بنانے اور اکھاڑنے اور فیصلہ کرنے والا کہ پاکستان میں ’’مارشل لا کتنے عرصے بعد لگ سکتا ہے اور کب تک نہیں‘‘ مذمت کی جرأت نہیں کر سکتا تو ہماری اسلامی جمہوریہ یہ کار آسان بھی انجام نہیں دے سکتی۔ تو ہم نے فلسطینی بھائیوں سے یکجہتی کا دن منانے، دعائیں کرنے اور پرچم سرنگوں کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ اب وہ شکایت نہیں کر سکتے کہ ہم نے عرب بھائیوں کی طرح کچھ نہیں کیا۔

ایک فلسطینی بہن نے نہ جانے کیسے ایک ایسی ایم ایس پہنچایا ہے کہ ’’ہمیں رمضان کی دعائوں میں یاد رکھیں‘‘۔ آہیں سسکیاں بھرتی ہماری یہ بہن ہمیں کیا جانے کہ ہماری دعائوں میں کتنا اثر باقی رہ گیا، اجتماعی عامال تو ایسے نہیں کہ ہم یہودیوں کے شکار فلسطینیوں کے لئے دعائیں ہی کر دیں۔ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں اور عوام کو ایک طرف رکھا جائے کہ ہم نے اور انہوں نے کیا کرنا فقط انٹر نیٹ کے سمارٹ یوژرز خصوصاً نوجوانوں سے خاکسار گزارش کرتا ہے کہ خود کو منظم کر کے امریکی رائے عامہ، یورپ کے پروفیسروں، طلبہ و طالبات، این جی اوز سےرابطے کریں۔ یقین کریں وہ ہم سے زیادہ با حس ہیں۔ دلیل ہو گی۔ ڈیٹا ہو گا۔ تجزیہ اور منطق ہوگی تو وہ اپنی حکومتوں کو ہلائے جلائیں گے۔ ان کی حکومتیں ہماری طرح نہیں، انہیں اپنے شہریوں کی سننی پڑتی ہے فقط اس کے علاوہ کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ہم فلسطینیوں کے لئے کچھ کر سکیں۔ یہ ہی ایک ٹیکنالوجی ہے جو ہمارے پاس ہے اور ہمارے بچے اس کا خوب استعمال جانتے ہیں۔ سو سب جماعتوں کے حامی ان بچوں سے گزارش ہے کہ وہ انقلاب اور سونامی کے لئے بعد میں کچھ کرتے رہیں جو کرنا ہے۔ عید کی چھٹیوں میں مسئلے پر ڈیٹا کولیکشن کے لئے آپس میں رابطے کریں۔ کارٹون بنائیں۔

سوال اٹھائیں۔ رابطے کریں۔ بچو! ہم کسی قابل نہیں ہماری سیاسی حکومت کسی قابل نہیں جماعتیں جو کر رہی ہیں تمہارے سامنےہے تم ہی کچھ کرو۔ ہم تو تمہیں بھی نہیں جینے دے رہے۔ پاکستان کے تاریخ سیاسیات ابلاغیات اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر صاحبان اور دوسرے صاحبان علم اگر تجزیوں اور ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں اپنے تجزیئے یا کچھ سوال ہی ان بچوں کے حوالے کر دیں اور ان کی اتنی ہی رہنمائی کر دیں کہ امریکہ اور یورپ کے کن کن رائے ساز حلقوں کو فلسطینی بہن بھائیوں پر مظالم رکوانے کے لئے جھنجھوڑا جائے۔ ہم ملین مارچ کے دعوے کرتے ہیں اور بڑے سے بڑے کاز کے لئے بھی دس ہزار کی ریلی نہیں ہو پاتی لیکن اگر ہم سوشل میڈیا کے ذریعے امریکہ اور یورپ کے عوام الناس میں دلائل کے انبار کے ساتھ پہنچ پاتے ہیں، اور بنیادی انسانی حقوق کے انتہائی سنجیدہ سوال کھڑے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو محبوس فلسطینیوں کی کچھ نہ کچھ مدد ضرور ہو سکتی ہیں۔

کیا ٓئی ٹی کی ٹیکنالوجی سے لیس ہماری نئی نسل بھی عالم اسلام کو بے حس، بے بس اور نا اہلی میں باندھے ہوئے ذمے دار حکمرانوں کی بے حسی کو برداشت کے لئے آمادہ ہے؟ ہے تو آہستہ آہستہ فلسطینیوں کی حالت تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔ اگر بے بسی اور بے حسی ہی ہماری منزل و مقصود ہے تو یہ وہ منزل ہے جس کی نہ مسافت ہے نہ مشقت، سٹیٹس کو برقرار رکھیں اور غلام کے غلام رہیں۔ علم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ہمارا جیسے کوئی حال نہیں ایسے مستقبل نہیں۔ آئو اور جانو کہ پاکستان کا سوئس بینکوں میں ٹھکانے لگا 200 بلین کیسے پاکستان سے باہر گیا کون لے گیا؟ اور کیسے واپس آ سکتا ہے؟ اپنا لوٹ مار کا مال واپس لائو اس سے تعلیم اور ٹیکنالوجی حاصل کرو اور فلسطینی ہونے سے بچو اپنے ملک کے ’’پنجۂ یہود‘‘ کو توڑ کر ہی ہم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی وہ مدد کر سکتے ہیں جو انہوں نے حقیقت میں مطلوب ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.