.

فلسطین پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی رو داد

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں1970ء کی دہائی ایسی تھی کہ تمام سیاسی جماعتیں عالمی واقعات پر نظر رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا دور تھا اور ہر ملک میں دونوں ملکوں کے حامی اور مخالف پائے جاتے تھے۔ مسلمان ملکوں میں بہت سے مذہبی اور قوم پرست لوگ سوویت یونین سے زیادہ خوفزدہ تھے لیکن امریکہ کے بھی مخالف تھے۔ سوویت یونین کے خوف سے ان کے زیادہ تر حملے اسی پر اور اس کے سوشلزم پر ہوتے تھے اور امریکہ بھی سوشلزم کا مخالف تھا چنانچہ ان حلقوں کو امریکہ کا حامی سمجھ لیا گیا جو ٹھیک نہیں تھا۔ یہ وضاحت بیچ میں آگئی، کہنے کا مطلب تھا کہ تمام جماعتیں فلسطین سے لے کر ویت نام اور کیوبا سے لے کر انڈونیشیا تک ہر عالمی ایشو پر معلومات اور اپنا اپنا نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ آج کا دور اس گزرے دور سے بالکل الٹ ہے۔ آج کی سیاسی جماعتوں کی عالمی حالات پر کچھ بھی معلومات نہیں حتیٰ کہ جماعت اسلامی جیسی جماعت جس نے عالمی امور پر طرح طرح کے ریسرچ سیل اور ڈیسک بنا رکھے ہیں، عالمی واقعات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور کئی ’’کیموفلاج‘‘ بالخصوص مشرق وسطیٰ کے حوالے سے، اس کے سر سے گزر گئے۔

پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی کے کارکن پھر بھی مڈل اور لوئر کلاس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ مطالعہ کرتے رہتے ہیں، تحریک انصاف چونکہ ان دونوں کلاسز سے لاتعلق ہے اور اس کے سارے کیڈر ڈیفنس، کینٹ، کلفٹن، گلبرگ، بحریہ ٹاؤن جیسی کھرب پتیوں کی آبادیوں سے آئے ہیں، ان کی ’’عالمی امور‘‘ پر معلومات اٹلی اور فرانس کے فیشن ہاؤسز، ملبوسات کے برانڈ، پینے پلانے اور کھانے کھلانے کی سروسز تک محدود ہیں یا پھر ماڈل گرلز اور ہائر سوسائٹل لائف سٹائل، امریکہ، یورپ، جاپان کوریا کے پاپ، ہپ ہاپ کلچر آئیکونز کے بارے میں ان کی معلومات پر رشک کیا جا سکتا ہے۔ اس طبقے کے زیر مطالعہ موقرجرائد میں فوربس، واگ، کاسمو، پی ایچ وغیرہ شامل ہیں اور بس یہی شامل ہیں۔

آج کا اہم ایشو جنوب کے لئے فلسطین اور شمال کے لئے یوکرائن ہے۔ پاکستان میں فلسطین سے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں اگرچہ ظاہر پہلے کی طرح نہیں کئے جا رہے کہ ہماری جنگ کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں اور نتیجہ لاپتہ ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی کسی حد تک یہ ایشو موجود ہے۔ فرض کیجئے، بحث تیز ہوتی ہے اور تحریک انصاف کو مسئلہ فلسطین پر غور کرنے کے لئے اجلاس بلانا پڑتا ہے تو اس اجلاس میں کس قسم کی بحث ہو گی؟ ایک تصوّراتی اجلاس کی تصویر ملاحظہ فرمائیے:

عمران خاں: خواتین و حضرات، یہ اجلاس فلسطین کی صورتحال پر غور کے لئے بلایا گیا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ رائے دیں۔ کارروائی کا آغاز قومی ترانے سے ہو گا۔ (قومی ترانہ بجتا ہے: کنّے کنّے جانئے بلّودے گھر۔۔۔) قومی ترانہ ختم ہونے پر شاہ

محمود قریشی کو سب سے پہلے بولنے کی دعوت دی جاتی ہے:
وہ کہتے ہیں، فلسطین کی صورتحال بہت اہم ہے۔ ہم اس صورتحال کی حمایت کرتے ہیں۔
شفقت محمود، حمایت کرنی ہے یا مذّمت۔ پہلے یہ فیصلہ کر لیں۔
جہانگیر ترین، مسلم لیگ کیا کہہ رہی ہے، ہمیں اس کے الٹ کرنا چاہئے۔
اسد عمر: یہ مسئلہ فلسطین کیا ہوتا ہے؟
شوکت یوسف زئی۔ یہ فلسطین کا مسئلہ ہے۔
اسدعمر: اور یہ فلسطین کیا ہوتا ہے۔
جہانگیر ترین: یہ کشمیر کے پاس ایک جگہ ہے۔

عارف علوی: کیا غضب کرتے ہو بھائی، کشمیر کے پاس فلسطین کہاں سے آگیا۔میرے خیال میں یہ میانمار کے پاس کا علاقہ ہے۔
اسد عمر: یہ میانمار کیا ہوتا ہے۔
شوکت یوسف زئی: میانمار؟ یہ نام تو پہلی بار سنا، یہ کہاں ہے۔
شاہ محمود قریشی: کم آن یار۔ اتنا بھی نہیں جانتے۔ یہ سری لنکا کا علاقہ ہے۔
عارف علوی: او آئی سی۔ تو یہ کوئی تامل بغاوت وغیرہ کا معاملہ ہے۔
عمران خان:میں بتا نہیں سکتا کہ آپ لوگوں کی جہالت پر مجھے کتنا افسوس ہو رہا ہے ۔فلسطین میں تامل بغاوت نہیں ہے۔ وہاں فلسطینیوں کی بغاوت ہے۔

اسد عمر: پھر تو ہمارا مؤقف دوٹوک ہونا چاہئے۔ ہم کسی بغاوت کی حمایت نہیں کر سکتے۔
شاہ محمود قریشی، خدا کا خوف کرو بھائی۔ ہم14اگست کو کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کے موقف سے ہمارے آزادی مارچ کو نقصان پہنچے گا۔

اسد عمر: تو ٹھیک ہے، ہمیں فلسطین کی بغاوت کی حمایت کرنی چاہئے لیکن وہ بغاوت کس کے خلاف کر رہے ہیں۔
شاہ محمود: حد ہوگئی،وہ اسرائیل کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔
اسد عمر: اوہ، اسرائیل۔ وٹ اے بیوٹی فل کنٹری۔ میڈی ٹیرین کی وہ لانگ بیچز، اولیو آرچڈ، وائن یارڈ۔ واؤ!
شاہ محمود: میڈی ٹیئرین نہیں میڈی ٹیرانین!
عارف علوی: بحیرہ روم کیوں نہیں کہہ سکتے۔
شاہ محمود: وہ تو روم کے پاس ہے، اسرائیل میں کہاں سے آگیا۔
عمران خان: کیا فضول لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں، اصل کنٹینٹ پر ائیں۔
اسد عمر: اصل کنٹیٹ ہے کیا۔
عمران خان: مسئلہ فلسطین!
اسد عمر: یہ مسئلہ فلسطین کیا ہے؟
شوکت یوسف زئی: ہاں،مسئلہ فلسطین ہے کیا۔
شاہ محمود قریشی: بتایا تو ہے، وہاں بھی آزادی مارچ ہو رہا ہے۔
اسد عمر: ہم فلسطین کو اپنے 14 اگست والے آزادی مارچ میں شرکت کی دعوت کیوں نہیں دیتے۔

اعظم سواتی: غزہ والوں کے پاس روٹی نہیں ہے۔
اسد عمر: وہ برگر کیوں نہیں کھاتے، کیا وہاں پزّا بھی نہیں ملتا۔ اسرائیل میں تو ہر جگہ ملتا ہے۔
اعظم سواتی: انہیں دیسی مرغی کھانی چاہئے۔ میں ابھی تین دیسی مرغیاں کھا کر آ رہا ہوں۔
عارف علوی: اکٹھی تین؟
اعظم سواتی: نہیں باری باری، پہلے ایک کھائی، پھر دوسری، پھر تیسری!
عارف علوی: تمہارا روزہ نہیں ہے؟
اعظم سواتی: ہے ،دیسی مرغی کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
علی محمد (پہلی بار بولے) اصل سوال کا جواب ابھی تک کسی نے نہیں دیا۔
عمران: وہ کیا۔
علی محمد یہ فلسطین ہے کہاں؟
شاہ محمود قریشی: بتا تو دیا، یہ اسرائیل کا ڈسٹرکٹ ہے۔
علی محمد: تو پھر یہ انٹرنل افیئر ہوا، دین وائی وی شڈ انٹر فیئر!
شاہ محمود: یہ بات تو ہے۔

اعظم سواتی: خواتین و حضرات بارہ کورس کا ڈنر ریڈی ہے۔ ساتھ والے ہال میں تشریف لے چلیں۔
عارف علوی: اس اجلاس کی خبر جاری کرنی ہے۔
عمران خان: وہ محمود الرشید نے پہلے سے تیار کر لی ہے، چلئے سنتے جائیے۔
اسلام آباد: تحریک انصاف کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی شدید مذّمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس ساری سازش کے پیچھے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ہاتھ ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی شرمناک کردار ادا کیا۔ اجلاس نے کہا کہ 14 اگست کو نواز شریف کا تختہ الٹ کر مسئلہ فلسطین کو حل کر دیا جائے گا اور اس کے ذمہ دار ریٹرننگ افسروں کو بھی بالکل معاف نہیں کیا جائے گاجبکہ نجم سیٹھی کو قائد تحریک اپنے ہاتھوں سے ڈی چوک میں پھانسی دیں گے تاکہ آئندہ کسی کو مسئلہ فلسطین پیدا کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔ اجلاس نواز شریف کی سخت مذمت کے بعد برخواست ہو گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.