.

پاک بھارت تعلقا ت میں بہتری

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلے ماہ اسلام آباد میں سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات کے فیصلے کو دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔میاں نواز شریف یقینا خوش ہونگے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی جن کی ماضی میں پاکستان اور مسلم دشمنی کسی سے مخفی نہیں کی تقریب حلف برداری میں ان کی شرکت رائیگاں نہیں گئی۔ بھارتی میڈیا یہ کہہ کر بھی میاں صاحب کو پھونک دے رہا ہے کہ اگرچہ سری لنکا کے سوا سارک کے تمام رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اس تقریب میں موجود تھے لیکن اس میں شہ بالا میاں صاحب ہی تھے۔ تاہم ناقدین نے یہ خاص طور پر محسوس کیا کہ پاک بھارت مذاکرات کی تلخ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی سربراہ حکومت نے اپنے مدمقابل کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی مسلمہ روایات کے مطابق حریت کانفرنس کی لیڈرشپ سے ملاقات کی زحمت گوارا کی۔

نواز شریف اور نریندر مودی کی مذاکرات کی سائیڈ لائنز ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ بھارتی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس سمٹ کے دوران ہوانے والی گفتگو کا محاصل بیان کرتے ہوئے بھارت کی پاکستان سے تمام شکایات کا ذکر تو کیا لیکن پاکستان کے تحفظات کے بارے میں اگر ملاقات میں ذکر ہوا بھی تو بیان کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ چند ہفتے قبل پاکستان کے سابق وزیر خارجہ محترم خورشید محمود قصوری کے قائم کردہ تھنک ٹینک کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ کا بنظر غائر جائزہ لیا گیا، اجلاس میں بھارتی وفد نے بھی شرکت کی جس میں سابق سفارتکار اور کانگرسی سیاستدان مانی شنکر بھی شامل تھے ۔ انہوں نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا،دیگر بھارتی شرکاءنے بھی پاکستان کے بارے میں کوئی زیادہ گلے شکوے نہیں کئے۔اس وفد کے ایک معروف رکن وید پرتاپ ویدک بھی تھے،موصوف پاکستان آتے جاتے ہیں اور اکثر سرخ ویسٹ کوٹ اور کتیروی کرتا پہنتے ہیں ،خود کو کسی نیشنل سکیورٹی کے ادارے کا سربراہ بتاتے ہیں۔ان کے مطابق پاکستان اوربھارت کے معروف سیاستدانوں اور صحافیوں سے ان کی براہ راست گپ شپ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مودی اور نواز شریف کے درمیان جو مذاکرات ہوئے ان میں دونوں رہنما شیرو شکر ہو گئے تھے۔لیکن ترجمان موصوفہ نے باہر آکر اپنے بیان میں غلط تاثر دیا۔ جس محفل میں ویدک صاحب نے یہ ڈینگ ماری اس میں مجھ سمیت کوئی بھی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے اور ہاں اگر ایسا ہوتا تو محترمہ اب تک نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھی ہوتیں۔

بہتر پاک بھارت تعلقات نوازشریف کا ایک خواب ہے اور اس کی تعبیر کرتے کرتے وہ 1999ء میں اقتدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ پرویز مشرف نے اس وقت کے بی جے پی کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور یاترا سے پیدا ہونے والی فضا کو کارگل پر چڑھائی کرکے سبوتاژ کر دیا تھا لیکن میاں صاحب بھی قسمت کے دھنی ہیں اب پھر اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ اسی مشن پر چل پڑے ہیں۔ مقام شکر ہے کہ 1999ء کے مقابلے میں کئی لحاظ سے حالات مختلف ہیں ۔ تاہم ایک مماثلت ضرور ہے کہ اس وقت بھی بھارت میں بی جے پی کی حکومت تھی اور آج بھی بھارتیہ جنتا پارٹی ہی برسراقتدار ہے لیکن واجپائی اور مودی میں کافی فرق ہے۔ مودی نے ابھی تک یہ عندیہ نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے بارے میں کیا پالیسی لائیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا، غالباً اسی بات کی پیش بندی کرتے ہوئے گزشتہ روزبھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ طلب کر کے سمجھوتہ ایکسپریس کے ٹرائل میں بغیر کسی وجہ کے تاخیر کرنے پر اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور کہا کہ بھارت انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہا۔دوسری طرف نئی دہلی میں ہمارے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھارتی دفتر خارجہ میں بلا کر ممبئی حملہ کیس میں مبینہ تعطل پر اظہا رتشویش کیا گیا ہے اس پس منظر میں سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مجوزہ مذاکرات میں کسی خاص پیش رفت کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔
پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے فضا سازگار ہے کیونکہ پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے لہذا وہ مشرقی سرحدوں پر امن کی ہی خواہشمند ہوگی۔جنرل راحیل شریف کے پیش رو جنرل کیانی تو تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن نہ کرنے کا یہی جواز پیش کرتے تھے کہ اس طرح پاک فوج بیک وقت دو محاذوں پربرسر پیکار ہو جائے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری فوج اپنے روایتی انڈین سنٹرک سکیورٹی پیراڈائمز سے ہٹ چکی ہے۔ اسی بنا پر میاں صاحب کو بھارت سے تعلقات میں حقیقی پیش رفت کے لئے خود کو اور فوجی قیادت کو ایک صفحے پر لانا ہو گا۔شاید یہ بات جمہوریت میں سویلین بالادستی کے مسلمہ اصول کے خلاف ہو لیکن پاکستان کے معروضی حالات میں ایک اٹل حقیقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو دیگر عوامل کے علاوہ مسلم لیگ ن کے اقتدار کے لئے کوئی نیا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

پاک بھارت مسائل تو وہی ہیں ،مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قرارداد کو اکثر حلقے فرسودہ قرار دیتے ہیں لیکن کشمیر کا کوئی نہ کوئی حل نکالے بغیر دونوں ممالک میں تعلقات بہتر کرنے کی مضبوط بنیادیں استوار نہیں ہو سکتیں۔ پانی کا تنازع بھی گھمبیرصورت حال اختیار کر چکا ہے ،بھارت سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔پاکستان کی طرف آنے والے دریاو ¿ں پر ڈیم اور پانی کے دیگر سٹوریج بنائے جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن سفارشی اور نا اہل وکیلوں کی وجہ سے مار کھا گیا۔ پانی کے حل کے حوالے سے بھی کوئی مثبت پیش رفت کئے بغیر تعلقات بہتری کی جانب گامزن نہیں ہو سکتے۔ وزیر تجارت خرم دستگیر کے بقول بھارت سے براہ راست تجارتی رسائی دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہے، اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو پھر پاکستان کو اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے لئے بقائے باہمی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،اس کے لئے دونوں ملکوں کی سویلین اور فوجی قیادت کو اپنی اپنی سوچ میں تبدیلی لانا پڑے گی لیکن تاحال یہ امید، امید موہوم نظر آتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.