دُنیا پر امریکی قوانین کا نفاذ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی قوم نہ ہاری ہے اور نہ تھکی ہے اور نہ ہی ظلم کرنے سے رکی ہے اور نہ ہی اپنی بالادستی کا خیال دل سے نکالا ہے اپنی بالادستی کو تسلط کرنے اور اس تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے وہ ہر کام کرنے کو تیار رہتی ہے۔ اُس کے لئے اخلاقیات، انصاف اور انسانیت جیسے الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔ وہ اپنے نافرمان دوسرے ملکوں کے حاکموں کو مار دیتی ہے، وہ قوموں پر جنگیں مسلط کر دیتی ہے، دو قوموں کو لڑا دیتی ہے، کسی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ پاکستان میں کوئی انقلاب یا کوئی حکمراں امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں بنا اور بن گیا تو سزا کے مرحلہ سے گزرا، پھانسی پر چڑھا، جہاز گرا دیا گیا، ملک بدر ہوا، قتل کر دیا گیا یا سزا کا منتظر ہے۔

عراق اور افغانستان کو تاراج کر دیا اور اب بھی وہاں قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ عراق میں خود دستور بنا کر گئے۔ خود حکومت کھڑی کی اب اُن پر ایک داعش نامی تنظیم کھڑی کر کے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کے سامان کئے جا رہے ہیں۔ افغانستان کو تباہ و برباد کرکے اپنی پسند کی حکومت لانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ جو ملک جمہوریت کے قریب نہیں گزرا اس میں جمہوریت لانے کا جھوٹا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ اصل میں انہوں نے پشتونوں کے مقابلے میں ایک غیر پشتون فوج بنا دی ہے۔ غیر پشتون افغانوں کو حکومت کا تجربہ سے آشکار کر دیا ہے۔ اب افغانستان میں دو متوازن قوتوں کاتضاد قائم کر دیا ہے جن کو آپس میں لڑا کر وہ افغانستان کی سنگلاح سرزمین پر اپنا اثر رکھیں گے اور جو لوگ کہتے تھے کہ افغانیوں پر کوئی حکومت نہیں کرسکا یہ کہ افغانستان شہنشاہیت کا قبرستان ہے۔ سب غلط تصور ثابت ہوئے۔ اگرچہ ہم جیسے لوگوں جن کی علم محدود اور فکر کا دائرہ سکڑا ہوا اور امریکی اپنی وسیع نظری میں ثانی نہیں رکھتے۔

اگر وسیع نظری میں کمی ہو تو اس طاقت سے درست کر لیتے ہیں، وہ سپر پاور ہیں جو غلطی کرے اور جنہیں غلطی کی سزا نہیں ملتی اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اعلیٰ اذہان پر مشتمل سو کے قریب ادارے رکھتے ہیں۔ جو انسانوں اور قوموں کے طور طریقے، اطوار اور ذہن کی پہنچ کا جائزہ لے کر اس کا توڑ کرتے ہیں اور اُن کو اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا یہاں پر کم علم اپنے آپ کو بڑا دانا سمجھتا ہے اگرچہ اس کو کچھ علم نہیں ہوتا جو امریکہ کر رہا ہوتا سوائے اللہ کے ان کے نزدیک فی الوقت کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ڈاکٹر نک کی ایک کتاب Angles Don't play this HAARP یعنی فرشتے ہارپ کا کھیل نہیں کھیلتے۔ (ہارپ امریکا کا وہ ادارہ ہے جو مصنوعی موسمی تغیرات لاسکتا ہے جس میں زلزلہ، سونامی، سیلاب اور دیگر) میں صدر جمی کارٹر انتظامیہ کے سابق مشیر سلامتی امور بررنسکی سے یہ جملے منسوب کئے ہیں کہ ’’امریکہ کو اپنی بالادستی کو قائم رکھنے میں حق بجانب ہے اور اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اُن قوتوں کو جو سائنسی میدان میں امریکہ سے پیچھے ہیں۔ اُن کو اپنا مطیع بنا کر رکھے اور اُن کے اذہان کو قابو میں لائے اور اُن کو اپنی مرضی کے مطابق چلائے۔

امریکہ کے ایک صحافی نے 1990ء کے عشرے میں امریکی رعونت کے نام سے ایک مضمون لکھا تھا اور یہ کہا تھا کہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اُس کی پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے قوانین دُنیا کے ہر ملک پر لاگو ہیں۔ یورپ کے علاوہ اس نے یہ پاکستان پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کی اور وہ ہندوستان سے اپنے شہریوں کو امریکی ایٹمی ری ایکٹروں سے نقصانات کے ہرجانہ ادا کرنے سے مبرا قرار دلوا چکا ہے۔ افغانستان میں بھی وہ اپنی شہریوں کو افغانی قوانین سے آزاد کرانا چاہتا ہے۔ جس سے اُس کو کوئی دقت کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ اقتدار کے پجاری چاہے وہ کسی ملک کے ہوں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں وہ اپنے اقتدار کے لئے امریکہ کو یہ رعایت دیدیں گے کہ افغانستان میں موجود امریکی اڈے میں رہنے والے امریکی شہری افغانی قانون سے ماوراء ہوں گے۔ یورپ کا حال اس سے کہیں بُرا ہے۔ امریکہ یورپ کے ملکوں کو امریکہ کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں سے زیادہ نہیں سمجھتا۔ اُن کے خلاف جاسوسی کرنے کا حق و اختیار رکھنے کا برملا اعلان کر چکا ہے۔

ایک صحافی ایرک مارگولس نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ امریکہ یورپ کو 1945ء کا یورپ سمجھتا ہے۔ کیوں نہیں اس نے یورپی یونین بننے نہیں دی۔ وہ جرمنی میں دُنیا کا سب سے بڑا جاسوسی اڈہ رکھتا ہے اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے بلیک بیری ٹیلی فون کو ٹیپ کرتا ہے۔ اس پر امریکی یہ کہتے ہیں ایسا تو سب ہی کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اوباما کے بلیک بیری کو اگر ٹیپ کیا جائے تو کیا امریکہ مان لے گا۔ اٹلی میں امریکی کسی قانون کے پابند نہیں۔ 2003ء میں ایک مسلمان مذہبی رہنما کو میلان سے گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا۔ اٹلی نے 23 امریکی ایجنٹوں کو سزا دی مگر امریکہ نے اُن ایجنٹوں کو اٹلی کے حوالے نہیں کیا۔ سوئٹزرلینڈ کو بھی امریکیوں نے نہیں بخشا۔ وہ امریکی جو ٹیکس ادا نہیں کرتے اُن کی رقم سوئس بینکوں میں جمع ہے کے نام حاصل کرنے کیلئے ایک سوئس بینک UBS کے صدر رائول ویل کو اٹلی سے گرفتار کرلیا اور امریکہ پہنچا دیا گیا جہاں اُس کے خلاف مقدمہ چلانے کی تیاری ہے اور سوئس بینک کو ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے نام اپنے ملک کے دستور کے خلاف ظاہر کرنے پڑیں گے۔

اسی طرح سے فرانس کے ایک بینک پر امریکہ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر 8.79 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ جواباً نہ جرمنی اپنے ہاں امریکی اڈے کا معاہدہ توڑ سکتا ہے اور نہ فرانس کچھ کرسکتا ہے۔ اور برطانیہ تو جیسے امریکہ کا زرخرید غلام ہو وہ امریکہ کی اجازت کے بغیر کوئی ایٹمی میزائل نہیں چلا سکتا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ایٹمی میزائل چلانے کا کوڈ امریکہ کے پاس ہے۔ برطانیہ تو آزاد ایٹمی طاقت ہی نہیں اگرچہ فرانس اپنے آپ کو آزاد ایٹمی طاقت کہہ سکتا ہے۔ امریکہ نے پورے یورپ میں بڑے اور چھوٹے ایٹمی ہتھیار رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پورا یورپ تھر تھرا رہا ہے۔ میں نے ایٹمی ہتھیاروں سے کا یورپ کانپ رہا ہے کے عنوان سے ایک مضمون ’’جنگ‘‘ میں لکھا تھا جس میں یورپ کے دو ممالک کے وزرائے خارجہ کی طرف سے لکھے ہوئے ایک مضمون کا ذکر کیا تھا کہ اب روس کا خطرہ باقی نہیں رہا اس لئے امریکہ یورپ سے ایٹمی ہتھیار ہٹا لے۔

مگر وہ امریکہ ہی کیا جو اُن کی بات سُنے تاہم ایک موہوم سی اُمید بندھ چلی ہے کہ اب روس نے اپنے آپ کو نئے انداز سے یورپ سے متعارف کرا رہا ہے۔ سفید ریچھ کی بجائے وہ اپنے آپ کو مہذب قوم کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اپنی تہذیب کو سنوار کر یورپ کے سامنے رکھ رہا ہے، اپنے آپ کو پرامن ملک ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یوکرائن کے معاملے میں زبردستی نہیں کر رہا دوسرے وہ امریکی ڈالر پر ضرب لگانے میں لگا ہوا ہے۔ پھر بھی امریکہ کا مقابلہ بہت دور کی بات ہے امریکہ نے اپنے جال اپنی دلدلیں، بھنور اور اپنی طاقت کا مظاہرہ ہر جگہ کر رہا ہے۔ چاہے وہ مشرق وسطیٰ کی سرزمین ہو یا افغانستان کی یا جنوبی چین کا سمندر ہو یا یوکرائن۔ ہر جگہ وہ کسی نہ کسی طرح مصروف عمل ہے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ پراکسی جنگ لڑ رہا ہے یا کسی بڑی جنگ کی تیاری کررہا ہے۔ کسی کو گھیر رہا ہے تو کسی کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔ میں نے اس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے 2001ء میں کہا تھا کہ شاید اب اللہ ہی امریکہ کو سزا کے عمل سے گزارے ورنہ روئے زمین پر اب کوئی طاقت ایسی نہیں جو امریکہ کی شیطانی قوت کا مقابلہ کر سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size