.

امریکہ اور اسرائیل میں دنیا بدل رہی ہے مگر فلسطین!

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین پر ٹوٹنے والی قیامتوں کے دوران عید کا کیا خاک مزا آیا۔ میں بہت دکھ میں ہوں۔ عید منانے کے ساتھ دکھ منانے کا بھی ’’مزا‘‘ آ گیا۔ کتنی بے بسی ہے۔ اب تو بے بسی کی انتہا کئی دفعہ گزر گئی ہے۔ ہم کتنے ڈھیٹ ہیں کہ یہ انتہائیں بھی گزار لیتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا بھی ہے۔ عالم عرب عالم اسلام خاموش ہے۔ مسلمان حاکم غلام ہیں۔ ایک بھی مسلمان ملک کی طرف سے کوئی زور دار بات نہیں ہوئی۔ یہ مسئلہ اب مسلمانوں کا بھی نہیں۔ انسانی معاملہ ہے۔ بچہ تو بچہ ہوتا ہے۔ وہ مسلمان، مسیحی، یہودی، فلسطینی، امریکی، پاکستانی، ایرانی، بھارتی کے گھر میں پیدا ہو۔ پیغمبر اعظم رحمت عالم رسول کریم حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیلی فطرت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ کب تک لڑیں گے۔ ہم نے بھی سارے معاملے فطرت پر چھوڑ رکھے ہیں اور فطرت ظلم اور بربریت کے حق میں فیصلہ نہیں کرے گی۔ فطرت امن اور عدل کے لئے فیصلہ کن عمل کرے گی۔ پھر سارے ردعمل ردی عمل بن جائیں گے۔ خون کبھی ردی میں نہیں بکے گا۔ ظلم ردی میں بکے گا اور ظلم خریدنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

فلسطینی بچوں کا خون ٹپکتا رہے گا۔ کبھی نہیں جمے گا۔ یہ خون نئی تاریخ لکھے گا۔ آج کے ظالم اسرائیلی ہیں۔ آج دنیا والوں کو اچھی طرح سے پتہ چل گیا ہے کہ یہودی کون ہیں اور کس طرح کے لوگ ہیں؟ انہیں ظالم کہنا بھی ظالموں کی توہین ہے۔ میں یہودیوں کو اسرائیلیوں سے مختلف مخلوق سمجھتا ہوں۔ اسرائیل میں کئی یہودیوں کے مضامین شائع ہو رہے ہیں جس میں وہ نہتے فلسطینی لوگوں عورتوں اور بچوں پر حملوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ قتل و غارت گری کی مذمت کر رہے ہیں۔ کیا یہودی صرف لڑنے مرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ کیا ان کی آنے والی نسلیں بھی اس طرح کی ڈری سہمی فضا میں زندگی گزار دیں گی۔ یہاں مجھے درد کی گہرائی اور تنہائی میں پناہ لینے والے دوست شاعر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آتا ہے۔ یہ شاعری وہ کسی جہاں دیگر میں بیٹھ کے کرتا ہے۔

خوف اور خواہش کے درمیان نہیں رہنا
یہ جہاں ہو جیسا بھی اب یہاں نہیں رہنا

مارنے والے مرنے والے سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ انہیں بھی ایک دن مر جانا ہے۔ خوف اور خواہش بہن بھائی ہیں۔ ان کی آپس میں گہری رشتے داری لالچ اور ڈر ایک ہی قبیلے کے جذبے ہیں۔ دونوں ظالموں کے دلوں میں گھر بناتے ہیں۔ ظالم بزدل ہوتے ہیں۔ ظالم حاکم ہوں تو وہ اور بھی بزدل ہوتے ہیں۔ ان کا بس صرف کمزوروں پر چلتا ہے۔ بچے کے ساتھ کیسی لڑائی؟ ہمیشہ بچے سے ہار جانا اچھا لگتا ہے۔ بچے سے جیت کے ’’احساس برتری‘‘ میں مبتلا اسرائیلیو یہ سب سے بڑا سب سے برا احساس کمتری ہے۔ فلسطینی اپنے بچوں کی لاشیں اور جنازے لئے ہوئے آتے ہیں تو میں بہت روتا ہوں۔ رونا بڑائی بھی ہے اور برائی بھی ہے۔ اور ہم برائی میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔

ابھی کل پرسوں زخمی حامد میر کے ساتھ جینوئن سیاسی دانشور مشاہد حسین اور باکمال ادبی سکالر پروفیسر فتح محمد ملک بات کر رہے تھے۔ غالباً مشاہد حسین نے کہا کہ فلسطینی حریت پسند لیڈر خالد مشعل عرب امارات کی ریاست قطر میں ہے۔ مجھے دکھ ہوا۔ اسے تو غزہ میں اپنے بچوں اور بہنوں بھائیوں کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔ وہ قطر میں آرام سے ہے اور اس کی بستی میں قطرہ قطرہ خون بہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ خون کب سیلاب بلا بنے گا۔ لیڈر چھپ کر تماشا کر رہے ہیں تو خون کو بھی شرم آ جائے گی۔ یاسر عرفات بھی آخری دنوں میں یہودیوں اور مغربیوں کا قیدی تھا۔ بستر مرگ پر اس کا علاج پیرس میں ہوا۔ یہ نئی زندگی کے لئے تھا یا پرانی موت کے لئے تھا۔ ایران میں انقلاب سے پہلے آیت اللہ خمینی بھی پیرس میں جلاوطن ہوئے تھے۔

آج ایران کی بھید بھری خاموشی کس راز سے پردہ اٹھائے گی۔ مسیحی فلسطینی لیلیٰ خالد کہاں ہے؟ کیا فلسطین ہمیشہ دنیا والوں کو دہائی دے گا کہ ہم مظلوم ہیں۔ ہم ستم رسیدہ ہیں۔ ہم لہولہان ہیں۔ ہمیں بے گناہ بے خبر مارا جا رہا ہے۔ ہماری مدد کرو، ہمیں بچائو۔ عرب اور فلسطین کے لیڈروں کو محبت اور جرات سے کام لینا چاہئے۔ وہاں شہید ہونے والا بچہ بھی خالد مشعل سے زیادہ بڑا لیڈر ہے۔ یہ المیہ عربوں اور مسلمانوں کا نہیں۔ دنیا بھر کے انسانو! ذرا سوچو میرے ساتھ مل کر آنسو تو بہائو۔ ہم تو اب خون کے آنسو بھی نہیں روک سکتے۔

مشاہد حسین مجھے پسند ہے۔ وہ سیاستدانوں میں بات کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ اس کی عالمی مسائل پر نظر ہے۔ اس نے قطر کی تعریف کی کہ وہاں سے اچھی خبریں آتی ہیں اور مظلوم مسلمانوں کے لئے امداد کی صورت بنائی جاتی ہے مگر میرا سوال برادر مشاہد حسین سے ہے کہ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔ یہاں سے پوری مشرق وسطیٰ اور عالم عرب و اسلام پر امریکہ نظر رکھے ہوئے ہے۔ پھر امریکہ نے خالد مشعل جیسے اسرائیل دشمن لیڈر کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ یہاں پناہ لے۔ اس میں کیا راز ہے؟ غالباً حامد میر نے بھی یہ بات کہی کہ امریکہ نے طالبان سے بھی قطر ہی میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ تب میں نے ایک ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ جن طالبان سے امریکہ مذاکرات کر رہا ہے وہ اس کے اپنے ’’طالبان‘‘ ہوں گے۔ ان کو میں امریکی طالبان کہتا ہوں۔

اب دنیا بدل رہی ہے۔ امریکہ بھی اپنے آپ کو دور کہیں کچھ کچھ بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اندر قتل و غارت گری کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ مغربی دنیا میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں عام لوگ فلسطینی جارحیت کی درندگی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکہ کی پالیسی میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ جبکہ بطاہر اس کا امکان نظر نہیں آتا مگر امریکی تھنک ٹینک اس حوالے سے بھی اب سوچ رہے ہیں۔

خوشی ہوئی کہ حامد میر تازہ دم اور تنومند نظر آ رہے تھے۔ بڑی دیر کے بعد اسے دیکھا۔ اس کے دو چار دن پہلے کے کالم میں انگلستان میں ملالہ کے گھر میں اپنے زخموں کے ملال کی یاد ہانی کی بھولی ہوئی کہانی تھی۔ اس کی طرف سے تکلیف کی کیفیت بھی پڑھنے کو ملی مگر آج وہ پوری طرح صحت مند لگے۔ لگتا تھا جیسے اسے گولیاں لگی ہی نہ ہوں۔ وہ فلسطین میں قتل و غارت گری کی دھوپ میں لتھڑی ہوئی گفتگو میں پوری طرح شریک تھا اور کوئی گمشدہ آرزو بھی کہیں سسک رہی تھی۔ امید ہے وہ وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر بھی کوئی پروگرام کرے گا اور وہ جانتا ہے کہ آپریشن اور پوست مارٹم میں کیا فرق ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.