.

بنوں، غزہ، ساحل کراچی اور ہماری خوشیاں

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس مرتبہ عجیب عید آئی، ذہنی تر و تازگی اور فرحت کا باعث بننے کے بجائے، موقع کی خوشی حلق سے اتر نہیں پا رہی تھی۔ تین دن طبعیت افسردہ اور اوازار رہی۔ عید سے پہلے کے دو دن بنوں اور گرد و نواح کے علاقوں میں پھیلے ہوئے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے باشندوں کی حالت زار کی رپورٹنگ پر صرف ہوئے۔ جو تصویر ان کی آمد پر دیکھی تھی اُس میں اس حد تک تبدیلی یقینا نظر آئی کہ ان کی رجسٹریشن اور کھانے پینے کا انتظام بہتر ہو گیا۔ مگر بے کسی اور تکلیف ایسی تھی کہ نظر بھر کر دیکھنا محال تھا۔

تپتی ہوئی زمین، آگ برساتا آسمان، کپڑوں کے تھانوں میں لپیٹے ہوئے بچے، عورتیں۔ لمبی قطاروں میں 12 سے 14 گھنٹے کھڑے ہونے کے بعد نڈھال اور ناتواں مرد بے پناہ پریشانی کا شکار اور غصہ کا آتش فشاں بننے سے ایک بالشت دور۔ عید کے دن نقل مکانی کرنے والوں کے گرد سب نے سیاست کر کے خود کو محب وطن اور ان کا اولین خیر خواہ ثابت تو کر دیا مگر آج بھی عید گزرنے کے بعد یہ سب وہیں کے وہیں موجود ہیں۔ جب کہ ان کے ساتھ تصویریں کھنچوانے والے اپنی آرام گاہوں میں واپس جا کر دوسرے کاموں میں لگ چکے ہیں۔

2005ء سے لے کر اب تک ہم نے اپنے گھروں سے نکلنے والوں کو سنبھالنے کا انتظام نہیں سیکھا۔ اُس زمانے میں ایک تجویز سامنے آئی تھی کہ ہر ضلع میں اس کی آبادی کے نصف کے برابر افراد کو عارضی چھتیں مہیا کرنے کا انتظام اور خوراک کا ذخیرہ ہر وقت موجود ہونا چاہیے۔ جن اضلاع میں یہ ممکن نہیں ان کا اہتمام ڈویژن کی سطح پر کرنا چاہیے۔ مگر پھر درجنوں دوسری تجاویز کی طرح یہ تجویز بھی بھلا دی گئی۔ آج پھر سے نئے اصول و ضوابطہ مرتب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جو قومیں ماضی سے نہیں سیکھتیں وہ ہر روز اپنی غلطیاں دہراتی ہیں۔ ہم نے یہ مقولہ خود پر لاگو کر کے ثابت کیا ہے۔

بنوں میں رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے جو غیر فعالیت ضلعی انتظامیہ میں دیکھی ہے وہ شاید تھرپارکر میں بھی نظر نہیں آئے گی۔ اتنا انتظام بھی نہیں کر سکتے کہ کھانے کی تقسیم کے لیے بنائی ہوئی قطاروں کے گرد غلاظت اور گندگی کے ڈھیر ہی صاف کروا دیں۔ نہ جانے پرویز خٹک بہترین حکومت چلانے کے دعوے کس بنیاد پر کرتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کے نام پر سیاست کر رہے ہیں مگر ادھر کا رخ اُس وقت کرتے ہیں جب عمران خان کو خوش آمدید کہنا ہو۔ اس کے علاوہ کچھ وقت پشاور میں اور باقی اسلام آباد میں۔
عید کے باقی دن رمضان کی طرح فلسطینیوں کی شہادت کا ماتم کرتے ہوئے گزرے۔

باوجود کوشش کے ٹیلی ویژن کی اسکرین کو مکمل طور پر اپنی زندگی سے خارج نہیں کر پایا۔ تعصب کے مارے ہوئے مغربی ذرایع ابلاغ کی تمام تر پابندیوں کے باوجود غزہ میں مظالم کی ایک جھلک ہی ذہن کو بھک سے اڑا دینے کے لیے کافی تھی۔ الجزیرہ اور رشیئن ٹیلی ویژن نیٹ ورک دیکھیں تو پتھر کے زمانے کی وہ جنگیں یاد آتی ہیں جب طاقتور اور خونخوار قبیلے گرز مار مار کر مخالفین کی لاشوں کا قیمہ بنایا کرتے تھے۔ 27 میل پر پھیلے ہوئے اس چھوٹے سے خطے میں 17 لاکھ لوگ ایک طرح سے چوہے دان میں پھنس گئے ہیں۔

ظالم ان بچوں، عورتوں کو آسمان اور زمین سے بھون رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ یہ تاکید بھی کرتے ہیں کہ وہ ان جگہوں سے نکل جائیں۔ ایک طرف سمندر ہے دوسری طرف مصر اور اسرائیل نکل کر کہاں جائیں۔ نکلنے کی کوئی جگہ نہیں۔ جب اقوام متحدہ کا نمایندہ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر ٹیلی ویژن اسکرین پر رونے لگا تو وہ صرف بے بسی کا اظہار کر رہا تھا جو رتی برابر ضمیر رکھنے والا ہر شخص برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ نمایندہ وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ اسرائیل اور اس کے گماشتے ہر آواز کو بند کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ویسے اگر وہ یہ طاقت نہ بھی رکھتے ہوتے تب بھی حالات یہی رہتے اصل مسئلہ اسرائیل کی بدمعاشی یا مغربی بے ضمیری کا نہیں ہے بلکہ عرب ممالک کی اس بے حسی کا ہے جو انھوں نے خود پر جان بوجھ کر طاری کی ہوئی ہے۔ لڑائی اسرائیل نہیں کر رہا وہ تو ظلم ڈھا رہا ہے جھگڑا عر ب اور عجم کا بن گیا ہے۔ حماس خود کو غزہ والوں کا وارث سمجھتی ہے (اگرچہ وہ کیسا وارث ہے جو ہزاروں جانوں کے زیاں کو روک نہیں سکتا) عرب ممالک اسرائیل کو حماس کے خلاف موثر کاروائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

بیچ میں پھنسے ہوئے غزہ کے رہائشی جن کے لیے قبرستان بھی چھوٹے پڑ گئے ہیں۔ اگر علاقائی طاقتیں چاہیں تو لڑے بغیر بھی اسرائیل کا ہاتھ روکا جا سکتا ہے۔ امریکا کے سیکریٹری خارجہ جان کیری اپنی ہم منصب سشما سوراج کے لیے کرسی کو سیدھا کر کے جو مردانگی دکھا رہے ہیں اسکو فلسطینیوں کو بچانے کے لیے استعمال کرنے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایسا ہو گا نہیں عرب اور عجم کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو آپ سمجھ سکیں گے کہ غزہ کا قاتل کون ہیں۔ مگر sms پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے والی قوم شاید غزہ کے سانحے پر اتنی تحقیق کر نے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ لہذا ہم سب طبیعت کی افسردگی کے علاوہ اپنے غم کے اظہار کا کوئی اور طریقہ تلاش نہیں کر پا رہے۔

یہ عذاب ابھی چل ہی رہے تھے کہ تیسرے دن کراچی میں سمندر پر خوشیاں منانے والے درجنوں جوانوں کے ڈوب جانے کا سانحہ سامنے آ گیا۔ دم بخود حالت میں وزراء اور انتظامیہ کے بیا نات سن رہا تھا۔ جی چاہ رہا تھا کہ یا میں چھت سے چھلانگ لگا دوں یا ٹی وی بند کر کے اونچی آواز میں گانے لگا دوں۔ اپنی بدترین مجرمانہ غفلت کا ذمے دار مرنے والوں کو ٹھہرا دینا بالکل ویسے ہی ہے جیسے اسرائیل کا یہ کہنا کہ فلسطین اسی وجہ سے مارے جا رہے ہیں کہ وہ ان جگہوں پر موجود ہیں جہاں پر بمباری ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں خوشیوں کے تہوار عوامی تفریح کے مقامات کو بھر دیتے ہیں۔

کراچی کے رہا ئشیوں کے لیے سمندر سے بڑی تفریح کیا ہو سکتی ہے۔ ہر سال وہ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ کیا انتظامیہ کو معلوم نہیں تھا کہ یہاں پر حفا ظتی اقدامات کیسے کرنے ہیں۔ اگر تند موجوں والے حصے خطرناک تھے وہاں چار پولیس والے کھڑے کر کے لوگوں کو دوسری طرف ہانک دیتے (میں ہانک کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کر رہا ہوں کیونکہ حکمرانوں نے تاریخی طور پر ہمیں ہمیشہ ہانکا ہی ہے) ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرایع ابلاغ کے ذریعے انتباہ کر دیتے وہاں پر لائوڈ اسپیکر لگا کر ہر وقت تنبیہ جاری کرتے ویسے ہی جیسے پُر ہجوم سڑکوں پر ٹریفک والے مائیک کے استعمال کے ذریعے ہجوم میں سے قطاروں بنوا دیتے ہیں۔
اگر یہ سب کچھ کیا ہوتا تو سمندر میں ڈوب کر مرنے والے آج ہم میں موجود ہوتے، آنے والے دنوں کے بارے میں منصوبے بنا رہے ہوتے۔ مگر اب وہ زمین کے نیچے ہیں اور اوپر وہ نظام ہے جس نے اتنے بڑے سانحے کے بعد کسی ایک نائب قاصد تک سے جواب طلبی نہیں کی۔

میں نے وہ تمام واقعات بیان نہیں کیے جس نے عید کی مسرت کو زندگی سے عاری کر دیا۔ قتل کی وارداتیں، سرحدوں پر ہندوستان کا حملہ، دیر میں بخت بیدار کے گھر پر اجتماعی قتل اور افغانستان کی طرف سے پاکستان کے علاقوں پر لشکر کشی۔ اگر ان تفصیلات میں چلا جائوں تو پھر عید کا ذکر کرنا فضول ہے۔ اس تمام کیفیت میں اب ہم کو 14 اگست کے انقلاب کی خبر سنائی جا رہی ہے۔

میں نے پچھلے پانچ سو سال کی تاریخ میں آنے والے جتنے انقلابات کی تاریخ پڑھی ہے ان میں سے کوئی بڑے پیمانے پر خون خرابے کے بغیر نہیں آیا۔ اور جب آیا تو بھی تو اس کی کوکھ میں سے کسی فوری تبدیلی نے جنم لینے میں کئی دہائیاں گزار دیں۔ مگر چونکہ ہمارے لیڈر اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ وہ تاریخ پر حاوی ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہر کوئی انقلاب انقلاب چلا رہا ہے۔ اور سمجھ رہا ہے کہ وہ عظیم ہے۔ لگتا ہے کہ آنے والے دن بھی عید جیسے ہی گزریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.