.

سیاسی عمرے، بادشاہت اور دھرنے

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان کی کابینہ کے ارکان سے پوچھا، ان کی پارٹی کے رہنمائوں سے استفسار کیا، ان کے ساتھ کام کرنے والے سرکاری افسران سے سمجھنے کی کوشش کی، ان کے سابقہ اور موجودہ ذاتی دوستوں تک سے رجوع کیا لیکن مجھے کوئی بھی نہ سمجھا سکا کہ آخر وزیراعظم کو اب کے بار ہوا کیا ہے۔ ہر کوئی سمجھنے سے قاصر ہے کہ گیارہ سال تک آمریت کو سہنے والا اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم صاحب بادشاہ جیسا رویہ کیوں اپنائے ہوئے ہیں۔ سب ششدر ہیں کہ دس سال تسلسل کے ساتھ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی دہائی دینے والے حکمران کیوں تسلسل کے ساتھ پارٹی، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی تضحیک کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اداروں کے ساتھ ایسا کھیل تو میکیاولی کی کتاب کو زبانی یاد کرنے والا کوئی سیاستدان بھی نہیں کھیل سکا تھا، جو موجودہ حکمران کھیل رہےہیں ۔ آئی پی پیز سے لے کر میٹروبس اور نندی پور پروجیکٹ تک، ہر بڑا منصوبہ چند بڑے کاروباری پارٹنروں کو نوازنے کے لئے شروع کیا جاتا ہے اور غریب آدمی کا فائدہ کہیں نظر نہیں آتا۔ دعوے کئے گئے تھے کہ لوٹی ہوئی رقم کو باہر سے واپس لایا جائے گا لیکن اب لوٹ مار کی کمائی اور بھی تیزی کے ساتھ ترکی، قطر ، لندن اور نہ جانے کہاں کہاں منتقل ہو رہی ہے ۔ اقرباپروری، دوست پروری، پارٹنرز پروری کے ساتھ ساتھ چمچہ پروری کی بھی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے ۔

اہم کارپوریشنز اور نادرا یا نیکٹا جیسے قومی ادارے ذاتی کارندوں کی تلاش میں بغیرسربراہوں کے پڑے ہیں۔ ایک بہتری جو اس حکومت کے حصے میں آئی ہے ، بالائی سطح پر معیشت کی بہتری کی ہے لیکن اس سے بڑھ کر رشتہ داروں اور قریبی پارٹنروں کی معیشت بہتر ہوئی ہے ۔کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو قومی سلامتی کمیٹی میں تبدیل کرکے یہ کہا گیا تھا کہ اب خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے تمام اہم امور اس میں زیربحث لائے جائیں گے لیکن چار ماہ گزرجانے کے باوجود اس کا اجلاس طلب کرنے کے لئے تو دو گھنٹے کا وقت میسر نہیں جبکہ ہر ہفتے دو دن خفیہ طور پر لاہور یا پھر مری میں قیام کیا جاتا ہے ۔

اب یہ بادشاہت نہیں تو کیا ہے؟ مخالفین کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ وزیراعظم صاحب عدلیہ، فوج ، میڈیا، حتٰی کہ اپنی جماعت سے بھی الرجک سے ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکمران اب سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کی آخری حکومت ہے اور دل جلانے کی بجائے اسے خوب انجوائے کر لینا چاہئے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کا مزاج غیر محسوس انداز میں بادشاہانہ ہو گیا ہے اور اس لئے وہ نادانستہ اس روئیے کو اپنا چکے ہیں لیکن ایک رائے یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم پارٹی اور پاکستانی عوام سے بہت ناراض ہیں ۔ انہیں گلہ ہے کہ پچھلی مرتبہ مسلم لیگیوں نے ان سے کہا کہ نوازشریف قدم بڑھائو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن جب انہوں نے قدم بڑھالئے تو پھر عوام یا کارکن کہیں نظر نہ آئے ، اس لئے شاید اب وہ پارٹی اور عوام سے انتقام لے رہے ہیں ۔ ابھی تک میں اس انتقام والے نظرئیے کا قائل نہیں ہو رہا تھا لیکن رمضان المبارک کے آخری دنوں میں ملک اور اس کے عوام کو ایک طرح کی لاتعلقی کے انداز میں جس طرح وزیر اعظم دس روزہ دورہ سعودی عرب پر چلے گئے، اس سے تو لگتا ہے کہ واقعی وہ اس ملک اور اس قوم کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

بہانہ بنایا گیا عمرے کا۔ عمرہ ایک نفلی عبادت ہے جبکہ حکمران کے لئے عوام کی خدمت فرض ہے ۔ رب کائنات نے واضح کیا ہے کہ چاہے تو شرک کے سوا حقوق اللہ سے متعلق تمام گناہوں کو معاف کر دیں گے لیکن حقوق العباد کو معاف نہیں کریں گے ۔ ان حالات میں پاکستانی حکمرانوں اور لیڈران کرام کے لئے پاکستان سے غائب ہو جانا پاکستان کے 20 کروڑ عوام کی توہین ہے ۔ سب کی نہ ہو تو ان سات لاکھ پاکستانیوں کی توہین تو ضرور ہے جو ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہ ان ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور پولیس افسران کی قربانیوں کے ساتھ بھی مذاق ہے جو اس وقت اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ میاں صاحب کو اگر یہ دورےاس ملک کے عوام سے زیادہ عزیر ہے تو پھر انہوں نے پاکستان لوٹنے کی زحمت کیوں گوارا کی؟ ان کی ٹیم کی نااہلیوں کا تو یہ حال ہے کہ آج تک بے گھر ہونے والے پاکستانیوں کا صحیح تعداد تک معلوم نہ کرسکی ۔ کوئی نو لاکھ کا عدد دے رہا ہے ، کوئی سات لاکھ کا ، کوئی ساڑھے چھ لاکھ کا تو کوئی چار لاکھ کا۔ کہتے ہیں کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ ذاتی خرچے پر عمرے کے لئے گئے لیکن نہ جانے انہیں کوئی کیوں نہیں بتارہا کہ مسلمانوں کا لیڈر یا حکمران بن جانے کے بعد انسان کے لئے معیارات الگ ہوتے ہیں۔ حضرت عمربن عبدالعزیز امیر المومنین بننے سے قبل شاہانہ زندگی گزارتے تھے لیکن قوم کی قیادت کی ذمہ داری کاندھوں پر آنے کے بعد وہ اپنی زندگی کو عام شہری کی زندگی کے برابر لے آئے ۔

علمائے کرام بتاتے ہیں کہ عام مسلمان کو آزادی ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دولت کو جس طرح چاہے اپنے اور اہل و عیال کے اوپر جائز طریقے سے خرچ کرے لیکن قیادت کے لئے معیار کھڑا ہوجاتا ہے ۔ عام مسلمان چاہے تو نفلی عمروں پر جاسکتا ہے لیکن حکمران سے قیامت کے روز نفلی عبادات کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی جان ومال اور عزت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ آپ سوچیں گے کہ مجھ جیسے گناہگار بندے نے آخر موجودہ حکمرانوں کو دین کی بنیاد پر نصیحت کیوں شروع کی حالانکہ میں اپنے اعمال سے بھی واقف ہوں اور حکمران طبقے کی سوچ سے بھی خوب واقف ہوں لیکن چونکہ حکومتی ترجمان بیانات دیتے رہتے ہیں کہ وزیر اعظم دینی فریضہ کی ادائیگی کے لئے تشریف لے گئے تھے ، اس لئے مجھے بھی دینی حوالے سے بات کرنی پڑی ۔ لیکن ہم میاں صاحب سے کیا گلہ کریں ۔ جب دین و شریعت سے بخوبی آگاہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب بھی وزیرستان اور وہاں سے بے گھر ہونے والے لاکھوں انسانوں کو چھوڑ کر نفلی عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جابیٹھیں اور جب طالبان کے ساتھ مذاکرات پر سیاست کرنے والے مولانا سمیع الحق بھی ان لوگوں سے صرف نظر کر کے سیاسی اعتکاف میں بیٹھ جائیں تو پھر ہم علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے سابقہ محسن اور شاگرد سے کیا گلہ کریں گے اور ہاں یاد آیا اس علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ امدادی سامان کے کئی ہزار تھیلے وزیرستان کے متاثرین کے لئے لے جائیں گے ۔

کیا روزانہ ان کے فرینڈلی انٹرویوز کرنے والے اینکران میں سے کوئی ان کو کیا ان کے اس وعدے کی یاد دہانی کرا سکے گا ۔ اور ہاں یاد آیا یہ علامہ صاحب ہر سال لاہور میں شہراعتکاف بسا کر خود بھی اعتکاف میں بیٹھتے تھے ۔ کوئی ہے جو ان سے پوچھے کہ اس سال کیا ہو گیا جو انہوں نے ایسا کرنا گوارا نہیں کیا اور ہاں ان سے یہ بھی پوچھا جانا چاہئے کہ وہ غزہ میں اسرائیلیوں کے مظالم پر کیوں خاموش ہے ؟ کہیں کینیڈا کی شہریت تو رکاوٹ نہیں ۔نہ جانے میاں صاحب اپنی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیراعظم اور چوہدری نثار علی خان کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا کر اسحٰق ڈار صاحب کو ساتھ لے کر مستقل سعوی عرب سکونت اختیار کیوں نہیں کرتے ؟ کیونکہ یہی ان سے مطالبہ ہے اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو قادری صاحب بھی واپس کینیڈا چلے جائیں گے اور اسلام آباد کے شہری چودہ اگست کو دھرنے کی عذاب سے بھی بچ جائیں گے ۔ شہباز صاحب کو عمروں کا شوق نہیں اور میاں صاحب کو پاکستان سے دلچپسی نہیں تو پھر مذکورہ مطالبہ مان کر قوم کو دھرنوں سے نجات کیوں نہیں دلائی جاتی ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.