.

فلسطینی جنگ کے کچھ نئے پہلو!

ظہیر اختر بیدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ 67 سال سے یہ مظالم کم و بیش کے تناسب سے فلسطینی عوام پر ہو رہے ہیں۔ 2008ء، 2009ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے اس بہانے جنگ مسلط کی تھی کہ فلسطینیوں نے اس کے ایک فوجی گیلاد شالیت کو گرفتار کر لیا ہے ایک فوجی کی رہائی کے لیے اسرائیل نے غزہ پر حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا ان میں 1500 بے گناہ فلسطینی شہید اور 7000 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔

اگرچہ غزہ پر یہ وحشیانہ حملے ایک اسرائیلی سپاہی کی رہائی کے نام پر کیے گئے تھے لیکن ان حملوں کا مقصد حماس کو ختم کرنا تھا جو آہستہ آہستہ طاقت پکڑ رہی تھی اور اسرائیل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی۔ لیکن اس قدر خون خرابے کے باوجود نہ حماس کو ختم کیا جا سکا نہ ہی اسرائیلی سپاہی کو بازیاب کرایا جا سکا۔ 2012ء میں اسرائیل نے غزہ پر اس وقت چڑھائی کی جب اسلامی جہاد کے کارکنوں نے یہودی بستیوں پر کچھ راکٹ فائر کیے اس جارحیت میں بھی لگ بھگ 100 فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطینیوں پر مظالم کا یہ سلسلہ اب 2014ء تک آ پہنچا ہے۔

موجودہ فضائی حملوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب فلسطینی حکومت اور اسرائیل کے درمیان 9 ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات ناکامی سے دو چار ہوئے اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے حماس کے ساتھ صلح کر لی اور الفتح اور حماس کی ایک مشترکہ حکومت قائم ہوئی اس بار تین یہودیوں کے اغوا اور قتل کا بہانہ بنا کر جارحیت کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں 1000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور خد شہ ہے کہ 2014ء کی اس اسرائیلی جارحیت میں ء2008 - 2009ء کے جانی نقصان سے زیادہ جانی نقصان ہو گا۔

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار اسرائیل جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار کر رہا ہے اور حماس غیر مشروط جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، حماس نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل کو جو دس شرائط پیش کی ہیں اسرائیل انھیں ماننے کے لیے تیار نہیں اور اپنی طرف سے کی جانے والی عارضی جنگ بندی کو چند ہی گھنٹوں کے بعد توڑ کر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
2014ء کی اس جنگ میں کچھ نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات کی آوازیں اقوام متحدہ میں گونج رہی ہیں اور ان کی تحقیق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس بار اسرائیلی فوجوں کی پہلی بار قابل ذکر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حماس کی طرف سے اسرائیل پر راکٹوں کی بھرمار ہو رہی ہے اور اسرائیلی شہریوں میں ایک بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔

اسرائیلی حماس کے راکٹوں سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جنگ بندی کے لیے حکومت پر اسرائیلی شہریوں کا دبائو بڑھتا جا رہا ہے اور اسرائیل کے طول و عرض میں خود اسرائیلی اپنی حکومت کے خلاف شدید مظاہرے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نیتن یاہو حکومت سخت دبائو میں ہے اس دبائو میں اضافہ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے ہو رہا ہے۔ جو غالباً پہلی بار عالمی سطح پر اس بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ میڈیا میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی جو تصویریں اور خبریں آ رہی ہیں اس کی وجہ سے دنیا کی رائے عامہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشتعل ہو رہی ہے۔ یہ صورت حال اسرائیلی حکومت کے لیے تشویش ناک اور فلسطینی عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

اگرچہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں بڑے پیمانے پر اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور اسرائیلی حکومت کے بے رحمانہ حملوں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں جن میں مسلم ملکوں کی حکومتیں بھی شامل ہیں، چپ کا روزہ رکھی ہوئی ہیں۔ اس دہری صورت حال سے اس نام نہاد جمہوریت کا بھانڈا بھی پھوٹ جاتا ہے جس کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جمہوری حکومتیں عوام کی نمایندہ ہوتی ہیں اور عوام کی رائے عامہ کا احترام کرتی ہیں۔

پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں اسرائیلی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔ جس میں مذہبی جماعتیں بھی پیش پیش ہیں اور ان سب کی طرف سے مسلم ملکوں عرب ملکوں کے حکمرانوں سے سوال کیا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کے اس بہیمانہ قتل عام کے خلاف نہ کوئی حکومت انفرادی طور پر کوئی موثر آواز اٹھا رہی ہے نہ اجتماعی طور پر اسرائیل کو ان وحشیانہ قتل عام سے روکنے کی کوئی بامعنی کوشش ہو رہی ہے جو ہٹلر کے دور کے جنگی جرائم کی یاد دلا رہی ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیلی حملوں کو جائز قرار دے کر اس کی حمایت کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے ملکوں کی تنظیم اقوام متحدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔

موجودہ اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر کی رائے عامہ کا احتجاج یقینا ایک اچھی علامت ہے لیکن اس کا ایک انتہائی منفی پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں خصوصاً مسلم ملکوں میں اعتدال پسند عوام انتہا پسندی کی طرف غیر محسوس طریقے سے راغب ہو رہے ہیں جو بالواسطہ طور پر مسلم ملکوں میں پہلے سے موجود انتہا پسندی میں مزید فروغ کا باعث بن رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر شدید مظالم کے خلاف مسلم ملکوں کے حکمران خاموش کیوں ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں جو ملک جمہوریت کا لیبل لگائے کھڑے ہیں وہ سرے سے جمہوری ملک ہیں ہی نہیں بلکہ مغرب کی متعارف کردہ وہ اشرفیائی حکومتیں ہیں جو کسی حوالے سے عوام کی نمایندگی نہیں کرتیں بلکہ استحصالی طبقات کی محافظ ہیں عوام سے ان حکومتوں کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ ملک میں تو ایسی خاندانی حکومتوں کا سلسلہ جاری ہے جو مغل دور کی یاد دلاتی ہیں اور اس سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ عرب ملکوں میں بادشاہتوں کا وہ نظام مستحکم ہے جسے دنیا نے مسترد کر دیا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ’’جمہوری‘‘ ملکوں کے حکمران محض مالی امداد کی خاطر ان بادشاہتوں کی چوکھٹوں پر سجدہ ریز نظر آتے ہیں جو نام نہاد جمہوریتوں کی بھی ضد ہیں۔

اسرائیل کا قیام مذہبی بنیادوں پر عمل میں آیا ہے نسلی طور پر اسرائیلی بھی عربوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مذاہب کے فرق نے انھیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ اسرائیلیوں کا یہ موقف منطقی ہے کہ انھیں اپنے لیے ایک ملک چاہیے اور اسرائیل کے نام پر ایک ملک حاصل بھی کر لیا گیا ہے لیکن اس کی قیمت کے طور پر لاکھوں فلسطینیوں کا قتل اور لاکھوں فلسطینیوں کی در بدری کیا انصاف کہلا سکتی ہے۔ اسرائیلی اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے حوالے سے اپنے آپ کو دنیا کی مظلوم ترین قوم کہتے ہیں اور ہٹلر پر اسرائیلیوں کی نسل کشی کا الزام بھی لگاتے ہیں لیکن 67 سال سے فلسطینیوں پر وہ جو مظالم ڈھا رہی ہے کیا وہ ہٹلر کے مظالم سے کم ہیں؟

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کو حل کرنے کے لیے نصف صدی سے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن یہ کوششیں اس لیے ناکام ہیں کہ یہ خلوص اور انصاف پر مبنی نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے علاقائی اور اقتصادی مفادات پر مبنی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.