.

کمال اتا ترک کی ضرورت ہے

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی جمہوریت نے ایسے ایسے کارہائے نمایا ںسر انجام دیے ہیں کہ اب ان سے رجوع کرنا سیاہ کو سفید کرنے کے مترادف ہے، چنانچہ ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ایک اصول ہے کہ ریاست کو مذہب کے بارے میں قانون سازی کرنے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ کسی کو کافر ،گنہگار یا اچھا مسلمان قرار دے۔ یہاں ہمیں کسی عرب ملک کی بطور ریاست پیروی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنی طرز کی ایک منفرد ریاستیں ہیں۔

اس بنیادی اصول کو وضع کر لینے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں کیا ہوا ؟ ہمارے ہاں جوشیلے نعروں (صرف زبانی حد تک) کی کوئی کمی نہ تھی اور اس پر مستزاد، 1974ء میں اس اسلامی جمہوریہ نے مذہبی حوالے سے ایک اچھے مسلمان یا اس کے برعکس ہونے کا تعین کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھا لی۔ یہ آمریت کا دور نہیں تھا جب پاکستان تنزلی کے اس سفر پر گامزن ہوا بلکہ جمہوریت کی چھتری تلے 1973ء کے نئے منظور کردہ آئین کی موجودگی میں یہ ستم ہوا۔ ایک بظاہر جمہوری دور میں پاکستان نے سماجی آزادی، لبرل روئیے اور انسانی اور آفاقی امور کے درمیان فطری حد بندی کا لحاظ کرنے کی یقین دہانی کرانے کی بجائے مذہب کے نام پر شدید ردِ عمل ظاہر کرنے کی راہ اپنا لی اور اسے اپنی اہم مذہبی خدمت سمجھ لیا۔ اپنے وقت کےعظیم عوامی رہنما کہلانے والے ذوالفقار علی بھٹو نے یہ سمجھا کہ ایسا کرتے ہوئے اُنھوں نے سیاسی طور پر اپنی جگہ ہمیشہ کے لئے پکی کرلی ہے، لیکن اس کے صرف تین سال بعد ہی قدامت پسند نظریات رکھنے والے آمر نے شب خون مارتے ہوئے ان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ آج پاکستان میں ہر آن پروان چڑھنے والی قدامت پسندی کے زیادہ تر سوتے اسی آمریت سے پھوٹتے ہیں۔ دو سال بعد بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ اس طرح وہ ایک حوالے سے سیاسی طور پر امر ہو گئے۔

بھٹو صاحب کے وضع کیے ہوئے نقوش پر آمر ضیاء الحق نے مذہبی تشخص کے خدوخال مزید گہرے کر دئیے اور 1984ء میں ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے ایک فرقے کو خود کو مسلمان یا اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کہنے سے روک دیا۔ 1974ء میں بھٹو کی طرف سے کی گئی آئینی ترمیم، 1984ء میں ضیاء کے آرڈیننس اور 1985ء میں پارلیمنٹ کے توہینِ مذہب کے بنائے گئے قوانین نے پاکستان میں خاص طور پر اقلیتوں کے لئے ایک خوف کی فضا قائم کردی۔ توہین کے قوانین کی زد میں زیادہ تر عیسائی برادری آئی جبکہ ان تینوں قوانین نے مل کر ایک گروہ کو پاکستانی معاشرے سے الگ کر دیا۔

اس بات پر بحث نہیں کہ جن معروضات کو جواز بنا کر یہ قوانین بنائے گئے وہ درست تھے یا غلط، یہاں صرف ایک وسیع تراصول کی بات کی جا رہی ہے کہ کیا مذہبی معاملات پر قانون سازی سے ریاست کو کوئی سروکار ہونا چاہئے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست مذہبی معاملات کی سرپرستی کرتی ہے تو کبھی ہزاروں عورتوں اور غیر مقلدوں کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دیا جاتا ہے یا پھر کسی نیک انسان، جیسا کہ منصور، کا سر فصیلِ شہر پر لٹکا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان میں ایسے قوانین بناتے ہوئے آمر اور مفاد پرست جمہوری حکمران، دونوں اپنے تئیں اسلام کا پرچم بلند کر کے لافانی عظمت حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی کیونکہ آنے والے وقت نے اسلام کی عظمت کی بجائے ان قوانین کی وجہ سے انتہا پسندی، تنگ نظری ، مذہبی عصبیت اور بنیاد پرستی کے پیرانِ تسمہ پا اس قوم کے کندھوں پر سوار دیکھے۔ ان کی وجہ سے پاکستان شاید دنیا کی واحد جمہوری ریاست ہے جہاں مذہبی تشخص کی بنیاد پر ’’اقلتیں‘‘ بھی پائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے بہت سے کیسز کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ، تاہم تازہ ترین واقعہ گوجرانوالہ کا ہے جہاں توہین کا الزام، جوکہ بغیر کسی ثبوت کے یک طرفہ تھا، کی بنا کر ایک اقلیتی گروہ کی فیملی پر حملہ کیا گیا۔ ان کے گھر کو نذر ِ آتش کردیا گیا جبکہ ایک معمر خاتون اور اس کی دو معصوم پوتیاں دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔
ہمارے ہاں مذہبی اشتعال اس قدر شدید ہے کہ کوئی بھی ایسا الزام، چاہے اس کا کوئی بھی ثبوت موجود نہ ہو، عوام کو آگ بگولہ کر دیتا ہے اور کوئی نہ کوئی اقلیت اس کا نشانہ بن جاتی ہے۔ اس ضمن میں بعض کیسز پر اگر غیر جانبداری سے غور کیا جائے تو ان کے پیچھے کسی نہ کسی کا مالی فوائد وابستہ ہوتا ہے۔ عام طور پر پولیس ایسے معاملات میں مداخلت نہ ہی کرنا بہتر سمجھتی ہے۔ وہ یا تو جائے وقوعہ پر پہنچتی ہی نہیں یا پھر خاموش تماشائی بن کر لاچار افراد کو تشدد کا نشانہ یا زندہ جلتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے۔ اس عالم میں کون سے انسانی حقوق، انسانی جان ومال کا احترام یا مذہبی آزادی، سب خس و خاشاک، ہر طرف جلتی ہوئی بستوں کا دھواں دکھائی دیتا ہے۔

اب وحشت کی اس آگ کو کیسے سرد کیا جائے؟ ہم پاکستان میں ایک روادار اور برداشت کا حامل معاشرہ کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ جمہوریت کے سر پر بہت سی فتوحات کا تاج سجا ہو لیکن جہاں تک پاکستانی جمہوریت کا تعلق ہے تو وہ اس معاملے میں خوفزدہ شتر مرغ ثابت ہوئی ہے۔یہ سائے سے بھی خوفزدہ، ان انتہائی معاملات کو نہ ہی چھیڑنا بہتر سمجھتی ہے۔ اگر 1984ء کا آرڈیننس آمریت کی پیداوار تھا تو اس کے بعد چھ جمہوری حکومتیں۔۔۔ء1988، 1990ء ، ء1993 ،ء1997، 2008ء اور 2013ء ۔۔۔ قائم ہوئیں ۔ ان کے پاس ان قوانین کومنسوخ کرنے اور معاشرے سے عدم برداشت کے جذبات کو کنٹرول کرنے کے مواقع تھے ، لیکن اُنھوں نے کچھ نہ کیا۔ اب اگلی چھے جمہوری حکومتیں بھی کچھ نہیں کرسکیں گی۔ دو جمہوری حکومتیں تو یوٹیوب پر پابندی کا ہلکا سے پتھر بھی نہ ہٹا سکیں تو پھر یہ مذہبی اشتعال کی اتنی دیوہیکل چٹانوں کو کیسے سرکا پائیں گی؟

یہ چیلنج کون قبول کرے گا؟ تاریخ کا ریکارڈ کو ن درست کرے گا؟ پاکستان کے مخصوص حالات میں صرف مصطفیٰ کمال جیسی کوئی شخصیت جو آئینی اتھارٹی بے شک نہ رکھتی ہو (ہم اپنے آئین کی طاقت دیکھ چکے ہیں) بلکہ فوجی طاقت کے ساتھ وہ فیصلے کر دکھائے جو پاکستانی سیاست دان ایک سو سال میں بھی نہیں کر سکتے۔ اس ضمن میں ضیا دور میں بنائے گئے حدود آرڈیننس پر بھی غور کیا جائے کیونکہ وہ اُس وقت بنائےگئے تھے جب ملک میں آمریت تھی۔ ہو سکتا ہے کہ ان قوانین کا ضیا دور کو کوئی فائدہ پہنچا ہو لیکن ہم تو ان کے جال میں پھنس گئے ۔ ایسا نہیں کہ ان کے نفاذ سے پاکستان کوئی پارسا ریاست بن گئی ۔ کیا نائو نوش سرگرمی اور دنیا کے قدیم ترین پیشے کی جلوہ گری کے لئے یہ سرزمین اجبنی بن چکی ہے؟ کیا لوگ بہتر مسلمان بن گئے ہیں؟ کچھ نہیں ہوا، صرف ہر دو سرگرمیوں کے لئے پولیس کو دی جانے والی رشوت کے نرخ کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

کمال اتاترک نے جس سلطنت ِ عثمانیہ کا خاتمہ کیاوہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود رواداری کی طرف مائل تھی۔ عثمانی خلیفہ نے اپنی طاقت کے دور میں بھی وہ قوانین نہیں بنائے جو ہم نے بنا ڈالے۔ ہم کس طرح کی خلافت قائم کرنے کے لئے کوشاں تھے ؟ پاکستان کے بانیوں نے مذہب کو ایک سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کیا تھا کیونکہ پاکستان کی تخلیق کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا ورنہ وہ روشن خیال افراد تھے۔ اُنھوں نے مغربی تعلیمی اداروں میں علم حاصل کیا اور لبرل نظریات کے حامل تھے۔ ان کے بارے میں گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ روایتی مذہبی ریاست قائم کرنے جا رہے تھے۔ اگر آج حیات ہوں تو عظیم محمد علی جناح کو بہت سی باتوں کی سمجھ ہی نہ آئے جن کے ہم ماہر بن چکے ہیں۔

ہماری سماجی پسماندگی کی چار وجوہات ہیں... امتیازی قوانین، حدود آرڈیننس، ناقص نظام ِ تعلیم اور ذات پات کا نظام۔ اتاترک نے سب سے پہلے القاب ختم کیے تھے۔ پاکستانی ریاست کب تک چوہدری، راجے، ملک، مخدوم وغیرہ جیسی بیڑیوں کو پازیب سمجھتی رہے گی؟ ان دیواروں، بیڑیوں، زنجیروں، کانٹوں، چٹانوں اور اژدھوں کو راستے سے ہٹانے کے بعد مصطفی کمال جیسی شخصیت بے شک واپس چلی جائے اور جمہوریت واپس آ جائے لیکن ان تمام رکاوٹوں کی موجودگی میں جمہوریت کچھ نہیں کر سکتی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.