.

اسرائیل کی ناجائز پیدائش، پس پردہ تاریخی حقائق

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل غزہ کے محبوس فلسطینیوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے، اس نے عالمی برادری میں مسئلہ فلسطین کو سمجھنے کا تجسس تو پیدا کر دیا ہے۔ خصوصاً اس کی نئی نسل میں اسرائیلی بربریت کے جاری برہنہ مظاہرے سے بلند درجے کا یہ تجسس پیدا ہونا بھی قدرتی ہے کہ انسانیت، آزادی، بنیادی انسانی حقوق، حق خود ارادیت اور جغرافیائی سرحدوں کے احترام کے علمبردار امریکہ اور یورپی یونین انسانیت کش اسرائیلی دہشت گردی پر مجرمانہ حد تک کیسے خاموش ہیں بلکہ اسرائیل کی پشت پناہی بھی کیوں کر رہے ہیں؟ حتیٰ کہ حماس کی طرف سے ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مصداق وقفوں سے راکٹ لانچر چلانے کی مذمت کرنے والے بان کی مون کی زبان کو بھی گنگ لگ گیا۔ آخر کیوں؟ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے عالمی برادری کی خاموشی کو جنگی جرم قرار دے دیا ہے۔ مسلمانوں میں جن کا قرآنی مطالعہ بنیادی نوعیت کا بھی ہے، یا وہ ایسے ماحول میں رہے جو دین اسلام کے دشمنوں سے آگاہی کیلئے ذریعہ آگاہی بنا، ان کا تجسس کم درجے کا ہے۔ لیکن سوال انکے ذہن میں بھی اٹھ رہے ہیں غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسکے بعد اب مسئلہ فلسطین ’’عرب اسرائیل تنازعہ ‘‘ ہی نہیں رہ گیا نہ یہ اب فقط دنیائے اسلام کے خلاف گہری صہیونی سازش (قیام اسرائیل) کے پھر واضح کرنے کی ضرورت تک محدود رہے گا۔ مسئلہ فلسطین، امن عالم کا انتہائی سنجیدہ سوال تو چھ عشروں سے بنا ہوا ہے۔

اب اسرائیلی دہشت گرد صہیونی حکومت کی غزہ میں جاری برہنہ بربریت نے اسے انسانی ارتقائی عمل کی بقاء کے سوال میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب تک تو گہری اور شیطانی روپ کی صہیونی سازشوں اور ان کی پشت پناہی کے حقائق کو آشکار کرنا خود امریکہ سمیت کسی کیلئے ممکن ہی نہ تھا۔ اب اسرائیل اور اسکی پشت پناہی پر مجبور طاقتوں کے شیطانی کردار نے خود وہ صورت تشکیل دے دی کہ حقائق بھی آشکار ہوں اور صہیونیوں کی ہزاروں سال سے قائم اپنے باطل کو چھپانے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا بھی چیلنج بن جائے گا تاہم صہیونی جکڑ بندی سے نجات، پوری انسانیت کے لئے ایک کار محال کے طور پر نہ جانے کب اور کیسے ہو گی؟ غزہ پر جدید چنگیزیت کا مظاہرہ، اس سوال کے جواب کی تلاش پر عالمی برادری کا نہیں تو عالم اسلام کا فوکس کرا سکتا ہے۔

فوری تقاضا تو یہ ہے کہ اسرائیل کی ناجائز پیدائش کو عالمی برادری خصوصاً اس کی نئی نسل پر آشکار کیا جائے۔ یہودی عقیدے کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیمؑ (جنہیں مسلمانوں کی طرح وہ بھی اپنا جد امجد مانتے ہیں) کو بشارت دی تھی کہ وہ کنعان (سرزمین فلسطین) میں جا کر آباد ہو جائیں اسی لئے وہ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کو Promised landبھی کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ اور ان کی اولاد کے لئے انہیں کرہ ارض پر عطا کی۔ حضرت عیسیٰ کے 70 سال بعد (تقریباً 1900سال قبل) رومیوں نے یروشلم (بیت المقدس) پر حملے کئے اور یہاں آباد یہودیوں کا ٹمپل (ہیکل سلیمانی) منہدم کر دیا، تاہم اس کی مغربی دیوار برقرار رکھی فلسطین تقریباً ظہور اسلام تک رومیوں کے زیر تسلط رہا۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ آج جس قدیم دیوار گریا کے نیچے کھڑے ہو کر ہل ہل کر وہ توریت پڑھتے ہوئے آہ و زاری کرتے ہیں، وہ ہیکل سلیمانی کی باقیات ہے۔

ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ہیکل سلیمانی میں وہ گولڈن باکس دفن تھا جس میں توریت کا اصلی نسخہ موجود ہے کہ بعد میں بائبل کی طرح یہودیوں نے بھی توریت میں مرضی کی ترامیم کر کے اسے مسخ کر دیا جس سے عیسائیوں کی طرح ان کے بھی دو فرقے قدیم یہودی اور صہیونی (Zionist) قائم ہوئے۔ فلسطین رومیوں کے قبضے میں آیا تو یہودی فلسطین سے نکل کرتتربتر ہو گئے تاہم انہوں نے یہ امید باندھ لی کہ وہ ایک روز واپس اپنی Promised Land کو لوٹیں گے، لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش اور رفع الی اللہ سے ظہور اسلام تک (یعنی تقریباً 600 سال بعد تک) فلسطین میں یہودی اقلیت کم ہی ہوتی گئی، حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے قبل بھی یہودی واضح طور پر اقلیت میں ہی تھے، تاہم عیسائیت کے ظہور پر اُن کی حضرت عیسیٰ ؑ کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں مسیح کا درجہ حاصل کرنے والے اللہ کے نبی کو عیسائی عقیدے کے مطابق صلیب تک پہنچانے میں ان یہودیوں کا کردار بہت واضح ہے، جہاں سے عیسائیت اور یہودیوں کی دشمنی کی بنیاد رکھی گئی، اس کے بعد عیسائیوں نے ہر موقع ملنے پر جو مظالم ان کی آنے والی نسلوں پر توڑے ہیں، وہ ایک الگ اور مصدقہ داستان ہے جس کی خود یہودی اور عیسائی مورخین اور مذہبی رہنما تصدیق کرتے ہیں۔

ظہور اسلام کے بعد خود فلسطینی اور اس کے گرد و نواح سے فلسطین پہنچنے والے جو ہم زبان عرب فلسطین آ رہے تھے، وہ تیزی سے مسلمان ہونا شروع ہو گئے، یہ نئی تبدیلی مسلمانوں اور عیسائیوں میں اختلاف کا باعث بننے لگی اور نوبت صلیبی جنگوں تک پہنچی جس میں آخری فتح صلاح الدین ایوبی کی کمان میں مسلمانوں کو ہوئی۔ واضح رہے کہ ظہور اسلام کے بعد بیت المقدس منجانب اللہ مسلمانوں کا قبلہ اول قرار دیا گیا جہاں سے نبی کریم ﷺ نے معراج کا سفر کیا۔ یوں اس شہر کی حیثیت مسلمانوں کے لئے بے پناہ مقدس ہوئی جبکہ خدا کے باغی اور توریت کو اپنے مطابق ڈھال کر خود ہی دنیا کی سب سے برتر نسل بننے والے یہودی، حضرت عیسیٰ ؑ کو (عیسائی عقیدے کے مطابق) مصلوب کرنے کے بعد رومیوں کے حملے میں تباہ و برباد ہو کر ادھر ادھر بھاگ گئے۔ کبھی سنا نہ موضوع پر محدود مطالعے میں یہ نکتہ زیر مطالعہ آیا تاہم خاکسار کا تحقیقی مفروضہ ہے کہ وہ عیسائی عقائد کی خود سے تشریح کرنے والے عیسائیوں نے لا شریک رب العالمین کے ساتھ شرک (کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ خدا کے بیٹے ہیں) یہودیوں کے اس من گھڑت دعوے کا ردعمل تھا کہ وہ ’’سب سے برتر نسل اور خدا کے سب سے لاڈلے ہیں‘‘ گویا عیسائیت کے موجودہ گمراہ کن عقیدے کے پس پردہ یہودیوں کا گمراہ کن متذکرہ دعویٰ ہے۔

مذہبی سکالرز کو اس موضوع کو عام کرنا چاہئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ کے فلسطین کو فتح کرنے سے لے کر سلطان صلاح الدین کی فیصلہ کن فتح عظیم تک اور اس کے بعد فلسطین پر مسلمانوں کا کنٹرول قائم رہنے تک، اسلامی تعلیمات کے مطابق عیسائیوں اور یہودیوں سے بہترین سلوک کیا گیا اور انہیں اپنے عقائد پر قائم رہنے کی آزادی رہی۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ترک مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل سپین میں مسلمانوں کا 800 سالہ دور آج بھی یہودی مورخین محققین اور مذہبی اسکالروں کی متفقہ رائے کے مطابق یہودیوں کی 4000 سالہ تاریخ کا سب سے سنہری دور رہے، جس میں انہیں مذہب سمیت ہر طرح کی آزادی اور تحفظ حاصل ہوا وگرنہ وہ ہر دور میں اور ہر جگہ غیر محفوظ اور دبے ہوئے ہی رہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.