.

دو مبینہ انقلابوں کی خوشخبری

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے گرد و پیش کی اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں جو ہنگامہ برپا ہے اور جس کے کئی منظر دیکھ کر مسلمان ہی نہیں اقوام متحدہ کے غیر مسلم نمائندے بھی بر سر عام رو دیے ہیں معلوم ہوتا ہے ہمارے لیڈروں یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیڈروں کو اس کا علم نہیں ہے اور وہ اسی بے خبری میں اپنے ملک کو کسی انقلاب کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایک دھمکی تو آج ہی جاری ہو جائے گی اور اس کالم کی اشاعت گویا کسی انقلاب کی فضا میں ہو گی اور یوں ’’تاریخی‘‘ بن جائے گی۔

ہمارے لیڈر نے انقلابی جذبات سے بے قابو ہو کر اتوار کے دن کی تاریخ دے دی ہے۔ اب اس یوم انقلاب کو کیا ہو گا یعنی کیا ہنگامہ ہائے ہو برپا ہو گا اس کا میں اندازہ تو کر سکتا ہوں مگر اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ کسی صاحب کشف کی زیارت ہو تو اس سے پوچھ لیں مگر اسے کیوں زحمت دیں جب یہ سب کچھ ہمارے سامنے بصورت کسی اعلان کے موجود ہو گا۔ دلچسپ صورت حال حکمرانوں کی ہے جو ایک طرف ان انقلابی دھمکیوں کو بے اثر ثابت کرنے کے اعلان کر رہے ہیں دوسری طرف ان مبینہ انقلابیوں سے بات چیت بھی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ فی الوقت اس انقلاب سے باز آ جائیں اور الیکشن تک صبر کر لیں۔

اگر صبر کا اتنا یارا نہیں ہے تو کچھ دن کے لیے رک جائیں تا کہ بعض ترقیاتی منصوبے مکمل ہو جائیں اور عوام کی آنکھیں مزید کھل جائیں۔ فی الحال تو ان سڑکاتی منصوبوں کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جب بارش ہو رہی تھی اور موٹرسائیکل والے کھلی بارش میں تھے تو وہ بھاگ کر سڑکوں کے ان حصوں میں پناہ گزیں ہو گئے جو زیر زمین بنائے گئے تھے اور براہ راست بارش کی زد سے محفوظ تھے۔ یہ کوئی ان زیر زمیں راستوں میں پناہ لینے والوں سے پوچھے کہ وہ پناہ کی جگہ ملنے پر کتنے خوش و خرم ہوئے۔

موٹرسائیکل ایک ایسی مفید مگر نامراد سواری ہے کہ نہ بارش کی نہ دھوپ کی اور نہ سردی کی نہ گرمی کی ایک کھلی سواری جو ہر موسم کے سامنے سینہ تان کر چلتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں نے سمندر کے پانی کی طرح موٹرسائیکل کو بھی تفریح کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے جو ایک پہئے پر جب چلتا ہے تو سوار کو بڑا مزا آتا ہے لیکن ذرا سی رکاوٹ پر جب وہ بے سہارا ہو کر گرتا ہے تو اس کے گھر والوں کو بھی بڑا مزا آتا ہے۔ بہر کیف سڑکوں کے انڈر پاس کا ایک مفید پہلو بارش نے واضح کر دیا ہے اگرچہ موٹر سائیکل والوں نے ٹریفک روکی لیکن چند گھڑیاں جو بارش سے بچ کر گزر گئیں کم راحت فزا نہیں تھیں۔

بات تو ہمارے بعض پرجوش لیڈروں کی دھمکیوں کی ہو رہی تھی۔ قادری صاحب ابھی تک اپنے انقلاب کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں جو ان کے اعلان کے مطابق اب تک برملا ہو چکا ہو گا اور قوم اس آنے والے انقلاب کی خوبیوں پر قیاس آرائیاں کر رہی ہو گی اور ان سے بہرہ مند ہونے کی امیدوں میں ہو گی۔ اللہ کرے قادری صاحب کا انقلاب قوم کی امنگوں کے مطابق ہو ورنہ قومی مایوسی بڑی ہی خطرناک ہوتی ہے نہ صرف قوم کے لیے بلکہ اس لیڈر کے لیے بھی جو قوم کو مایوسی سے دوچار کرتا ہے۔

اس قوم کے ساتھ کیا وعدہ ہے جو نہیں کیا گیا۔ گزشتہ 66 برسوں میں وعدے ہی کیے جاتے رہے ہیں لیکن صد افسوس کہ ہمارے لیڈروں نے اپنے ان وعدوں کی پروا نہیں کی۔ قائد اعظم علیہ الرحمتہ کی جیب کے، ان کے بقول، کھوٹے سکوں کی اولاد نے ملک پر قبضہ کر لیا جو اشرافیہ کہلاتے اور میری گستاخی کہ میں نے انھیں اشرافیہ کی جگہ بدمعاشیہ لکھا کیونکہ شریف کا متضاد بدمعاش ہوتا ہے۔

یہ زبان کی غلطی بھی نہیں تھی لیکن اسے بڑی گستاخی سمجھا گیا اور مجھ سے کئی اشرافیہ ناراض ہو گئے جن کی خوشنودی کی مجھے ہمیشہ خواہش رہی۔ میں نے یقین دلایا کہ میں بھی ایک چھوٹے سے اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہوں اور مجھ سے ناراض نہ ہوں لیکن اشرافیہ میں بھی چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ بات لیڈروں کے وعدوں کی ہو رہی تھی جو اب وعدہ نہیں انقلاب کہلا رہے ہیں۔ اگر ہمارے یہ انقلاب بھی ناکام ہو گئے تو پھر ہم کہاں جائیں گے۔

مجھے کسی حد تک ایک انقلابی عمران خان سے کچھ توقع ہے جو کسی انقلاب کے لیے سینے پر گولی کھانے پر بھی تیار ہیں۔ ہماری کرکٹ کی بے حد شوقین حکومت عمران خان کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گی لیکن یہ قادری صاحب سے تو اتنی پریشان نہیں عمران خان سے پریشان ہے جب کہ میں جو عمران خان کا پڑوسی ہوں، یعنی اس سے متصل ضلع خوشاب کا، یہ جانتا ہوں کہ عمران خان کو خلوص اور شرافت سے کسی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔

ویسے ہمارے ہاں ٹرانسپوٹروں میں جن کی تعداد بہت بڑی ہے ایک کہاوت مشہور ہوئی ہے کہ کھوڑہ (یعنی میرا گاؤں) کے اعوان، جرنیل کے ٹائر اور میانوالی کے نیازی پر اعتبار نہ کرو۔ عمران خان تو اپنے نام کے ساتھ بہت کم نیازی لکھتا ہے لیکن اس سے انکار بھی نہیں کرتا۔ بہرحال ان کہاوتوں کو چھوڑیں، اگر عمران خان کا انقلاب جس کے لیے وہ بہت ہی سنجیدہ ہے اگر شروع ہو جاتا ہے تو میرا خیال ہے یہ قوم کے ساتھ دھوکا نہیں ہو گا۔ عمران کی زندگی بڑی حد تک کامیابی کی زندگی ہے۔ اس کی وجہ سے میانوالی میں دوسری بار اقتدار آجائے گا۔ نواب امیر محمد خان کے بعد لیکن کیا یہ نواب صاحب والا انقلاب ہو گا یا کسی جدید ذہن کے روشن خیال کا انقلاب۔ آیئے سب انتظار کرتے ہیں جو 14 اگست کو سامنے آئے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.