یہ جنگ اسرائیل کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے

مولانا اسرارالحق قاسمی
مولانا اسرارالحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسرائیل نے غزہ پر درندگی اور وحشت کی انتہا کر رکھی ہے۔ 8 جولائی سے اس فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے دوران 1800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد کمسن بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی ہے۔ شہری آبادی، اسکولوں، کالجوں ، مریضوں، ہسپتالوںم ڈسپنسریوں حتیٰ کہ ایمبولنسوں اور فلاحی اداروں کے امدادی کارکنوں پر اندھا دھند گولہ باری کر کے ہزاروں فلسطینیوں کو لہو میں نہلا دیا گیا ہے۔ ٹی وی خبروں میں آگ کے لپکتے خوفناک شعلوں اور کثیف دھوئیں کے آسمان کو چھوتے مرغولوں کے بیچ غزہ کی پٹی کے مکانوں کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل ہونے کے خوفناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والی کم عمر بچوں کی مسخ لاشیں کسی بھی انسان کی راتوں کی نیند اڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔ غزہ کے ہسپتال میں مامور ناروے کے ایک سرجن نے اسپتال پہنچنے والے زخمی بچوں، عورتوں اور ضعیفوں کی دلخرش تصویر کشی کرتے ہوئ امریکی صدر اوباما کے نام جو مراسلہ تحریر کیا ہے، اس سے امریکی اور اسرائیلی حکمران تو ٹس سے مس نہیں ہوئے البتہ س مراسلے نے پوری دنیا کے دردمند انسانوں کو دل و دماغ کو ضرور جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ الشفا میڈیکل کمپلیکس کے سرجن نے اس امید اور یقین کے ساتھ اوباما کو ہسپتال آ کر ایک شب گزارنے کی استدعا کی تھی کہ وہ بچشم خود اسرائیلی درندگی کا مشاہدہ کریں کے تو شاید ان کا قلب تبدیل ہو جائے اور وہ اسرائیل کو مزید خاک و خون کی ہولی کھیلنے سے یکسر روک دیں گے۔ لیکن یہ خط بھی صورتحال تبدیل نہ کر سکا اور رائیگاں گیا۔ بلکہ حالات بد سے بد تر ہوتے گئے۔

اسرائیل نے نہ غزہ پر اپنے تازہ حملے میں ایسا بارود اور کیمیکل بھی استعمال کیا ہے جس سے فلسطینی بچے پگھل گئے ہیں۔ کیمیائی ہتھیار اور فاسفورس بم بھی استعمال کئے ہیں۔ گمنام مقامات پر شہید ہونے والے فلسطینی شہدا کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ۔ ظلم و جبر میں شدت لانے کے لیے نئے نئے طریقے عمل میں لائے جا رہے ہیں لیکن اسرائیلی درندوں کی نگاہ میں یہ نا کافی ہے۔

ایک اسرائیلی دانشور نے فلسطینی عوام کو سبق سکھانے کے لیے صرف بمباری کو نا کافی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی یونیورسٹی بار ایلان میں عربی زبان کے صہیونی استاد مرد خانی قادر نے اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ جبری زیادتی کا حربہ تجویز کیا ہے۔ اس شیطان دماغ پروفیسر نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ عرب ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کے پاس فلسطینیوں سے نمٹنے کے لیے چند متبادل رہ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسرائیلی فوجی فلسطینی خواتین کے ساتھ جبری زنا کا حربہ تجویز کیا ہے۔ اس شیطان دماغ پروفیسر نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ عرب ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کے پاس فلسطینیوں سے نمٹنے کے لیے چند متبادل رہ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسرائیلی فوجی فلسطینی خواتین کے ساتھ جبری زنا کا ارتکاب کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بد بخت استاد کی یہ شرمناک تجویز آنے کے بعد کسی مغربی ملک نے ابھی تک منفی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی خواتین کے حقوق کے لیے پریشان رہنے والی تنظیموں نے کوئی آواز اٹھائی۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمزور ، نہتے ، محصور اور بے بس فلسطینی عوام کے خلاف طاقتور اسرائیل کی مذکورہ جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں کیا حماس کے حوصلے پست ہو گئے ہیں؟ یا کیا اسرائیل غزہ کی سرزمین پر اسرائیلی بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی لاشیں بچھا کر فتح کے احساس سے سرشار ہو رہا ہے؟ اب تو یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اس جنگ میں جیت کس کی ہو رہی ہے اسرائیل کی یا حماس کی؟

غزہ کی پٹی میں اسرائیل جنگی جنون کے نتیجے میں اب تک جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس کے مقابلے میں حماس کے راکٹوں سے اسرائیل کا جو جانی و مالی خسارہ ہوا ہے، وہ تقریبا صفر کے برابر ہے کیونکہ اسرائیل اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر حماس کے داغے گئے راکٹ کو فضا میں ہی تباہ کر دیتا رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جیت محض کھوکھلی ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کا جو نقصان ہوا ہے، اس کی بھر پائی ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ سماجی، سفارتی، اقتصادی ہر لحاظ سے اسرائیل کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پوری دنیا نے ایک بار پھر یہ احساس کیا ہے کہ اسرائیل ایک ظالم ، جارح ، شدت پسند ریاست ہے جو نہ تو عالمی برادری کی اپیلوں کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے منشور کو۔ پوری دنیا اسرائیل کے جنگی جرائم سے آگاہ ہو چکی ہے۔ روئے زمین پر مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک شاید ہی کوئی اہم ملک ہو گا جہاں کے انصاف پسند لوگ اسرائیل کے درندگی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے سڑکوں پر نہ اترے ہوں۔ ہر بڑے ملک اور ہر بڑے شہر میں اسرائیل مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور پوری دنیا کی نگاہ میں اس کی امیج ایک درندہ صفت ملک ک بطور قائم ہو چکی ہے۔ یہ اسرائیل کا ایک بڑا نقصان ہے۔

اس جنگ میں اسرائیل نے اپنی پوری قوت جھونک رکھی ہے۔ پہلے اس نے صرف ہوائی حملے کئے ، پھر زمینی حملے شروع کر دئے اور حماس کی کمر توڑنے کے لیے کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہیں کیا۔ لیکن حماس کی کمر نہیں ٹوٹی۔ آج اسرائیل یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ حماس ''ایک مضبوط دشمن" بن چکا ہے۔

حماس کے مزاحمت کاروں نے پچھلی تمام لڑائیوں کے مقابلے میں اسرائیلی فوج کو اس تنازعہ میں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ سرنگوں کا استعمال کرتے ہوئے حماس نے اب تک 32 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا جو کہ گزشتہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ اسرائیلی فوج کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ حماس کے جنگجو تربیت یافتہ ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ واضح ہو کہ اسرائیل نے حماس کو نیست و نابود کرنے کے بنیادی مقصد سے ہی اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مقصد پورا نہیں ہوا ہے اور نہ پورا ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اسے اسرائیل کی شکست اور حماس کی جیت سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔

جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل حماس کے داغر راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کر دینے کے دفاعی نظام سے لیس ہے لیکن یہ نظام ایک راکٹ کو روکنے میں ناکام رہا اور وہ تل ابیب کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے ایک میل کی دوری پر واقع ایک قصبہ میں گرا اور ایک مکان کو ملبہ میں تبدیل کر گیا۔ اس واقعہ سے امریکہ اور یورپ میں اس قدر خوف و ہراس پھیل گیا کہ ان ملکوں نے تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں بند کر دیں۔ اسرائیل نے بہت دہائیاں دیں لیکن امریکہ و یورپ نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر حماس کا راکٹ ہوائی اڈہ سے ایک میل کی دوری پر گر کر تباہی مچا سکتا ہے تو ہوائی اڈے کو محفوظ کیوں کر مانا جائے؟ یہ فیصلہ اسرائیل پر ایک بڑی اقتصادی چوٹ کی مانند تھا جس سے اس کی سیاحت کی صنعت متاثر ہوتی ہے۔

یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ امریکہ کے وفاقی ہوابازی ایڈمنسٹریشن نے جیسے ہی امریکی ایئر لائنز پر اسرائیل پرواز کرنے کی 24 گھنٹوں کے لیے پابندی لگائی، نیو یارک شہر کے سابق میئر مائیکل بلوم برگ پوری دنیا کو حہ باور کرانے کے یے کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں ہے، ایک اسرائیلی ایئر لائنز کی فلائٹ سے پرواز کر کے تل ابیب کے لیے پرواز کر گئے۔ یہ واقعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ میں اسرائیلی کس قدر سرگرم اور متحرک ہے۔ بلوم برگ کی پرواز کا یہ اثر ہوا کہ امریکہ نے 24 گھنٹے کی پابندی میں کوئی توسیع نہیں کی جبکہ یورپ کی طرف سے یہ پابندی برقرار رہی۔
(مضمون نگار ممبر پارلیمنٹ اور تعلیمی و ملی فائونڈیشن کے صدر ہیں)

بہ شکریہ روزنامہ "راشٹریہ سحارا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size