ایردوان کے مقابل دس جماعتوں کا اتحاد

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ترکی میں چند روز بعد یعنی 10 اگست کو ملکی تاریخ میں پہلی بار براہ راست طور پر صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل ترکی میں ہمیشہ ہی پارلیمنٹ کے توسط سے صدر کا چناؤ ہوتا رہا ہے اور اس بالواسطہ انتخاب میں ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے اور صرف فوج کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے صدر کو منتخب کیا جاتا رہا ہے۔ ترکی میں اگرچہ اس وقت پارلیمانی نظام رائج ہے لیکن اس نظام میں بھی صدر کو صرف پروٹوکول کے لحاظ ہی سے برتری حاصل نہیں بلکہ صدر کو پارلیمنٹ کے منظور کردہ بلوں کو ویٹو کرنے اور کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرنے کا بھی حق حاصل ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ مو جودہ صدر عبداللہ گل جن کا تعلق جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی ) سے ہے نے صرف چند ایک بلوں میں ترامیم کے سوا کسی بل کو ویٹو نہیں کیا ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی ہے لیکن رجب طیب ایردوان اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران صدر منتخب ہونے کی صورت میں آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں جس پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے شور مچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایردوان تو صدر منتخب ہونے کی صورت میں آئین میں ترامیم کرواتے ہوئے فرانسیسی طرز کے صدارتی نظام کو متعارف کروانے کا بھی برملا اظہار کر چکے ہیں جس پر ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مرحوم نجم الدین ایربکان کی جماعت سعادت پارٹی جس کے بطن سے آق پارٹی نے جنم لیا تھا نے کھلے عام اس بار ایردوان کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے کارکنوں کو ایردوان کو ووٹ نہ دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

ترکی کی سیاست میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی اور سیاسی لحاظ سے ایک دوسرے سے بلکل متضاد نظریات رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں ایردوان کے خلاف اکٹھی ہوچکی ہیں۔ ان جماعتوں میں بائیں بازو کی کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں سے لے کر دائیں بازو کی قوم پرست اور مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ان تمام جماعتوں کا اتحاد کسی مقصد، کسی ہدف، نصب العین، استحکام، ترقی، بھائی چارے، محبت یا پھر احترام پر مبنی نہیں ہے کیونکہ یہ تمام جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے سے برسر پیکار رہی ہیں اور ملک میں مارشل لا لگانے کی وجہ بھی بنتی رہی ہیں۔بائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی( اگرچہ اس جماعت پر کئی بار پابندی بھی لگائی گئی لیکن ہر بار نئے نام سے ابھر کر سامنے آگئی) اور بائیں بازو کی ری پبلکن پیپلز پارٹی ( اس جماعت کو بھی کئی بار کالعدم قرا دیا گیا لیکن اس جماعت نے بھی ہر بار اپنا نام تبدیل کرلیا) کے درمیان ہونے والی لڑائیوںاور قتل و غارت کی وجہ سے ملک افراتفری کا نشانہ بنتا رہا جس کا فائدہ اٹھا کر فوج اقتدار پر قبضہ کرتی رہی لیکن اب یہ دونوں جماعتیں اپنے ماضی کے ان داغ اور دھبوں کو بھلا کر ایردوان کے خلاف صرف بغض کی بنا میں یکجا ہو ئی ہیں۔

ان تمام سیاسی جماعتوں نے جس امیدوار کو مشترکہ طور پر کھڑا کیا ہے اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں ۔سب سے دلچسپ تبصرہ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے بارے میں کچھ یوں ہے کہ اس جماعت نے سیکولرازم سے طلاق حاصل کرتے ہوئے ایک مذہبی شخصیت سے عارضی نکاح کر لیا ہے اور جب تک یہ تعلق قائم ہے ری پبلکن پیپلز پارٹی ایک اسلامی پارٹی ہونے کا تاثر قائم رکھے گی۔ اس جماعت نے ایسا ڈھونگ کیوں رچایا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ اس جماعت کا ووٹ بینک صرف پچیس سے تیس فیصد تک محدود ہونا ہے اور ملک میں اس جماعت کو اپنی پرانی طرز کی سیاست جاری رکھنے کی صورت میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے ۔ اس لئے یہ جماعت اپنی عافیت اسی میں سمجھتی ہے کہ اس بار وہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچا لے۔ ( اس قسم کا طریقہ کار عصمت انونو نے بھی اپنے دور میں عدنان میندریس سے شکست سے بچنے کے لئے اختیار کیا تھا اور انہوں نے عدنان میندریس کے خلاف اپنی جماعت سے ایک مذہبی شخصیت کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار کھڑا کرتے ہوئے کیا تھا اور ان کو منہ کی کھانا پڑی تھی ) اس بار پھر ری پبلکن پیپلز پارٹی نے ساٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد ایک مذہبی شخصیت کو صدارتی امیدوار کے طور پر ایردوان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ری پبلکن پیپلز پارٹی اگر کسی فرشتہ صفت امیدوار کو بھی مذہب کے نام پر کھڑا دے تو عوام کسی بھی صورت اس جھانسے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ جماعت اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے ایسے حربے کو استعمال کر رہی ہے۔

یہ صدارتی انتخابات ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے چئیرمین کمال کلیچدار اولو کی قسمت کا تعین کرنے کے لحاظ سے بھی آخری موقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان صدارتی انتخابات میں اکمل الدین احسان اولو کی شکست کی صورت میں کمال کلیچدار اولو کو چئیر مین کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دے گی۔ کم و بیش اسی قسم کی پالیسی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے اپنا رکھی ہے۔ اس جماعت نے پارلیمنٹ میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز مرال آقشنر جن کو پارلیمنٹ میں اپنی کارکردگی کی بنا پر ترکی بھر میں بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں بائیں بازو کی جماعتیں بھی مرال آقشنر سے متعلق نرم گوشہ رکھتی ہیں لیکن نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے چئیر مین دولت باہچے لی نے صرف اپنی پارٹی پوزیشن متاثر ہونے کی وجہ سے ان کو امیدوار کھڑا نہ کیا حالانکہ اگر مرال آقشنر کو صدارتی امیدوار کھڑا کر دیا جاتا تو ایردوان کے لئے کچھ حد تک ہی سہی مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں کے رہنماوں کو اپنی اپنی کرسیاں زیادہ عزیز ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ان پالیسیوں نے عوام کے سامنے ان کی توقیر ختم کر کے رکھ دی ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے علاوہ دیگر آٹھ جماعتوں نے بھی اگرچہ اکمل الدین کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ان آٹھ سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے جو ایک فیصد کے لگ بھگ ہے۔ حزب اختلاف کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اکمل الدین احسان اولو کو اپنا امیدوار کھڑا کرکے اس قسم کا رویہ اپنا رکھا ہے جیسے انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریوں کو سرانجام دے دیا ہو حالانکہ ان جماعتوں نے اکمل الدین احسان اولو کے لئے صدارتی مہم کے دوران کسی قابلِ ذکر جلسے کا اہتمام ہی نہیں کیا ہے بلکہ وہ چھوٹے چھوٹے جلسوں پر اکتفا کر رہی ہیں جس سے ان کی کامیابی کی تمام امیدیں دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اگر ان کو تیس فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل ہو گئے تو یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی۔ ان انتخابات کی سب سے اہم بات پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار صلاج الدین دیمر تاش کی صدارتی مہم ہے۔ انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران کہیں اپنے آپ کو کردوں کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے اور ترک باشندوں کی بھی کچھ حد تک حمایت حاصل کرتے ہوئے صرف کردوں کی حمایت یافتہ پارٹی کے لیبل کو مٹانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دیمر تاش کو اگر صدارتی انتخابات میں آٹھ سے دس فیصد کے قریب ووٹ پڑ جاتے ہیں تو یہ بھی ان کی کامیابی گنی جائے گی۔ اگر ایردوان پہلے راونڈ میں مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو دوسرے راونڈ میں دیمر تاش کو کلیدی حیثیت حاصل ہو جائے گی جس سے ان کو سودے بازی کرنے میں فائدہ حاصل ہو جائے گا۔

ترکی کی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے اور حالیہ جائزوں پر نظر ڈالنےکے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ رجب طیب ایردوان پہلے ہی راونڈ میں چون سے چھپن فیصد تک ووٹ حاصل کرتے ہوئے صدر منتخب ہو جائیں گے ۔ استنبول میں منعقد ہونے والے جلسے میں جس میں دو ملین سے زائد افراد نے شرکت کی نے ایردوان کی کامیابی کی مہر ثبت کردی ہے۔ آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ٹی آر ٹی کی اُردو سروس کے ایک رکن ہونے کے ناتے اپنی ویب سائٹ کو ہم روزنامہ جنگ (جس کا کالم نگار ہوں) اور جیو ٹی وی (جس کا نمائندہ ہوں) کے لئے کھول رہے ہیں تاکہ اس ویب سائٹ www.trt.net.tr/urdu سے ترکی کے صدارتی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کو براہ راست حاصل کیا جا سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size