غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
ڈاکٹر ملیحہ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

غزہ میں جاری اسرائیل کی بہیمانہ جنگ کے نتیجے میں 1800 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے اور 7 ہزار سے زائد زخمی ہیں جب کہ شہداء کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے حملوں میں اسپتال، اسکول، مساجد، گھر، اپارٹمنٹ بلاکس اور حتی کہ اقوام متحدہ کی عارضی پناہ گاہیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ اسرائیل نے اپنے فضائی، زمینی اور بحری حملوں میں ٹینک، بحری جہازوں کی گولہ باری، لڑاکا طیارے اور ڈرون میزائل سب کچھ استعمال کر ڈالا۔ اس آگ کا دہانہ ایک چھوٹی سی کثیف آبادی والی علاقائی پٹی پر کھولا گیا ہے جس کا رقبہ بمشکل 140 مربع میل ہے اور جسے اسرائیل کے 7سال سے جاری محاصرے کے بعد سے ایک کھلی جیل قرار دیا جاتا ہے۔ 6 جولائی کو جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی ہے ٹیلی ویژن اسکرین پر موت اور تباہی کے ہولناک، لرزہ خیز مناظر نظر آرہے ہیں۔ پورے پورے فلسطینی خاندانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، بچوں کو شہید یا اپاہج بنا دیا گیا.

عمارتیں ڈھادی گئیں اور لاکھوں بے بس اور لاچار لوگوں کو پناہ کی تلاش میں ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ لیکن یہ سب بھی عالمی برادری کو جھنجھوڑنے اور فوری کارروائی پر آمادہ کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کوئی ہنگامی اجلاس نہیں بلایا گیا۔ اس سانحے کو روکنے کی طاقت رکھنے والی بڑی طاقتوں نے بھی اس خونریزی کو روکنے کے لئے کوئی فیصلہ کن مداخلت نہیں کی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جنگ بندی کیلئے کی جانے والی شٹل سفارت کاری کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔ 26 جولائی کو لڑائی میں 12 گھنٹے کے انسانی وقفے کے بعد خوفناک اسرائیلی بمباری کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیا۔ اس کا مطلب ہے ابھی مزید خون بہے گا۔عرب حکمرانوں کے کمزور رد عمل سے بھی اسرائیل کا حوصلہ بڑھا اور خونریزی کو رکوانے کی کوششیں بیکار ہوئیں۔ بدلتی ہوئی علاقائی سیاست بھی اسرائیل کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی، محض اس لئے نہیں کہ وسیع تر مشرق وسطیٰ میں بحران بپا ہے اور آئی ایس آئی ایس کے عروج کے خدشات لاحق ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ مصر جیسے ممالک حماس کو اخوان المسلمون کے پہلو سے دیکھتے ہیں۔ مزید برآں، شام کی خانہ جنگی نے بھی حماس اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ کردئیے ہیں۔دریں اثناء، بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں پر بین الاقوامی تشویش کی ظاہری لہر اب تک اسرائیل کو روکنے کی کوششوں میں تبدیل نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کی بجائے مغرب کی جانب سے اسرائیل کے حق دفاع اور حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے اس کے آپریشن کی غیرمشروط حمایت نے اسرائیل کو اپنے مہلک حملوں کو مزید بڑھانے کا حوصلہ دیا ہے۔

مغربی رہنما فلسطینیوں کی شہادتوں کی ایک بے تکی منطق بھی بیان کرتے پھر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، لہٰذا اس جانی نقصان کو روکنے کی ذمہ داری حماس کی ہے اسرائیل کی نہیں۔ یہی بات اوباما نے امریکی مسلمانوں کے اعزاز میں دئیے جانے والے اپنے حالیہ افطار ڈنر میں بھی دہرائی جہاں انہوں نے’’ حماس کے ناقابل معافی حملوں کے خلاف اسرائیل کے حق دفاع کی امریکی حمایت‘‘ کے عزم کا اعادہ کیا۔کئی مغربی ترجمانوں نے طوطے کی طرح تل ابیب کا پڑھایا گیا سبق رٹا ہوا ہے کہ اسرائیل بمباری شروع کرنے سے قبل غزہ کے رہائشیوں کو انخلاء کی ہدایت کررہا تھا۔ لیکن چاروں طرف سے محاصرے کا شکار ساحلی پٹی کے وہ لوگ آخر کہاں جاتے جب تمام سرحدی گزرگاہوں کو ہی بند کردیا گیا تھا؟

24 جولائی کو اقوام متحدہ کے اسکول، جہاں سیکڑوں شہریوں نے پناہ لی ہوئی تھی، پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی تصویری تفصیلات نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے پیشگی وارننگ دینے کے تمام دعوے جھوٹے ثابت کردئیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج سے کئی اپیلیں کی گئیں کہ شہریوں کو اسکول سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی جائے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں متعدد لوگ شہید ہوئے۔غزہ پر اسرائیلی موقف کی سب سے ٹھوس مذمت خاتون فلسطینی رہنما حنان عشراوی نے، یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے 22 جولائی کو اخذ کردہ نتیجے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اسرائیل کو مظلوم بنا کر پیش کررہی ہے کہ وہ حماس اور جنگجو تنظیموں کی جانب سے داغے جانے والے اندھا دھند راکٹ حملوں کا جواب دے رہا ہے جس سے سویلین کو براہ راست نقصان ہو رہا ہے جب کہ درحقیقت اسرائیل کی تازہ ترین فوجی کارروائی ایک قیدی آبادی کے خلاف اس کی خونریزی کے پرانے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا بمباری سے سیکڑوں کی تعداد میں مارے جانے والے اور ہزاروں کی تعداد میں بےگھر ہونے والے لوگ اسرائیلی نہیں فلسطینی ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین کو اسرائیل کی غیر انسانی زبان بولنے پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو غزہ کی شہری آبادی کا انسانی ڈھال کے طور پر تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں خود ہی اپنی موت کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔

زیادہ تر مغربی میڈیا غزہ کی کوریج کے دوران اسرائیل کے جھوٹے موقف کو ہی اجاگر کر رہا ہے اور اسی پر توجہ دے رہا ہے کہ حماس کے راکٹ حملوں نے اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے لہٰذا تل ابیب شہری آپریشن کرنے میں حق بجانب ہے۔ لیکن جب فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی شہادتوں اور پورے پورے علاقوں کی تباہی کو چھپانا یا اس کا انکار کرنا بہت مشکل ہو گیا تو چند مغربی اخبارات نے شہری ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں بحث کو الجھانے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر نیویارک ٹائمز کے ایک نمائندے نے لکھا کہ ’’ شہری جنگ کے ایک الجھے ہوئے اور بیشتر سفاکانہ حساب کتاب میں کبھی کوئی چیز اتنی واضح نہیں ہوئی‘‘۔ کیا چیز واضح ہونے سے رہ گئی جب اعداد و شمار خود ہی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں؟ 1500 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جب کہ اسرائیل کے 3 شہری اور 37فوجی ہلاک ہوئے۔ کیا یہ اعداد و شمار خود ہی وضاحت نہیں کرتے؟

متعصب مغربی میڈیا کی کوریج میں کچھ چیزیں نمایاں طور پر مختلف بھی رہیں لیکن وہ اکا دکا ہی تھیں۔ مثلاً، کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں یا اس پر سوالات نہیں اٹھائے گئے کہ درحقیقت کیا اسرائیلی کارروائی اس کی داہیہ ڈاکٹرائن پر عمل درآمد تو نہیں۔ اس نظریے کا نام بیروت کے ایک مضافاتی علاقے داہیہ کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں اس پر پہلی بار عملدرآمد کیا گیا۔ اس نظرئیے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جان بوجھ کر سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے تاکہ ایک طرح کا انتشار پیدا ہو جائے جو عوام کو حماس یا حزب اللہ کے خلاف کردے۔ جیسا کہ غزہ میں ہو رہا ہے۔ اکتوبر ء2008 میں ایک اعلیٰ اسرائیلی جنرل نے اس ڈاکٹرائن کو اس طرح بیان کیا: ء2006 میں بیروت کے علاقے داہیہ میں جو کچھ ہوا ، وہ ہر اس گاؤں میں ہوگا جہاں سے اسرائیل پر گولیاں چلائی جائیں گی۔ ہم اس کے خلاف بے انتہا قوت استعمال کریں گے اور وہاں شدید ہلاکت اور تباہی مچادیں گے۔ ہمارے نقطہ نظر کے مطابق یہ شہری آبادیاں نہیں بلکہ فوجی اڈے ہیں۔ (20 جولائی کے سیز فائر میگزین میں شائع شدہ مضمون سے اقتباس )

2009ء کے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بھی اس ڈاکٹرائن کا تذکرہ کیا۔ لیکن اسے غزہ کے بحران پر جاری بین الاقوامی بحث میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اور اس کی وجہ سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اسرائیل کے حمایتیوں اور زیادہ تر مغربی میڈیا کے لئے یہ ایک تکلیف دہ سچ ہے جسے چھوڑ دینا ہی اچھا ہے۔اس سے موجودہ بحران کا ایک اور تکلیف دہ پہلو سامنے آتا ہے جس کا مغربی حکومتوں کو سامنا کرنا پڑا یعنی غزہ پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا حالیہ اجلاس۔

وہاں جو کچھ ہوا اس نے نہ صرف بین الاقوامی قانون کے ان اصولوں پر مغربی منافقت کو ننگا کردیا جن کا وہ دوسروں کو درس دیتے پھرتے ہیں، بلکہ اس امر کو بھی بے نقاب کردیا کہ امریکہ اور یورپی ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے سے روکنے کے لئے کس حد تک جانے پر تیار رہتے ہیں۔پہلے تو، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنیوا میں 47 رکنی کونسل کے خصوصی اجلاس کا انعقاد روکنے کی کوشش کی۔ اس طرح کے اجلاس اس وقت منعقد ہوتے ہیں جب انسانی حقوق کی ہنگامی صورت حال درپیش ہو اور اجلاس بلانے کے لئے ایک تہائی اراکین کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ اس کام کے لئے جنیوا میں اوآئی سی گروپ کے رابطہ کار کی حیثیت سے پاکستان نے عرب، افریقی اور لاطینی امریکی کے ممالک کی حمایت اکٹھی کرنے میں مدد کی۔ اس کے برعکس امریکہ کی زیر قیادت مغربی گروپ نے چھوٹے افریقی ممالک پر اجلاس کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ لیکن جب ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو اسرائیل نواز این جی اوز کے ذریعے تاخیری حربے اپنائے گئے۔لیکن جب یہ واضح ہوگیا کہ اسرائیل کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی قرارداد منظور ہوجائے گی تو امریکیوں نے قرارداد کو ناکام بنانے کی اپنی آخری کوشش بھی کر ڈالی لیکن اس میں بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی۔کونسل میں ووٹنگ ہوئی اور قرارداد منظور ہوئی جس میں کونسل کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی تمام تر خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرانے کا اختیار دیا گیا۔قرارداد کے خلاف صرف ایک ووٹ ڈالا گیا جو انسانی حقوق کے ’فروغ کے سب سے بڑے دعوے دار امریکہ کا تھا۔

کسی بھی یورپی ملک نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا۔ چین اور روس نے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ووٹ ڈالا۔ جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر ناوی پلے نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا ردعمل توقع کے برخلاف نہ تھا۔ اس نے انسانی حقوق کونسل کی تحقیقات کو مذاق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کا ملک اس سلسلے میں کوئی تعاون نہیں کرے گا۔ اس پیش رفت کی چاہے کتنی ہی سفارتی اہمیت کیوں نہ ہو، یقیناً یہ مقبوضہ غزہ میں جاری خونریزی کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کر سکے گی۔ تازہ خونریزی فلسطین کے المیے کا محض ایک نیا باب ہے۔ ایک ایسا المیہ جو مسئلے کے غیر جانبدارانہ تصفیے کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کے دیرینہ انکار کی وجہ سے پیدا ہوا ۔ یہ تصفیہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مبنی ہے اور دو ریاستی حل کا تصور پیش کرتا ہے جس میں ایک قابل عمل اور جغرافیائی پڑوسی فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔ افسوسناک طور پر غزہ بحران پر کافی حد تک مغرب کی طرف سے ہونے والی بین الاقوامی بحث میں اس پہلو کو اور اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کے حق ذاتی دفاع کو تقریباً چھپا دیا گیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size